Syed Mustafa Kamal: A Parasite (Part-II)

I am Still an Employee of Behria Town: Mustaf Kamal

what is agenda of mustafa kamal

کمال کی حقیقت! سر آئینہ تیرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

دوہزار پانچ (2005) کے بلدیاتی انتخابات کے بعد متحدہ قومی مومنٹ کی انٹریو کمیٹی نے کمال کو نظامت کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ بہت سے سینئیر کارکنان اس کو صرف اس حد تک جانتے تھے کہ وہ 90 پر ٹیلیفون آپریٹر تھا اور اسکا تعلق معاشی طور پر نہایت غریب گھرانے  سے تھا۔ آپریشن کے دوران یہ سب سے پہلے بھاگ گئے تھے پہلے تنزانیہ گئے پھر وہاں سے ملائیشیا میں قیام کرتے رہے تھے۔ اور جب پاکستان میں آپریشن بند ہوا تو وہ واپس چلے آئے۔ کچھ الطافیون نے کراچی والوں کے لیے انھیں مئیر نامزد کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ ان میں سے کئی الطافی ان کے نارتھ کراچی میں 1990 کارناموں سے واقف تھے۔ میں پردہ رکھ رہا ہوں ورنہ جس کا جی چاہے سینئر کارکنان سے پوچھ لے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ نظامات کے بعد انکے رویے سے اس بات پر بھی شک گرزنے لگا کہ کمال کو پیرا شوٹ سے کس کو شوٹ کرنے کو بھیجا گیا ہے؟ کمال کا پارٹی میں کمال صرف اس حد تک تھا کہ جب پارٹی پر برا وقت آیا تو یہ سب سے پہلے بھاگ لیے اور جب تک بھاگ نہ سکے اپنے آپ کو ٹیلفون آپریٹر بول کرریاستی اداروں سے بچتے رہے۔

دو ہزار دو (2002) صوبائئی و قومی اسمبلی کے انتخابات میں امیدواروں سے انٹریو لیکر ان کی نامزدگی کی سفارش کے لیے  ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔ جن سے میں وسیم آفتاب، رضا ہارون اور انیس وغیرہ بھی شامل تھے۔ آج اس کمیٹی کے تین لوگ مصطفی کمال کے ساتھ ہی ضمیر برگیڈ میں شامل ہیں۔ اسی طرح جب نظامت کے لیے 2005 میں انٹرویو ہوئے تو دوبارہ کمیٹی میں انکا انٹریو ہوا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے اس کمیٹی میں شامل ایک صاحب کمال کی نظامت سنبھالنے کے فورن بعد گریڈ 11 سے 18 میں ترقی پاگئے اور پھر گھوسٹ ملازم بن گئے، اور اب چائینہ کٹنگ کی شہرت رکھنے کے باوجود کمال کی گود میں جگہ جگہ ننھے کاکے بنے پھرتے ہیں۔ کبھی موققہ ملا تو بقیہ ممبران نے کیا کیا فائدے حاصل کیے اور ایک دو اور لوگ بھی آج کمال کے ساتھ ہی ٹنگے بیٹھے ہیں کا بھید بھی کھولا جائے گا۔

Waeem Aftab Ghost Employee and China-Cutting Master (Land-Grabber)

what is agenda of mustafa kamal1

انکے نظامات کے عہدے کو سنبھالنے کے بعد پارٹی کے ہر متعلقہ کارکن و عہدیدار نے اندھا دھن کام کیا نہ دن  دیکھا نہ رات دیکھی۔ مگر جو اس کو مستقبل میں اپنے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اس کو دور میں بہتر کارکردگی کو ٹیم ورک کہنے کے بجائے کمال کی قیادت کا کمال بتاکر شہر بھر میں عوام میں اس کو پروجیکٹ کرواتے رہے۔

راقم آپ کو 2005 میں لے جانا چاہے گا۔ کراچی میں پہلا قتل جو لینڈ مافیا کے بڑھتے ہوئے کردار کو سامنے لایا وہ گٹر باغیچہ میں چائینہ کٹنگ کے خلاف لیاری کے سماجی رہنماء نثار بلوچ کا تھا۔ اس کو قتل کسی نے بھی کیا لیکن اس کا قتل، ناحق متحدہ کی گردن پر آپڑا۔ لیاری کے ایک سماجی رہنماء کی موت کا فائدہ اگر کسی کو سب سے ذیادہ پہنچا تو وہ زرد-آری گروہ ہے۔ اس کے بعد سارے کراچی میں ایک بڑے منصوبے کے تحت جگہ جگہ زمینوں پر قبضے کی شروعات کردی گئی۔ کچھ سینئیر کارکنان پیرا شوٹ سے کودنے والے گروہ کی بھی چائینہ کٹنگ میں شمولیت پر پریشان تھے۔ اس گروہ نے مستقبل کی کسی منصوبہ بندی کے تحت ناجائز اور غیر قانونی عمل کو اس طرح سے انجام دیا کہ مال بنایا ضمیر برگیڈ نے مگر متحدہ نے اپنی نیک نامی کو کھو کر یہ قرضہ چکایا۔

زمنیوں پر قبضے کی بہتی گنگا میں ایک بہت بڑے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بھی کود پڑے اور انھوں نے بھی اس میں ہاتھ دھونے کے بجائے نہانے کا ہی فیصلہ کرلیا۔ جیسے دشمن کا دشمن آُپ کا دوست ہوتا ہے اسی طرح زمینوں پر قبضہ کرنے والے ضمیر برگیڈ بھی رئیل اسٹیٹ کا بہترین دوست ہوسکتا تھا اور ہوا بھی یہی۔ پھر یہ ضمیر برگیڈ اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون واقعی مہ کشی میں ہم پیالہ و ہم نوالہ ہوگئے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کڑاہی میں زرد-آری کا پھٹکار مرزا، شاہی سید کے ڈرگ اور اسلحہ کے کاروبار کرنے والے مجرموں، سندہ کی قوم پرست تنظیموں کے مجروموں وغیرہ، وغیرہ وغیرہ کو ملا کر خوب پکایا گیا۔ جب شہر میں بدامنی کا اُبال پڑنے لگا تو پھر بھالو بھائی، رحمان ڈکیت، عزیر لاڈلہ اور پپو ارشد جیسے کچھ مزید مجرموں کا تڑکہ ڈال دیا گیا۔ پھر دھیمی آنچ پر 5 سالوں کے لیے چھوڑ دیا گیا تاکہ سارے شہر میں طالبان کی بدبو پھیل جائے۔ جب یہ کھانا پک کر تیار ہوگیا تو زمینی فرشتے بھی جوق در جوق لنگر کھانے آنے لگے۔ اس دوران فرشتوں نے بدامنی کو جاری رکھنے پر جتنا کمایا اس کا اندازہ پنجاب اور کے پی کے کو منتقل ہونے والے غیر قانونی سرمائے سے لگایا جاسکتا ہے۔ فرشتے اگر بنکوں سے پیسہ نہیں بھیج سکے تو ہر شام کو سہولت گھروں سے سرکاری سہولت کاری کی مدد سے پیسہ بھیجا جانے لگا۔ کراچی جلتا رہا۔ آج امن کی فاختہ اُڑانے والے شاہین ان دنوں میں فاختہ کو بھون کر کھاتے رہے اور غیر قانونی کاروبار سے اپنا حصہ وصول کرکے کڑہی میں مذید اُبال ڈالتے رہے۔arachi violence, over 100 dead

what is agenda of mustafa kamal3

جب جناب الطاف حسین نے کراچی میں جاری لوٹ مار میں اپنے ہی پارٹی کے کچھ افراد کو ملوث دیکھا تو انھوں نے شدت کے ساتھ اس کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے چائینہ کٹنگ نامی ازدھے کے خلاف پوری طاقت سے بولنا اور اس میں ملوث عناصر  کی پوزیشن اور پارٹی میں انکے عہدے کو خاطر میں لائے بغیر ایسے عناصر کو پارٹی سے نکال باہر کرنا شروع کیا۔ بار بار انتباہ کے باوجود جب یہ لوگ باز نہ آئے تو 19 مئی 2013 میں 90 پر وہ واقعہ ہوا جسکا کی کہانیاں سنا کر یہ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ وہ واقعہ تھا ان لوگوں سے ساتھ کارکنوں کا سخت رویہ جس میں ان لوگوں کو تھوڑی بہت کھینچا تانی سے گزرنا پڑا۔ ان کے سنگین جرم اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کیے گئے اقدامات جس کے نتیجے میں پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کے مقابلے میں یہ کھینچا  تانی کسی طور پر قابل ذکر واقعہ نہیں۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ کسی اہمیت کا حامل ہوتا تو فاروق ستار اور واسع جلیل و دیگر ذمہ داران جیسے قائد تحریک کے کارکن کبھی بھی پارٹٰی میں واپس نہ آتے۔ لیکن انھیں اندازہ تھا کہ پارٹٰی کی نیک نامی اور اس پہنچنے والے نقصان کے مقابلے میں  کارکنان کے غصہ کو کسی قیمت پر پارٹی کو مذید نقصان پہنچانے کا بہانہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ ورنہ ضمیر برگیڈ کے مقابلے میں انکا حق ذیادہ بنتا ہے کہ اس واقعہ پر کہانیاں گڑھتے لیکن ان جیسے بہت سے ذمہ داران کو اس بات کا احساس ہے کہ اس تحریک میں شہدا، اسیران و گرفتار اور بے گھر کارکنان اور انکے خاندان کی زندگی میں جو سختی ہے اس لیے اگر پارٹی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف انکا کوئی رد عمل ہوا ہے تو فطری ہے اور انھیں اسکا حق بھی دیا جانا چاہیے۔

اس ٹولہ کو جب تحریک میں مذید ذاتی مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقعہ دور دور تک دکھائی دینا بند ہوگیا تو انہوں نے 19 مئی اور دوسرے جھوٹے الزامات کے ڈرامہ کو فلم کی شکل دیکر پارٹی سے علیحدہ ہوانے میں اپنی عافیت جانی۔ مگر بچھو کی فطرت ڈنک مارنا اور کینہ پرور کی فطرت ہے بدلہ لینا اس لیے یہ اپنے کینہ کو سینے میں لیکر اگست 2013 میں مُلک چھوڑ کر دبئی چلے گئے۔ مالی مفادات کے حصول کے راستے میں روکاٹ ڈالنے کے عمل نے کمال کو جھلنجھلا کر رکھ دیا۔ یہ بہت ذیادہ فشار خون والا جوشیلا نوجوان اس کے بعد ہی ہوش کھو بیٹھا۔  اس نگینہ نے کینہ رکھ لیا۔ اور کینہ وہ دفینہ ہے جتنے دن سینے میں چھپا رہے وہ اپنے باپ کے خلاف بھی بھونکنے کا خمار پیدا کردیتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو اس گروہ کی پریس کانفرنس دلائل کے بجائے نفرت میں ڈوبی ہوئی اور دُم دبتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔

Altaf orders action against land grabbers in MQM

what is agenda of mustafa kamal4

کمال نے دبئی جاکر بحریہ ٹاون کمپنی سے نکاح کرلیا اور دبئی میں دبک کر بیٹھ گئے۔ بحریہ ٹاون نے حق مہر کی ادائیگی کے لیے انکی اوقات سے ذیادہ ماہانہ دینا شروع کردیا گیا۔ جو تنخواہ انھیں دینی شروع کردی گئی تھی وہ ایک معمولی یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے والے کے لیے ناقابل یقین تھا۔ دال میں کچھ کالا یا ساری دال کالی کا شک یقین میں بدل گیا کہ کمال نے ضرور زمانہ نظامت میں کوئی بڑا کام کیا ہوگا جس کے باعث انھیں بدلے میں اتنا نوازا جارہا ہے۔ کمال کڑوڑوں کی گاڑی زمین پر چلانے اور خود آسمان پر اُڑنے لگے۔ عشرت کے عادی تو تھے ملک صاحب کی صحبت بھی میسر آگئی۔ خود دبئی میں بیٹھ گئے اور بھرم کراچی میں چلتا رہا۔ دبئی میں بیٹھ کر بحریہ ٹاون کے زمنیوں پر آسمان تعمیر کرنے کے عمل کی نگرانی کرنے لگے۔

Brick laying ceremony: Mustafa Kamal monitoring Bahria Town projects, says Malik

what is agenda of mustafa kamal5

قانون نافذ کرنے والے ادارے نے سندہ اپیکس کمیٹی میں 14 مئی 2015 کو کراچی میں زمینوں کے قبضے میں ملوث بحریہ ٹاون کے متعلق ایک پریزینٹیشن دی۔ وہاں یہ بتایا گیا کہ کہ بحریہ ٹاون 44000 ایکڑ زمینوں کی غیرقانونی قبضے میں ملوث ہے۔ اس خبر کو سندہ حکومت نے دبا دیا پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اس خبر کو 2 جولائی 2015 کو اخباروں کی زینت بنوایا۔ بحریہ ٹاون کی جانب سے اس بات کر تردید کی گئی اور بتایاگیا کہ بحریہ ٹاون کی 7631 ایکڑ زمین قانونی ہے۔ اب بحریہ ٹاون سے کون پوچھے کہ اگر آپ کے پاس زمین 7631 ایکڑ ہی ہے تو آپ نے 44000 ہزار ایکڑ کی فائیلیں کیسے بیچ دی ہیں!۔۔

Sindh govt allotted 44,000 acres of land to Bahria Town: Rangers

what is agenda of mustafa kamal6

جن لوگوں نے یہ خبر لگوائی تھی وہ میڈیا ٹرائیل کے ماہر ہیں انھوں نے اس خبر کے بعد پاکستانی میڈیا کے ذریعے ملک ریاض کے خلاف مہم شروع کروادی لیکن پھر یہ مہم اچانک بند ہوگئی اور ملک ریاض منظر سے غائب ہوگئے۔ یعنی ملک صاحب سے کوئی ڈیل ہوگئی۔ وہ ڈیل تھی کمال کو متحدہ کے خلاف انھیں دے دیا جائے۔ کمال تو پہلے سے تیار بیٹھے تھے ان کو ایک تیر سے دو شکار مل گیا بحریہ ٹاون سے نکاح بحال رہا اور متحدہ سے بدلہ لینے یا اس پر قبضہ کرنے کا خواب پورا ہوتا نظر آنے لگا۔ اس کے ڈیل کے صرف دو مہینوں بعد اگست 2015 میں ضمیر برگیڈ نے دبئی سے پاکستان کا سفر کیا۔ کمال اور انیس نے اسلامہ آباد میں کئی دنوں تک قیام کیا۔ لیکن حالات اور عوام کی جانب سے شدید رد عمل کے خوف سے ملک ریاض کا ملازم دوبارہ دبئی چاند کی سیر پر چلا گیا۔ ملک صاحب نے قبضہ کی ہوئی زمنیوں کو بچانے کے لیے جو  قیمت دی وہ آج ضمیر برگیڈ کی شکل میں سب کو دکھائی دے رہی ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ کمال پر حق ملکیت اب بھی ملک صاحب کا ہی ہے۔ وہ آج بھی بحریہ ٹاون کے نکاح میں ہی ہیں۔ وہیں سے نان و نفقہ لیتے ہیں۔ کیا ہوا جو فی الحال انکا قیام کسی اور گھر میں ہے۔ جب پارٹی ختم ہوگی تو یہ بغیر حلالہ کے حلال ہوکر ملک صاحب کے حرم چلے جائیں گے۔ مزاجی خدا کی مجبوری ہو تو گھوڑا حلال ہوہی جاتا ہے!۔۔

جب ہی تو ضمیر برگیڈ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ

میں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مِرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s