Syed Mustafa Kamal: A parasite

کمال کی سچائی! جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو

میں سائینس کا طالب علم ہوں اس لیے ثبوت اور تحقیق کی بنیاد پر سوچتا ہوں پھر رائے بناتا ہوں اور کبھی کبھی اپنی رائے کو دینا ضروری بھی سمجھتا ہوں۔ میں نے تین گھنٹے چلنے والی وہ پوری فلم دیکھی جس کو لکھا کسی نے بھی ہو لیکن اس پر اداکاری ایک ناخلف اولاد نے کی۔ پریس کانفرنس ہونے سے پہلے سارے کارکنان ایک دوسرے سے پوچھتے رہے یہ کیا کمال کرے گا؟ پھر خود ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے کہ یہ وہ شخص ہے جس کو الطاف حسین نے اپنا بیٹا تک کہا۔ یہ کتنا بھی گر جائے الطاف حسین کی دی ہوئی بلندی کو فراموش نہ کرپاے گا۔ اس کے بچے الطاف حسین کی محبت کے سائبان کے نیچے کئی مہینوں بلکہ سالوں فخر و سکون کی نیند سوتے رہے ہیں۔ جب اس کی کوئی شناخت نہیں تھی تو الطاف حسین نے اس کو شناخت دی۔ جب یہ کمزور تھا تو الطاف حسین نے اس کو اپنے دست شفقت کا سایا فراہم کیا۔ سب کو یقین تھا اگر حالات نے اس کو مجبور بھی کیا تب بھی یہ اپنے لہجے کی اُتار چڑھاو اور بناؤ سنگھار سے بتا دے گا کہ میں کم نسل نہیں ہوں۔ سب کو آخری وقت تک شائد یہ یقین تھا کے بے یقینی نہیں ہوگی۔ وہ کچھ بھی کرے گا اپنے روحانی باپ کی ذات پر کوئی جھوٹی بات نہیں کرے گا! سب ایک دوسرے سے سوالات کرکے خود ہی اپنے آپ کو مطمئین بھی کررہے تھے! لیکن ہوا آخر وہی متحدہ کے کارکنان جو اپنے قائد تحریک کو باپ کا درجہ دیتے ہیں کانفرنس کے بعد چیخ پڑے۔ اصل سے خطا نہیں کم نسل سے وفا نہیں!

راقم اگر عورت ہوتا تو شائد اسکا شوہر شک کرنے کی بنیاد پر یا تو اسے گھر سے  نکال دیتا یا پھر گھر سے باہر ہی نکل جاتا۔ مجھے شروع سے ہی اس شخص میں مکر و فریب دکھائی دیتا رہا تھا۔ میں ہمیشہ اس رائے پر جما رہا کہ غریبوں کو بسانے کی جو اسکیم کے نام پر ڈرامہ جاری ہے وہ اصل میں کمال کی چائنہ کٹنگ ہے۔ میری رائے میں وہ کراچی میں چائنہ کٹنگ کا جد امجد ہے جس نے قائد تحریک سے جھوٹ بولا۔  مجھے صرف ایک بار اس شخص سے رات کے تین بجے الطاف نگر کی اسکیم میں ملنے کا اتفاق ہوا بقیہ لوگ تو شائد اس کے سحر میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن میں میں اس کے غرور سے گھبرا گیا۔ وہ وہاں کے سب سے بڑے ذمہ دار سے جس روئیے سے بات کر رہا تھا مجھے اس پر بڑا افسوس ہوا۔ خیر دنیا اس کی بلندی کو دیکھنے میں اتنا مگن تھی کہ کسی نے اس کے لہجے کی کاٹ سے اسکی پستی کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ پارٹی ڈسپلن کو بائی پاس کرکے اپنے طور پر کام کرنے والا شخص میرے ذہن میں چُبھ گیا۔ اور ہوا بھی یہی غریبوں کے لیے چلائی گئی اس اسکیم کو کہیں بھی کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ بدنامی ضرور گلے پڑ گئی۔

جب قائد تحریک الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کے الزمات لگنا شروع ہوئے تو اس وقت سب منی لانڈرنگ کے خلاف جُڑ کر لڑنے کی تیاری کررہے تھے میں نے یہ اپنی ذات کو مطمئین کرنے کی خاطر تحقیق کرنی شروع کردی۔ میرا مقصد صرف یہ جاننے کی کوشس تھا کہ ایک چھوٹی سے بات اتنی کیوں بڑھ گئی۔ مجھے اپنی تحقیق کے دوران ایسا لگا کہ اس نے جان بوجھ کر بطور مینیجمٹ ٹرسٹی کوئی ایسا کمزور پہلو چھوڑا ہوگا جس سے بہت ساری چیزیں گڈ مڈ ہوگئی ہوں گی۔ میں نے اپنے طور پر یہ رائے بہت پہلے بنا لی تھی کہ یہ شخص متحدہ قومی مومنٹ میں کینسر کے طور پر اُگ رہا تھا اور اپنے بُرے اثرات چھوڑ رہا تھا۔ شائد میری یہ بات بہت سے لوگوں کو دماغ کا خلل ہی لگے لیکن کسی کو لگے تو لگے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔

آج متحدہ ہی سے منسلک ٹیچرز باڈی کے ایک رہنما سے بات ہوئی انھوں نے اس شخص کے بارے میں اسی رائے کا اظہار کیا اور بتایا کہ یہ نجی محٖفلوں میں الطاف حسین کے خلاف زہر اُگلتا تھا۔ لیکن یہ بات شائد بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔ بطور منسلک باڈی ہم نے جب بھی اس سے ملکر ٹیچرز کے کچھ مسائل حل کروانے کے لیے وقت مانگا یا تو اس نے وقت دیا نہیں اور اگر دیا تو جان بوجھ کر خود ہمارے آنے سے پہلے اُٹھ کر چلا گیا اور ہمیں ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کرگیا۔ یعنی کبھی بھی اس نے تعلیم اور ٹیچرز کے لیے ہم سے ملنے کو گوارہ نہ کیا۔

میں جان بوجھ کر سابقہ ٹاون ناظم اور ٹاون دونوں کا نام نہیں لکھ رہا لیکن سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں ٹاون ناظم اور اس بے کمال شخص کے ساتھ بحث ہوئی جس میں انھوں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے ڈکٹیٹر جیسے رویئے اور پارٹی ڈسپلن کے خلاف احکامات دینے پر استعفاء دیتا ہوں۔ انھوں نے وہاں سے نکلتے ہوئے یہ کہا تم اس پارٹی میں غدار ہو آج نہیں تو کل سب کو پتہ چل جائے گا۔ شائد وہ کل آج آگیا ہے اور سب نے ان سئینر ذمہ دار اور الطافی کی بات کو پورا ہوتے دیکھ لیا۔

اس شخص نے اپنے اختیار کے زمانے میں متحدہ قومی مومنٹ کا وہ چہرہ پیش کیا جو کبھی بھی متحدہ کا اصل چہرہ تھا ہی نہیں۔ یعنی میڈیا پر بیٹھ کر جارحانہ رویہ اپنانا اور ایسے ظاہر کرنا جیسے ساری متحدہ اور اس کے چاہنے والے وہی سننا چاہتے ہیں جو انھیں پسند ہو اور اگر انکی مرضی کے خلاف بات ہوئی تو انھیں اشتعال آجائے گا۔ وہ جواب دینے کے دوران وضع داری چھوڑ دیں گے! میڈیا میں بار بار اسکی جانب سے جارحانہ رویے نے متحدہ کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا۔

جب یہ پریس کانفرنس کر رہا تھا تو اس نے پی ٹی آئی کو مظلوم اور متحدہ کے قائد کو ولن بنا کر پیش کیا۔ تو مجھے 2013 کے الیکش کے بعد بہت سے لوگوں میں چلنے والی چہ مگوئیاں دوبارہ یاد آگئیں جس کو شک تھا کہ شائد پی ٹی آئی کو جو 6 لاکھ ووٹ ملے تھے اور جن پارساؤں نے پی ٹی آئی سے ہر ووٹ کے 500 روپے فی ووٹ لیکر ہر بوتھ میں باقاعدہ ووٹ ڈلوائے۔ شائد اس پوری اسکیم کا روح رواں یہ بے کمال شخص ہی تھا۔

مجھے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا وہ قول یاد آرہا ہے کہ

جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو! اور چونکہ متحدہ کے قائد نے اس پر احسان کیا تھا پس یہ ثابت ہوا کیوں کہ متحدہ اور اس کے قائد پر اس شخص نے واقعی شر انگیز حملہ کیا ہے۔

ویسے یہ شعر بھی اس بے نامی اسکیم کے لیے بروقت اور درست لگتا ہے

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا جو ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکاء

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی اور طیش میں خوف خدا نہ رہا

میں اس بے کمال شخص کے لیے مذید لکھنے کو وقت کا ذیاں سمجھتا ہوں کیوں کہ اس شخص نے طیش میں آکر اپنے باپ کے لیے جو لب و لہجہ اختیار کیا اور جو جملے چُنے اس پر تو میں اسے کتا بھی نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کتا وفادار ہوتا ہے۔ اب میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ متحدہ کا ہر کارکن یہ سوچتا ہوگا کہ اے کاش کے میرے باپ نے تجھے اپنا بیٹا نہ کہا ہوتا!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s