Is launching of the Pakistan Sarzameen Party a miscalculated move? Urdu Translation (The News)

دی نیوز انٹرنیشنل میں لکھے گئے کالم کا اردو ترجمہ

Pic of Altaf-Hussain

 

کیا پاکستان سرزمین پارٹی کا افتتاح غلط اندازے پر کیا گیا ہے؟

Dated: March 27, 2016 (The News Sunday)

اس میں کوئی شک نہیں  کہ الطاف حسین اپنی پارٹٰی کو ایک ناخدا کے طور پر چلاتے رہے ہیں۔ لیکن کراچی کو جس طرح بلندی سے پستی اور پھر بے یقینی کی صورت حال سے گزارہ گیا ہے انکے پاس اس شہر میں اپنی پارٹی کو چلانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔ اس شہر کے حالات کو ایسا رکھا گیا ہے کہ طاقت اور دھمکی کے بغیر یہاں سیاست کی ہی نہیں جاسکتی۔

ایک ایسے شہر میں جہاں تحفظ کا احساس دینے والی پولیس کا نظام کمزور، بھتہ خوری سب سے بڑی پھلتی پھولتی صنعت، اور دہشت گردی نہ صرف اس شہر بلکہ سارے ملک کے لیے سب سے خطرہ۔ ان حالات کے باوجود متحدہ کو ایک بار پھر اپنی بقاء کی جدوجہد کی جانب دھکیل دیا گیا ہے اور اس کے خلاف کراچی میں ایک اور ریاستی آپریشن جاری ہے۔ اس سے پہلے شدت پسند قوتوں کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑا جاتا تھا لیکن اب پیپلز پارٹی کے ایک رہنما ڈاکٹر عاصم اور متحدہ کے کئی رہنماؤں کو دہشت گردی کے الزام میں نامزد کردیا گیا ہے۔

ان حالات میں اگر اس لڑائی نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا تو، پاک چائینہ اکنامک کوریڈور سے جو معاشی بہتری کا امکان پیدا ہوا ہے وہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ سندہ میں لوکل باڈیز کے الیکشن کے بعد یہ اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ لوکل باڈیز کا ادارہ اپنے منتخب نمائندوں کی نگرانی میں جلد سے جلد کام شروع کردے گا، لیکن اس کے بجائے شہر میں سب سے بڑی نمائندہ جماعت کے طور پر منتخب ہونے والوں کے خلاف رینجرز کا سمجھ سے بالاتر جارحانہ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

اس وقت ملک کو چلانے میں کراچی کی کہیں کوئی نمائندگی نظر نہیں آتی۔ اس شہر کے جمہوری اور قانونی نمائندگی رکھنے والی جماعت سے ہی کچھ افراد ایک علیحدہ گروہ کے طور پر سامنے آگئے ہیں۔ بہت سارے غیر جانبدار تجزیہ نگار اس گروہ کو نمائندہ جماعت کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی ایک اور سازش سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ جماعت اس بدترین سازش کے باوجود اپنی بقاء کی جدوجہد میں کامیاب رہے گی۔ سازش کرنے والوں کا خیال تھا کہ الطاف حسین چونکہ شدید علیل ہیں اس لیے شائد اب وہ بطور قائد موجود نہ رہیں گے اس لیے یہی بہترین وقت ہے جب پارٹی کی قیادت کو آسانی سے ہائی جیک کیا جاسکتا ہے۔ اگر الطاف حسین کی صحت کی خرابی سے اس جماعت کی قیادت پر قبضہ کی کوئی اُمید تھی تو وہ ناممکن ہوچکی ہے لیکن ان کے بقول اب بھی کچھ وجوہات ہیں جس پر انھیں اپنی کامیانی پر یقین ہے۔

الطاف حسین دو طرح کی پولیس تحقیقات سے گزر رہے ہیں، عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ۔ جہاں تک عمران فاروق قتل کیس کا تعلق ہے تو پولیس کا اس معاملے پر مذید تحقیق کا اس وقت تک کوئی ارادہ نہیں ہے، جب تک پاکستان ان دو افراد کو جو خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے عمران فاروق کو قتل کیا ہے لندن پولیس کے حوالے نہ کردے۔ لیکن اس کے باوجود ان دونوں افراد نے اب تک کوئی ایسی ٹھوس ثبوت والی بات نہیں کی ہے جس سے الطاف حسین کو عمران فاروق کے قتل کیس میں ملوث قرار دیا جاسکے۔

اس کے باوجود کے الطاف حسین کے مخالفین یہ شک کرتے ہیں کہ انھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا عمران فاروق کی بیوہ الطاف حسین کی پرجوش حامی ہیں۔

Mustafa Kamal pic

حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ لندن میں الطاف حسین پر عمران فاروق کے قتل کا کوئی چارج نہیں لگنے جارہا ہے، ہاں البتہ انکے گھر سے ایک بہت بڑی رقم نکلی تھی اس پر انھیں منی لانڈرنگ کیس میں کچھ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی قانون کے تحت یہ الطاف حسین کو ہی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں۔ برطانیہ کا یہ قانون دوسرے تمام قوانین سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ تمام قوانین کے مطابق جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ملزم بے قصور سمجھا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ یہ ایک کالا قانون سمجھا جاتا ہے۔ اگر الطاف حسین یہ ثابت کردیتے ہیں کہ انکے گھر سے برامد کی گئی رقم عطیات تھی تو پھر یہ ثابت کرنا پولیس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پیسے عطیات نہیں ہیں یا انھیں غیر قانونی ذرائع مثلا” بھتہ، ڈکیتی یا دہشت گردی سے جمع کیا گیا تھا۔

اب تک پاکستان کے مقتدر حلقوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کو جو معلومات فراہم کی ہیں اس کے مطابق یہ ثابت کرنا کہ یہ عطیات نہیں ہیں یا انھیں غیر قانونی ذرائع جیسے بھتہ، ڈکیتی یا دہشت گردی سے جمع کیا گیا ہے، ممکن نہیں ہے۔

موجودہ حالات میں جب لندن کی عدالت میں الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سنوائی ہوگی تو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے پاس صرف دو ہی آپشن بچتے ہیں کہ وہ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کے الزام سے دست بردار ہوجائے۔ اگر الزامات واپس لے لیے گئے تو پھر الطاف حسین پر کوئی کیس نہیں رہ جائے گا۔

اگر ان پر کیس چلایا گیا تو الطاف حسین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ یہ کہہ کر کیس لڑیں کہ وہ پیسے عطیات تھے نہ کہ غیر قانونی ذرائع سے جمع کی گئی رقم۔ ایسی صورت میں جیوری کیس میں نرم رویہ اختیار کرتی ہے، اور ذیادہ سے ذیادہ برآمد کی گئی رقم کو ضبط کرنے کا حکم دے گی اور الطاف حسین اس کیس سے بری ہوکر اپنے گھر چلے جائیں گے۔

لہذا غالب امکان یہ ہے کہ جب اس سال اپریل میں منی لانڈرنگ کیس کی سنوائی ہوگی تو الطاف حسین اس خطرناک صورت حال سے باہر نکل جائیں گے۔

ان تمام صورت صورت حال مدنظر رکھتے ہوئے دو وجوہات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی  اُڑان سے پہلے ہی زمین پر آگری ہے۔

پہلی یہ کہ الطاف حسین سوشل میڈیا پر مکمل صحت کے ساتھ خوشی میں ناچتے ہوئے نمودار ہوئے۔ جبکہ مصطفی کمال گروہ کا خیال یہ تھا کہ الطاف حسین اپنی علالت کے باعث دنیا میں نہیں رہیں گے اس لیے یہ بہترین وقت ہے کہ اس پارٹی کی قیادت کو ہائی جیک کر لیا جائے۔

دوسری یہ کہ انکا خیال تھا کہ الطاف حسین کو سزا ہوجائے گی۔ یہی سوچ کر انھوں نے اپنی پارٹی پی ایس پی کو لانچ کردیا۔

حالات یہ بتاتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی پوری نہیں ہونے جارہی ہے۔ وہ صحت مند بھی ہیں اور ان کو لندن میں مقدمات میں سزا ہونے کے بھی امکانات نہیں ہیں۔

الطاف حسین نے ندیم نصرت کو ایم کیو ایم سپریم کونسل کا ہیڈ نامزد کیا ہے جبکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ندیم نصرت کو پسند نہیں کرتی ہے۔

اس بات کے قطعہ نظر کے متحدہ کے سابقہ ممبران نے پارٹی لانچ کی ہے اسکا نتیجہ کیا ہوگا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ کراچی میں دوبارہ پرتشدد واقعات ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کا ایک طریقہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ اس شہر کو چلانے کی متحدہ کی سیاسی اور قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ یہ پارٹی ملک کے سب سے بڑے انڈسٹریل سٹی کی سب سے بڑی منتخب سیاسی جماعت بھی ہے۔

پاکستان کے مفادات کو بہت ذیادہ خطرات لاحق ہیں، اگر ریاستی ادارے متحدہ کو ختم کرنے کا ارادہ کر ہی چکے ہیں تو اس شہر کا خوبصورت اور انسانیت سے محبت کرنے والا چہرہ جو پہلے ہی مسخ ہورہا ہے، اس کو مذید اور شدید نقصان پہنچے گا۔ اسکے نتیجے میں اس شہر کی معاشی سرگرمیوں سے میں ملک جتنا فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اس کو شدید نقصان پہنچے گا۔  راستہ کھلا ہے اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کون سا راستہ اختیار کریں۔

اگر آپ انگلش کالم پڑھنا چاہیں تو اس لنک نیچے درج ہے

Is launching of the Pakistan Sarzameen Party a miscalculated move?

Advertisements

One thought on “Is launching of the Pakistan Sarzameen Party a miscalculated move? Urdu Translation (The News)

  1. بہتر ہوتا کہ مذکورہ مضمون کا لنک، تاریخ اشاعت اور مضمون نگار کا نام وغیرہ بھی دے دیتے۔ بہرحال یہ ایک اہم مضمون ہے جس کا ترجمہ اردو پڑھنے والے قاریئن کیلئے ضروری تھا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s