Syed Mustafa Kamal: A Parasite (Part-III). Urdu Translation of Satire in Herald Dawn

Satire on Mustafa Kamal

Link of Original Satire in English

Altaf Hussain bullied me into being a political stalwart for decades and a mayor for five years. The amount of times I had to hug that sweaty, intoxicated man. The amount of times I had to sing his praises and make sure his telephone calls weren’t dropped. The amount of times I was forced to make fiery speeches and wave to the public smiling and laughing — I can tell you I was crying where it mattered, on the inside. It was all under duress. I was scared for myself, for my mayorship. So I didn’t say a word against him and consolidated my position in the party, as anyone fearing for their life would do.

Satire: Diary of Mustafa Kamal

 (Sat-ire)  ایسی تحریریں ہیں جو کسی شخص کی بے وقوفی یا حددرجہ جہالت کو سامنے لانے کے لیے بطور طنز لکھا جاتا ہے۔ ایسی تحریریں خصوصی طور پر سیاست یا پھر بہت اہمیت کے حامل معاملات پر لکھی جاتی ہیں۔

طنز: مصطفی کمال کی ڈائری

یہ کراچی کا ایک ہی اور سچا میئر ہے۔ میں  کراچی کا  پیدائیشی میئر تھا اور خدا کی قسم  مرتے دم تم کراچی کا مئیر میں ہی رہوں گا۔

قسمت ہماری زندگی میں عجیب و غریب تبدیلیاں لاتی ہے۔ اور یہ تبدیلیاں  میری فرینچ کٹ  اور سر کے بال کے عجیب و غریب انداز سے مڑ جانے سے بھی  ذیادہ عجیب و غریب ہوتی ہیں۔  میں ایک زمانے میں راء کا ایجنٹ تھا۔ مجھے  لندن میں ایک برے آدمی نے پیسے کے عوض خریدا اور  ٹریننگ کے لیےبمبئی  بھیجا۔ آج  بھی میں وہ خفیہ نشان اپنے ساتھ رکھتا ہوں جو تمام راء کے ایجنٹوں کی نشانی ہے، وہ ہے  فرانس والی داڑھی۔

الطاف حسین نے مجھے مجبور کرکے ایک دسیوں سال تک اپنا زبردست حمایتی  اور کارکن بنا رکھا تھا،  اور زبردستی پانچ سال تک کراچی کا مئیر تک بنا کر رکھا۔۔ مجھے اکثر مجبور کیا جاتا تھا کہ میں اُس پسینے سے بھرے ہوئے شخص سے جوش و خروش سے اس کے سینے سے چمٹ جاؤں اور اس سے پیار کروں۔ اکثر اوقات مجھے مجبور کیا جاتا تھا کہ میں ان کی تعریف میں قصیدے پڑھوں اور مجبور کیا جاتا تھا کہ ان  کے ٹیلی فون کالز منقطع نہ ہونے دوں۔ اکثر مجھے مجبور کیا جاتا تھا کہ میں اشتعال انگیز تقریریں کروں، جب لوگ مسکرائیں یا ہنسیں تو انھیں ہاتھ ہلا کر خوشی کا اظہار کروں۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں ان تمام اوقات میں ، میں اپنے اندر ہی چیخ چیخ کر روتا رہا ہوں۔ مجھے مجبور کیا گیا تھا ، مجھے مجبور کرکے یہ سب کروایا گیا۔ میں اپنے مئیر ہونے سے بھی بہت پریشان تھا  مگر مجبور تھا۔ اسی وجہ سے میں نے پارٹی میں رہتے ہوئے کبھی ایک لفظ انکے خلاف نہیں بولا بلکہ پارٹی میں اپنی طاقت کو مذید بڑھاتا گیا۔ یہ سب میں نے مجبوری میں کیا، مجھے مجبور کیا گیا کہ میں پارٹی میں اپنی طاقت کو اتنا بڑھا لوں! میں نے یہ سب ایسے ہی اپنی جان کے خوف سے کیا جیسا کہ کوئی دوسرا شخص ان حالات میں کرتا۔

اب چونکہ وہ مجھے کبھی بھی مئیر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں اس لیے میرا سارا خوف ختم ہوگیا ہے! اب میں کھُل کر بات کر سکتا ہوں۔

آج میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں- ان  لوگوں میں تمام جرنلسٹ، تمام میڈیا کے افراد، تمام تاجر، تمام بزنس کے مالکان، تمام ڈاکٹرز، تمام پارٹ ٹائم کال سینٹرز میں کام کرنے والے، سیکنڈہینڈ کار بیچنے والے،  شامل ہیں۔ کوئی بھی پیدائیشی  راء کا ایجنٹ نہیں ہوتا ہے۔ یہ الطاف حسین ہے جو  ، راء کا ایجنٹ بناتا ہے!

ہر ایک جانتا ہے کہ بھائی کے راء سے تعلقات ہیں ، میں خود ان کے کال راء سے ملاتا تھا تاکہ وہ بات کریں۔

اس آدمی نے سارے کراچی کو تباہ کردیا۔ اس نے تمام درخت کاٹ دیے، تمام سڑکیں توڑ دیں، سارا پینے کا پانی اپنے ساتھ لندن لے گیا۔ یہ شخص (1971) میں بنگلہ دیش کو  آذاد کروانے میں ملوث تھا،   یہ شخص مشہور زمانہ (9/11) کے امریکی حملے میں ملوث تھا، 2005 کا پاکستان کا بدترین زلزلہ اس لیے آیا کہ وہ لندن میں اپنے بستر پر سے گرگیا تھا! اس سے شراب خانےجیسی بدبو آتی ہے اور وہ دنیا کی سب سے ذیادہ شراب پینے والی قوم  (Ireland) ملکر جتنا شراب پیتی ہے  اس سے ذیادہ شراب ایک دن میں پی جاتا ہے۔ یہ شخص شراب کے نشے میں مجھے فون کال کرتا تھا اور یہاں تک کہ مجھے رات کے چار بجے مس کال کرکے تنگ کرتا تھا۔ یہ شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے ہر ٹارگیٹ کلنک کا ذمہ دار ہے بلکہ جتنی ٹارگیٹ کلنگ دنیا میں اس کے بعد بھی ہوگی سب کا ذمہ داریہ  ہے۔

مجھے صرف اس کے خلاف بولنے کے  پیسے نہیں  دیے جارہے ہیں، بلکہ مجھے جرائم پیشہ افراد کو اپنے ساتھ شامل کرکے انھیں جرم   کرتے رہنے کے باوجود  نیک اور شریف  بتانا ہے۔ میں یہ پیسے طاقت کے حصول، یا  دولت مند ہونے یا شہرت حاصل کرنے کے لیے نہیں لے رہا ہوں، حالانکہ یہ چیزیں بری نہیں ہیں۔  میں یہ چاہتا ہوں کہ میری پارٹی کے دوسرے لوگ بھی میری طرح ان چیزوں سے انکار کریں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ بہت ذیادہ وقت نہیں لگائیں گے میری بات پر عمل کرنے میں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی پارٹی کا نام رکھنا میرے لیے ایک بے پناہ تکلیف دہ کام تھا، تمام پارٹی ورکر زکو اس کام میں شامل کرنا تھا، پھر سب سے مشورے کرنے تھے، اور اس وقت میری پارٹی میں ممبران کی پوری تعداد چار (4) تھی۔ پہلے تو میں نے سوچا اسکا نام مصطفی قومی پارٹی (Mustafa Qaumi Party) ہونا چاہیے لیکن جب ہم نے اس کا مخفف (Acronyms) بنانے کی کوشش کی تو ہمیں پریشانی لاحق ہوئی۔

آخر میں   ان تین ، پاک سر زمین پارٹی، کشور حسین پارٹی، ملت کے پاسبانوں اے قوم کے جوانوں پارٹی، سے ایک  کو پارٹی کے نام کے طور پر تجویز کرنا ایک بے پناہ مشکل معاملہ تھا۔ ہمارے پاس ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ہم اس پارٹی  کا نام پریس کانفرنس پارٹی رکھ لیں۔

پارٹی کا جھنڈا تب چنا گیا جب میں انیس قائم خانی کے آفس میں ایک دن گیا، اور وہاں میں نے ایک چھوٹا سا نمونہ (Sample) دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا اس میں یہ چاند اور تارے کیا چیز ہیں؟ انھوں نے جواب دیا وہ بھی نہیں جانتے مگر ان کا کہنا تھا کیا یہ بہت اچھے نہیں لگ رہے ہیں؟ اس پر میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہ ہم اس کو پارٹی کا جھنڈا بنا لیں؟ اور ہم نے ایسا کر لیا۔

پارٹی کا منشور لکھا جارہا ہے، اور اس کو لکھنے والے نہایت ذہین اور عقلمند لوگ ہیں، میرے کہنے کا مطلب ہے میں اور انیس اس میں شامل نہیں ہیں!

جب میں نے یہ بات انیس ایڈوکیٹ کو بتائی کے میں نے ایک پارٹی بنائی ہے، اور ان سے کہا اس کال کے بعد اب میں انھیں کبھی بھی کوئی فون کال یا اسکائیپ  کال نہیں کروں گا۔ تو انھوں نے فورا” کہا ٹھیک ہے  اور وہ میری  پارٹی میں شامل ہوگئے۔ جب کمانڈو جرنل کے ریڑھ کی ہڈی کا درد (Back Pain)صحیح ہوجائے گا تو ہم انھیں بھی اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہیں گے۔  کچھ سالوں پہلے مجھے بھی یہی مسئلہ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مجھے لندن جانا پڑا۔

رضا ہاروں نے بھی میری پارٹی میں شمولیت اخیتار کرلی ہے۔ جب وہ آئے تو مجھے بڑی مایوسی ہوئی کے رضا ہارون دو لوگ نہیں تھے بلکہ یہ تو ایک ہی فرد کا نام تھا۔!

اس شمولیت کے بعد جب میں نے رضا ہارون کی موجودگی میں انیس قائم خانی کو یہ بتایا کہ ایک بہت بڑی شخصیت بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگی ہے  تو وہ بہت خوش ہوئے اور پوچھنے لگے کیا بھائی بھی ہماری پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں؟  رضا ہارون کے ساتھ  ان کی شمولیت کی خوشی میں مٹھائی کھاتے ہوئے میر ا گلہ یہ سن کر تقریبا بند ہی ہوگیا۔

کیا آ پ جانتے ہیں ؟ بھائی نے میری پہلی پریس کانفرنس کے بعد مجھے کال کیا  اور کہا کمال میں تم سے ناراض نہیں ہوں! بس تم نے میرا دل دکھایا ہے!

میں کسی  بھی حکم (dictation)نہیں مانتا، کوئی مجھے اپنی مرضی سے چلائے یہ ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ چاہیں  تو میرے پیچھے یہ لکھا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہی بہتر ہوگا۔  کسی اور کی لکھی ہوئی اسکرپٹ بھی نہیں پرھتا ہوں۔ میں جب یہ سب ڈرامائی انداز سے دہرا لیتا ہوں تو اس کے بعد کیمرے کے سامنے آنسو لا کر دوبارہ سے وہ تمام سال گن کر بتاتا ہوں کہ اتنے سالوں تک بھائی  کی برائیوں نے مجھے اپنے پاس قید کرکے رکھا۔ ختم شد

آپ کا تابیدار

مصطفی بے مثال بے کمال!

Advertisements

2 thoughts on “Syed Mustafa Kamal: A Parasite (Part-III). Urdu Translation of Satire in Herald Dawn

  1. بہت خوب! یہ ضروری ہے کہ اچھی تحریریں جو انگریزی میں ہیں انہیں اردو ترجمے کے ساتھ عام پڑھنے والوں کیلئے بھی پیش کیا جائے۔ آپ کی کاوش قابل تحسین ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s