Mohajirs’ Wisdom and Punjab Establisment!

تحریر : سید جنید علی

پنجاب کا استعمار اور مہاجر شعور کا ٹکراؤ!

پنجاب استعمار دراصل الطاف حسین کو مائنس نہیں کرنا چاہتا بلکہ مہاجروں سے ان کے حقوق کا شعور چھیننا چاہتا ہے۔ 80 کی دہائی میں مہاجروں نے الطاف حسین کی قیادت میں سیاسی شعور کی بلوغت حاصل کرلی تھی۔ پھر وہ ایک جھنڈے اور ایک قائد کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ پنجاب استعمار نے مہاجروں کے خلاف شازشیں شروع کیں۔ انھوں نے مہاجروں سے دو نہایت کم تعداد میں موجود افراد کو اپنے ساتھ ملایا۔

پہلا اشرافیہ جو 500 کی دہائی سے مہاجروں کے نام پر ملک پر حکمرانی کا حصہ دار تھا اور دوسرا جرائم پیشہ افراد۔ پہلے نے اپنے آپ کو ہر اس جگہ پر بطور مہاجر پیش کیا جہاں پر مہاجر حقوق کے لیے آواز بلند کی گئی۔ انھوں نے ہر بار یہ کہہ کر حقوق کی جدوجہد کا راستہ مزید لمبا کردیا کہ ہم مہاجر ہیں اور کوٹہ سسٹم و دوسرے حقوق کی آوازیں بکواس ہیں کیوں کہ ہم موجودہ نظام کے باوجود کامیاب ہیں۔

دوسرا فریق جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ دینا۔ ان جرائم پیشہ افراد اور سفید پوش اداکاروں نے مہاجر عوام کی ہی تنگ کرنا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ مہاجر جدوجہد سے اچھے لوگوں کو لاتعلق کرنے کی طرف دھکیلا گیا اور جرائم پیشہ افراد کے ذریعے مہاجروں ہی کی آبادیوں مین انھیں تنگ کرنا شروع کیا گیا۔

بطور تنظیم مہاجر حقوق اور مسائل حل کرنے کے اختیار کو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ریاستی قانوں کا استعمال کرکے گھٹایا گیا۔ جیسے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کرنا اور 8 سالوں تک انتخابات کو روکے رکھنا۔ مجرمانہ ذہنییت رکھنے والے افراد کو بطور سیاسی کارکن سامنے لانا اور انھیں سخت گیر موقف رکھنے کی تلقین کرنا۔ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باوجود عوام کو یہ باور کروانے کے بجائے انھیں اپنے مسئلہ پر بات کرنے سے روکنا۔

جس کا نتیجہ وہی نکلا جو پنجاب استعمار نے چاہا تھا۔ یعنی عوام میں سیاسی شعور اور حق کے لیے سڑکوں پر آنے اور شور مچانے کی عادت جو الطاف حسین نے پیدا کروائی تھی وہ کہیں گم ہوکر رہ گئی۔ پنجاب استعمار نے مہاجر کو نام نہاد مہاجروں کے ذریعے ہی انتا تنگ کروا دیا کہ وہ سیاست سے لاتعلق ہوگئے۔

پھر ایک اور گیم کیا گیا۔ کراچی کو بے انتہا قتل و غارت گری اور گینگ لڑائی کا شکار کروایا گیا۔ اس دوران اتنے گھناونے جرم کروائے گئے کہ انسانیت شرما جائے۔ پھر ان مجرموں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ گینگ وار کے دوران شہر کو لاوارث ہونے کے تاثر کو مضبوط کروایا گیا۔ پنجاب کے رہنے والے اور پھر بھی سندہ کے ڈومیسائل پر بننے والے پولیس اور پنجاب سے منتقل ہوکر سندہ میں آنے والے اداروں کے اہل کاروں نے اس دوران یہ تاثر مضبوط کیا کہ اس شہر کے سیاسی وارث بانجھ ہیں اور پھر ایک دن اچانک فیصلہ ہوا اور سب بدل کر رکھ دیا گیا!

پنجاب کامیاب ہوا اور ہم میں شامل سیاسی اداکار جنھوں نے آج کل دو گروہ بنا رکھے ہیں ایک بے کمال اور دوسرا فاروق منافق ٹولہ کھل کر میدان میں آگئے۔ جنھوں نے پچھلے 15 سالوں تک تحریک کی کشتی میں سوراخ کیے وہی مہاجر سفر کے امین بن کر سامنے آگئے۔

ہم سے کہاں بھول ہوئی؟ ہم نے سیاسی شعور کو ختم کرنے کے عمل کے دوران درست وقت پر اقدامات نہیں کیے۔ الطاف حسین چیختے رہے کہ رابطہ کمیٹی کام کرے، عوام میں جائے عوام کے مسائل معلوم کرے انھیں حل کرنے کی کوشش کرے مگر ہر درستگی کے قدم کو رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی کے افراد نے ناکام کیا۔

آگے کیا دیکھائی دیتا ہے! آگے ابھی بھی بہت کچھ موجود ہے۔ ان سیاسی اداکاروں اور آستین کے سانپوں کے الگ ہوجانے سے ایک فائدہ تو براہ راست ہوا ہے کہ اس وقت ہم اندر سے لگنتے والے دیمکوں سے محفوظ ہیں ۔ سخت موسم کی مار جھیلنے کی عادت تو ہمیں ویسے ہی ہے اور الطاف کے کارکن اس وقت سخت موسم کی مار جھیل بھی رہے ہیں۔ 17 ستمبر، 9 دسمبر سخت موسم کی مار سے نکل جانے کے دن تھے اور اب آرہی ہے 21 جنوری ہم انشاء اللہ مہاجر سیاسی شعور کی زندہ رکھیں گے اور پنجاب استعمار کی ریشہ دوانیوں سے فتح یاب ہوکر نکلیں گے۔ ہم ہی ہیں پاکستان کے وارث اور ہم ہی بچائیں گے پاکستان۔ الطاف حسین کی چیخیں پاکستان کے خلاف نہین بلکہ ظلم، ناانصافی کے خلاف تھیں اور رہیں گی۔ الفاظ کے چناؤ کا فرق ہوسکتا ہے مگر الطاف مومن ہے ایک سوراخ اور ایک جیسے جملوں کی کاٹ سے بار بار ڈسہ نہیں جائے گا۔

اللہ مہاجروں کو موسم کی سخت مار سے محفوظ رکھے اور ہمیں الطاف حسین کی قیادت میں کامیابی کی منزل پر پہنچائے آمین یا اب العالمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s