Rebuttal of Shaheen Sehbai analysis on November 23, 2015 in The News and Jang

شاہین صہبائی کے چہرے سے نقاب اُٹھتا ہے

بطور بلاگر میں شاہین صہبائی کو جب بھی ٹی وی پر اپنے موقف کو ڈٹ کر یا دوسروں کو ڈانٹ کر ثابت کرتے دیکھتا تھا تو دل میں ہمیشہ یہ خواہش اُبھرتی  تھی کہ کاش میں بھی ایسا ہی معتبر ہوتا کہ جب لکھوں تو سب مانیں جب بولوں تو میری آواز کی گھن گرج سے دوسروں کے اوسان خطا ہوجائیں۔ اکثر ٹاک شوز کے دوران شاہین صہبائی کو میں نے دیکھا ہے کہ جب انکے پاس دلیل نہ بھی ہو تو بھی دوسروں کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے مجھے لگتا رہا تھا کہ شائد انکی شخصیت کا وہم ہی اتنا ہے کہ دوسرے جانتے ہیں کہ اگر وہ دلیل کے بغیر بھی اپنی بات ڈانٹ کر منوارہے ہیں تو مان لینا چاہیے کیوں کہ اگر وہ دلیل دینے لگیں گے تو دلیل سے اور ذلیل کریں گے۔ میرے خیال میں میرے قبیل کے نوواردان کو وہ بہت متاثر کرتے ہیں۔ میں انھیں گرو مانتا رہا ہوں۔   23 نومبر 2015 کو جنگ اخبار کے پہلے صفحے پر انکا تجزیہ ” کیا کراچی کُھلی  جنگ اور ایک الیکشن کا متحمل ہوسکتا ہے؟” کوپڑھنے کا اتفاق ہوا۔

shaheen sehbai column

کراچی میں 10 سال کے طویل انتظار کے بعد ہونے والے الیکشن کے خلاف لکھے جانے والے اس قدربولڈ یعنی وہی دلیل اور واقعات کے بغیر ڈانٹ کر سمجھا دینے والے انداز لکھے ہوئے اس تجزیے سے پہلے تو میں بڑا متاثر ہوا ، واہ کیا بات ہے شاہین صہبائی کی ، انھوں کتنے بے باک طریقے سے “جمہوریت اور اسکی نرسری کےالیکشن کو ضروری سمجھنے کے بجائے امن” کو ترجیح دی اور رینجرز جس کا موقف بھی دلیل کے بجائے بندوق کی نال سے اپنی بات منوانے پر مبنی ہے اس کی ہمایت کی ہے ۔ اس لیے جناب  رینجرز کے موقعہ ملنا ہی چاہیے کہ وہ پہلے کراچی میں امن لائے اور جب تک امن نہیں آجاتا الیکشن تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ رینجرز ایک ریاستی ادارہ ہے اس پر سوال اُٹھانا تو کفر ہے اس کو بس کھلی چھوٹ ہونی چاہیے جہاں چاہے جائے، جس کھیت میں چاہے گھس جائے، جس آشیانے کو چاہیے روند ڈالے، چاہے وہ کوئی سیکٹر آفس یا یونٹ آفس یہاں تک کے متحدہ قومی مومنٹ کی سیاسی تقدس کا گھر 90،  جس پر جو الزام چاہے لگائے اور جس کو چاہے گرفتار کرے دل چاہے تو عدالت میں لاکر 90 دن کے لیے لے جائے اور اگر خود مطمئین ہو تو کچھ کی لاشیں پھینک دے کچھ کو تشدد کرکے چھوڑ دے۔ کراچی کی اکثریتی سیاسی جماعت جو 85 فیصد کا مینڈیٹ رکھتی ہے اس کے مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کرے ان پر تشدد رکرے۔ رینجرز کو سب اختیار ہونا چاہیے ۔ یہ شک و شبہہ کیسا۔

دل شاہین صہبائی کی طرح رینجرز کی ہمایت میں رینجزر کے ساتھ کھڑے ہونے پر تیار ہی نہ تھا! بڑا سمجھایا مان جا مان جا! شاہیں صہبائی ہوجا، اپنے آپ کو ڈانٹ دے دلیل نہ تلاش کر بس اپنے ضمیر پر شاہین کا بے ضمیر دل حاوی کرلے بڑی اونچی اُڑان ہوگی! مگر جناب تہذیب یافتہ ہوں، ہزاروں سال دلی و اسکے طول و عرض میں آباء اجداد بادشاہی کرتے رہے ہیں۔ ثقافت اور تہذیب کے لحاظ سے ہمارے آباؤاجداد نے کبھی اپنی ہندو رعایا پر بھی ظلم نہ کیا تو پھر یہ مہاجر دل رینجرز کے ساتھ کھڑے ہونے سے لڑکھڑانے لگا۔ گذشتہ 68 سالوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں مٹی کا اثر تو آئے گا دماغ کہنے لگا دل کی نہ سن اس زمین پر ظلم کا ساتھ دینے والوں کو تمغے ملتے ہیں تجھے بھی ملیں گے۔ دماغ نے دلیل تلاش کرکے شاہین صہبائی کے قبیل میں کھڑے ہونے کی ٹھانی۔ خوب کتابیں گردانی اور جہاں تک ممکن ہوا ریسرچ کیا ۔ شاہین صہبائی کے کارنامے پڑھتا گیا شرماتا گیا!۔

اپنے تجزئیے میں صہبائی صاحب نے جس طرح کی باتیں کی تھیں انھیں ایک ایک جملہ علیحدہ کرکے پڑھنے اور اس پر تحقیق کرکے خود ہی دلیل تلاش کرنے اور اپنے آپ کو مطمئین کرنے کی کوششیں شروع کردیں ۔ آدھا دماغ  انکی ہمایت میں خود ہی دلیل دینے لگا جناب کیجیے تحقیق اور دلیل نکال کر ذلیل ہوجائیے لیکن آدھا دماغ شرارت پر آمادہ ہوگیا۔ تو پھر کیا تھا صہبائی صاحب کی ہمایت میں لگے دلیل تلاش کرنے تاکہ انکی جگہ ہم خود ہی  دلیل دے دیں اور دل کو منا لیں۔ کہ امن جمہوریت کی نرسری کو پروان چڑھانے سے ذیادہ اہم ہے! رینجرز اگر سو سال بھی مزید امن کے لیے مانگے تو اسے دئیے جانے چاہیں بس جب تک امن نہ ہو جمہوریت کی لونڈی کو رینجرز کی امنگوں کے مطابق ظلم سے ہم بستری کروادینا  چاہیے! جب یہ بچا جنے گی تو پھر جمہوریت  پروان چڑھے گی۔حالانکہ فی الحال پچھلے دو سالوں سے تو یہ نکاح بانجھ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ پھر لگا شاہین صہبائی بابا کا علاج جاری رہے گا تو گلوں میں خار اُگ ہی آئے گا۔

 پھر کیا تھا شروع ہوگئے اور جیسے جیسے دلیل نکالتے گئے خود ہی اپنے آپ کو ذلیل کرتے گئے۔ شاہین صہبائی کیا ڈانٹتے ہم خود ہی اپنے آپ کو کوسنے لگے کہ ارے جناب کس ملک دشمن ، ٹھگ کے چکر میں پڑا رہا اور بغیر دلیل اور عقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیراس بہروپیے کو عزت کے مرتبے پر فائز کرتا رہا۔ یہ کیوں بھول گیا کہ جہاں دلیل ختم وہاں سے آواز بلند ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پلٹ کر دیکھا تو پتہ چلا حضرت صہبائی کی تو بات شروع ہی بلند آواز سے ہوتی ہے یعنی جدھر دلیل ہے اُدھر سے انکا کبھی گذر ہی نہی ہوا، اور وہ کبھی غلیل والوں کے ساتھ اور کبھی  جمہوریت کے دشمنوں کے ساتھ چلتے دیکھائی دیتے ہیں۔ یعنی مزاج ایسا نازک کے پل میں تولہ اور پر پل میں ماشہ کبھی فوج کے ساتھ تو فورا” حکومت کے ساتھ ایک پل میں جمہوریت کے داعئی تو اُسی سانس میں آمریت کے لیے آرمی چیف کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف ملک کی ترقی کے لیے بولتے تو اسی سانس میں ملک کی سالمیت کے خلاف لکھتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔

تحقیق کو پہلے انہی کے کالم سے شروع کرتے ہیں اور انکا بول و براز ان ہی کے منہ پر مل دیتے ہیں۔ پھر لمحہ بہ لمحہ انکی پیاز جیسی شخصیت کے پرت اُتارتے جائیں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ حضرت کی اصلیت ہے کیا!

انکے تجزیے پر بات کرنے سے تقریبا” ایک ہفتے پہلے کراچی میں کون سے واقعات ہوئے یا اردگرد سند ہ میں کیا ہوتا رہا جاننا ضروری ہے۔ میں نے جان بوجھ کر صرف جنگ اخبار کو ہی واقعات بتانے کے لیے استعمال کیا ہے تاکہ شاہین صہبائی نے جس اخبار میں زہر افشانی کی تھی اسی اخبار سے خبریں نکالی جائیں تاکہ پڑھنے والا قاری اس بلاگ کو یک طرفہ اور میرا ذاتی عناد نہ سمجھے۔

17  نومبر 2015 کو متحدہ قومی مومنٹ نے  کراچی واٹر بورڈ میں  15 سال بعد ہونے والے ریفرنڈم میں فتح حاصل کرلی۔ حالانکہ پچھلے دو سالوں سے واٹر بورڈ میں مکمل طور پر پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے اور رینجرز نے اس ادارے میں کام کرنے والے کارکنوں کا ناطقہ بند کررکھا ہے ۔ رینجرز نے اس ادارے کے ہر علاقائی دفتر اور مرکزی دفتر میں اتنے چھاپے مارے ہیں کہ شائد انکے پاس بھی گنتی نہ ہو۔ انھوں نے اس ادارے میں کام کرنے والے ہمدردوں کو جس قدر خوف ذدہ کیا ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ مستقل چھاپے اور گرفتاری کرکے پیپلز پارٹی کو وہاں جگہ بنانے اور ریفرنڈم میں جتوانے کے لیے راہ ہموار کی گئی۔ لیکن یہ فتح حیرت انگیز تھی اور اس نے رینجرز کو بوکھلا دیا۔

mqm won water board election

واٹر بورڈ کے ریفرنڈم میں شاندار کامیابی کے بعد فتح کی خوشیاں مناتے ہوئے متحدہ کے مرکز ی رہنما جناب عامر خان نے ایک تقریر کی جس میں انھوں نے اس فتح کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اندرون سندہ اور کراچی کے انتخابات سے جوڑا اور یہ نوید سنائی کے یہ فتح تو جیت کی ابتداء ہے۔  اس کے بعد رینجرز نے کراچی میں ایک اور قیامت ڈھا دی۔ گرفتاریوں کا نا رکنے والا سلسلہ اوراسکی شدت اور بڑھا دیا۔

amir khan on water board refrendum

19 نومبر کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے دوران متحدہ قومی مومنٹ نے واقعی میدان مار لیا اور شہری سندہ کی اکثریتی جماعت بن کر اُبھری۔  اس عمل نے رینجرز کے چند افسران کو مذید پریشان کردیا۔

mqm won seats in Haiderabad

بیس نومبر 2015 کو رینجرز کے اہلکاروں پر اتحاد ٹاون میں مسجد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے حملہ کیا گیا جس میں رینجرز کے چار اہلکاروں کی شہادت ہوئی۔

attack on rangers in itehad town

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس جگہ پر طالبان کا مکمل قبضہ ہے اور یہاں تک ان ہی عدالتیں چلتی ہیں لیکن جب ڈی جی رینجرز حملے کی جگہ پر پہنچے تو انھوں نے ایک عجیب بیان دیا جس میں انھوں نے بجائے براہ راست طالبان یا کسی اور  کلعدم تنظیم پر بات کرنے کے کہا کہ انھیں شک ہے کہ اس میں ٹارگیٹ کلر ملوث ہیں۔ انکا یہ رویہ انتہائی حیران کن تھا۔

21 نومبر کو متحدہ قومی مومنٹ نے کراچی میں بھرپور الیکشن مہم کا آغاز کیا جس میں لانڈھی میں ایک کارنر میٹینگ کی جو کہ عوام کی کثیر تعداد میں شرکت کے باعث باقاعدہ جلسہ میں تبدیل ہوگئی تھی۔ اس جلسے میں متحدہ رہنماوں نے کُھل کر ان دہشت گردوں کے خلاف بات کی جو ریاستی ادارے میں موجود غیر ریاستی عناصر کی پناہ میں ہمدردوں اور کارکنوں کو خوف ذدہ کر رہے تھے اور پورے الیکشن کی مہم کو متاثر کررہے تھے۔ ۔ انھیں وارنگ دی  کہ اگر ہمارے 18 سال کے نوجوان اپنی کرنے پر آئے تو تم بھاگتے نظر آؤ گئے۔ یہ دہشت گرد  باقاعدہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں  متحدہ کے بینر اُتارنے، الطاف حسین کی تصویروں پر سیاہی پھیرنے اور کارکنوں کو ڈرانے دھمکانے میں مصروف رہے تھے۔ اس جلسے میں متحدہ قومی مومنٹ نے نئے صوبے کی تحریک کو بلدیاتی انتخابات کے بعد باقاعدہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس جلسے میں رہنماوں نے رینجرز کو ایک بار پھر مہاجر نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاری اور کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے اور خاص طور پر الیکشن کمپین میں مصروف افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاری روکنے کی التجاء بھی کی۔

mqm will start new province compaign

اس جلسے کے فورا” بعد رینجرز نے اپنے طرز عمل پر غور کرنے اور الیکشن کے ماحول کو خراب کرکے متحدہ کو الیکشن میں شرکت سے روکنے کی سازش روکنے کے بجائے ، ایک اور طرح کی مہم شروع کردی۔ رینجرز بجائے اس کے کہ اپنے ہی بہادر اہلکاروں کے قاتلوں کو تلا ش کرتی اور انھیں سزاء کے لیے عدالت میں لے جانے کی کوئی منظم کوشش کرتی ۔ اس ادارے کے افسران نے اپنے اہلکاروں کے قتل کو بہانہ بنا کر پورے کراچی میں گرفتاری اور لاپتہ کرنے کی مہم میں اچانک مذید اضافہ کردیا۔ اس عمل میں انھوں نے اپنے ساتھ پولیس کو بھی شریک کرلیا۔

rangers arrest mqm workers

جلسے کے بعد رینجرز افسران نے ادارے کی جانب سےایک اور بیان داغ دیا جس میں انھوں نے متحدہ قومی مومنٹ کی الیکشن مہم کو متاثر کرنے کے لیے کارنر میٹنگوں کو بھتہ جمع کرنے کے پروگرام قرار دے ڈالا اور اس بہانے مذید گرفتاریوں کے لیے اپنے مسلز کو تیار کرنا شروع کردیا۔

rangers claim bhatta is collected in Karachi

اس بیان کے بعد تو رینجرز نے قانون اور اخلاق دونوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور ہر یونٹ، الیکشن سیلز غرضیکہ کہ کارنر میٹنگوں میں چھاپے مارنا شروع کردیے اور لاتعداد کارکنوں ، ہمدردوں اور یہاں تک الیکشن میں کھڑے ہونے والے کینڈیٹ تک کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔

rangers arrest mqm workers1

یہ سارے واقعات 22 نومبر تک کی رات کے ہیں جس میں رینجرز نے اپنے اصل مقصد یعنی دہشت گردوں کی  سرکوبی کے بجائے  دوبارہ بھتہ جمع اور اہلکاروں کی دہشت گردوں کے بجائے ٹارگیٹ کلرز کے ہاتھوں شہادت کے قصے سنانا شروع کردیا۔جب رینجرز نے دیکھا کہ وہ پھر بھی عوام کو متحدہ کی کانر میٹنگ میں شرکت اور الیکشن میں اس کو ووٹ دینے سے روکنے میں ناکام ہوتے جارہے ہیں۔ جب ہر طرح سے ناکامی ہوئی تو کارنر میٹینگ کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا بہانہ بناکر متحدہ کو الیکشن میں شامل ہونے سے بعض رکھنے کی کوشش کی۔

rangers speaks on mqm jalsa

رینجرز نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح سے متحدہ الیکشن کا بائیکاٹ کردے۔ لیکن جب رینجرز  گرفتاریوں، لاپتہ کرنے کے عمل اور بے پناہ تشدد کے باوجود الیکشن سے بعض رکھنے میں ناکام ہوئے تب انھوں نے نے اپنے ایک مہر ے شاہین صہبائی کو میدان میں اُتار دیا۔  جنھوں نے جنگ اخبار اور دی نیوز میں اردو اور انگریزی دونوں میں اپنے زہر آلودہ قلم کے ہتھیار کو استعمال کرکے الیکشن ہی کو ملتوی کرنے کی ایک زبردست تحریر لکھ ڈالی۔ اردو میں لکھ کر عوام الناس کو تیار کرنے کی کوشش کی اور انگلش میں لکھ کر ساری دنیا میں جمہوریت کے حمایتی قوتوں کو امن کو جمہوریت پر ترجیح دینے کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

شاہین صہبائی ویسے ہی منہ زور گھوڑے ہیں اور اگر انھیں ایڑ ماردی جائے تو پھر وہ غلیل کے ساتھ کھڑے ہوکر منوانے کے ماہر ہیں۔ انھوں نے وہی کیا جو ان انکی فطرت میں شامل ہے یعنی جہاں فائدہ وہاں قاعدہ بگاڑ دو۔ انھوں نے بغیر دلیل اور واقعات کے ساتھ جُڑے گالم گلوج شروع کردی۔ الیکشن جیسے اہم ترین ملکی استحکام کے لیے ضروری عمل کو رینجرز کے بوٹ کے نیچے کچل دینے کے عمل میں رینجرز کے ساتھ کھڑے دکھائی دئیے۔ خوب گرجے اور گندے پانی کی طرح ایسے پھیلے کے انکے تجزئیے کے بعد کسی نے خوف سے یہ سوال بھی نہ کیا کہ جناب یہ کیا ستم ڈھا رہے ہیں امریکہ میں بیٹھ کر جمہوریت کا پرچار اور پاکستان کے میدان میں فتنہ و فساد کے درخت کی آبیاری۔ بجائے اس کے کہ رینجرز پر گرجتے ،  الیکشن کے دوران آپ نے یہ کیا غدر مچا رکھا ہے کراچی پر ہی بجلی بن کر گرپڑے۔

انھوں نے پیرس ، برسلز اور دوسرے جگہوں کی مثالیں دی ہیں کہ وہاں دہشت گردی کی کاروائیوں پر شہر بند کیے گئے ہیں، لیکن وہی مرض کے جو کراچی دشمنی سے ہی سکون پاتا ہے انکے دماغ میں کلبلاتا رہتا ہے۔ انھیں تو یقین ہے کہ کوئی ان سے یہ سوال تو کرے گاہی نہیں کہ ، ارئے موئے تو یہ تو بتا کہ کس جگہ سویلین عملداری اور سیاسی عمل کو متاثر کیا گیا۔ پیرس میں تو تین چار دن ایمرجنسی رہی، فوج آئی، اپنا کام مکمل کیا اور پھر واپس چلی گئی۔ یہ درد مند ہونے کا کیسا تاثر دے رہے ہیں آپ کے مردود جمہوریت کو بنا رہے ہیں اور جنھیں درد کا علاج کرنے لایا گیا ہے ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اب سیاست کی بساط کراچی سے لپیٹ دیجیے۔چونکہ  رینجرز ستمبر 2013 سے جاری آپریشن میں ابھی تک اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی ہے اس لیے رینجرز سے سوال نہ کئجیے سارے کراچی کو اس کے سامنے ڈھیر کرکے وہ جب تک چاہے اس میدان میں اپنے کھروں سے  کراچی کی عوام اور اس کی نرم کھال اُدھیڑنے کی اجازت دئجیے۔

لکھنے کو تو میں بہت کچھ لکھ سکتا ہوں ان کے اولاد غیر صالحہ ہونے سے لیکر متعصب اور آدھے مہاجر کی گردان کرکے عمران خان جیسی کراچی دشمنی کرنے والے فرد کے طور پر تو میں انکا کچا چھٹا کھول سکتا ہوں۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے رہنے والے تھے۔ بقول انکے وہ خود تو پٹھان ہیں مگر انکی اہلیہ مہاجر ہیں۔ خیر جناب آپ کہیں گے کہ انکی ذاتی زندگی میں کہاں گھس رہا ہوں میں ۔ تو کام کی بات سنیے۔ یہ حضرت جب تک کراچی میں رہے اپنے محلے میں عجیب سنکی مزاج مشہور تھے اور ہر ایک کی تذلیل کرکے فخر محسوس کرتے تھے۔ جب متحدہ قومی مومنٹ نے کراچی میں اپنی جگہ بنانی شروع کی تو نوجوانوں میں  اپنی عزت و  وقار کے لیے شعور پیدا ہونا شروع ہوگیا اور بس وہاں سے صہبائی اپنی  نسوارسے جڑے رہنے  کے بجائے خار  کھانے لگے۔ شخصیت ایسی کہ برابری کا کسی کو سمجھتے نہیں تھے اور جب دوسرے برابری پر آنے لگے تو خود نارتھ ناظم آباد سے منہ چھپا کر چلے گئے۔ اگر آپ کو اس بات کی صداقت پر شک ہے اور آپ انکی شخصیت کو انسان دوست سمجھتے ہیں تو زرا نیچے دئیے ہوئے لنک پر چلےجائیے اس میں جب انھیں 2001 میں ملازمت سے برخاست کیا گیا تو ان پر ایک اور الزام یہ بھی لگا تھا کہ مطلق العنان اور دوسروں کو اپنے برابر نہ سمجھنے کی وجہ سے سینئیر اور جونئیر دونوں ان سے نالاں ہیں۔

shaheen sehbai wiki pedia pic

شاہین صہبائی کی ملک دشمنی

شاہین صہبائی کی صحافت کی زندگی کے روش پہلو میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ڈینئل پرل کے قتل کے اسرار و رموز سے واقف تھے جب ڈینیل پرل یہاں کراچی میں اپنے پیشہ وارانہ امور میں مصروف تھے تو اس وقت بطور صحافی صرف شاہیں صہائی ہی اس بات سے واقف تھے۔ ان کے اغواء اور قتل کے بعد انھوں نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک تجزیہ میں ڈینیل پرل کے قتل میں آئی ایس آئی کو براہ راست ذمہ دار ٹہرایا۔

ممبئ حملہ کیس میں شاہین صہبائی نے دوسرے تجزیہ نگاروں کے ساتھ ملکر ایک تجزیہ لکھا جس میں ممبئی حملہ کیس کو بھی آئی ایس آئی کے کھاتے میں ڈالا گیا جس سے ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ بھارت نے ساری دنیا میں پاکستان کو بطور روگ اسٹیٹ بدنام کیا۔ جس کے بعد پاکستانی  ایجنسیوں کو انکی اصلیت کا پتہ چلا۔ جب تک انھیں یہ پتہ چلا کہ شاہیں صہبائی کون ہیں اور پاکستان کے لیے کس قدر خطرناک کھیل میں شریک ہیں وہ پاکستان سے نکل چکے تھے۔

امریکہ جاکر انھوں نے جانے کہاں سے اتنا پیسہ اکٹھا کیا کہ ایک ویب سائیٹ ساوتھ ایشین ٹرائبون کو چلانا شروع کیا۔ اور اس میں افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف انتہائی رکیک حملے شروع کیے۔  جیسے ہی انھیں گرین کارڈ ملا انھوں نے ساوتھ ایشیا ٹرائیبون کی بساط لپیٹی اور اپنے آقاؤں کو بئچ میں ڈال کر پاکستان میں دوبارہ اپنی جگہ بنائی اور امریکہ سے بیٹھ کر ڈنک مارنے کے عمل کو جاری رکھا۔

وہ پورے 11 سال پرویز مشرف کے خلاف مہم چلاتے رہے جب وہ جمہوری حکومت کو اقتدار ٹرانسفر ہونے لگا تو شاہیں صہبائی نے پاکستان کے آرمی چیف جناب اشفاق پرویز کیانی کو ملک میں دوبارہ مارشل لاء لگانے کے لیے اُکسایا۔

پاکستان اور چین باہمی طور پر پائیدار دوستی کی اعلٰی مثال رکھتے ہیں شاہین صہبائی کی ہرزہ سرائی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ انھوں نے 27 جنوری 2014 کو چین اور پاکستان کی دوستی کے خلاف بھی کالم لکھ ڈالا۔  اس کالم میں جس طرح انھوں نے چین سے متعلق ایک امریکی ویب پیج سے معلومات لکھیں اس پر پاکستان میں خطرہ پیدا ہوگیا کہ شائد چین اکنامک کوریڈور سے ہاتھ کھینچ لے گا ۔اس کالم کے ذریعے انھوں نے پاکستان دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔

جب ڈینئل پرل کراچی آئے تو اس کا علم صرف تین لوگوں کو تھا۔ خالد خواجہ، شاہین صہبائی اور ایک جہادی سورس۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قاتلوں کو ڈینئیل کی درست جگہ کا پتہ کیسے چلا جس کے باعث انھوں نے اسے اغوا کیا اور پھر قتل بھی کردیا۔ ڈینئل پرل کے قتل پر شاہین صہبائی نے پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسیز کو صرف اس لیے بدنام کیا تاکہ انھیں امریکہ میں آسانی سے گرین کارڈ مل جائے۔ اور وہ مقصد حاصل بھی ہوگیا۔

terro attack in workld

شاہین صہبائی نے مہران بینک کے یونس حبیب سے بھی پیسے لیے جب یہ کیس عدالت میں چلنا شروع ہوا تو انھوں نے پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کردیا  کہ انکا نام بھی اسکینڈل میں شامل ہوسکتا ہے۔ مطلب دودھ کے دھلے بلند آواز میں بولنے والے شاہین صہبائی اصل میں کرپشن کے حمام میں بھی پوری طرح سے ننگے ہیں۔

shaheen sehbai in mehrangate scandal

زرداری کے صدر بننے کے بعد وہ تقریبا” ہر روز انکی حمایت میں ایک کالم لکھنے لگے اور انھیں یقین تھا کہ حسین حقانی کے بجائے انھیں امریکہ یا کینڈا میں سفیر بنادیا جائے گا۔ لیکن جب ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو بس پھر صہبائی صاحب زرداری کے خلاف ہوگئے۔

اب آخر میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ انکے تجزئیے کا مذید پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ وہ اپنے تجزئیے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی جگہ پر بھی ایسی صورت حال نہیں ہے جیسی کہ کراچی کی ہے تو آئیے جھوٹے کو گھر تک چھوڑتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں الیکشن کے دوران مرنے والے افراد کی تعداد تقریبا” بیس تھی۔ جبکہ اندرون سندہ ہونے والے الیکشن کے دوران قتل کیئے جانے والے افراد کی تعداد گیارہ تھی جنھیں باقاعدہ سے حکومت سندہ کی ایماء پر قتل کیا گیا۔

kpk murder in election1

murder in sindh election

جبکہ کراچی کا الیکشن اس قدر پر امن تھا کہ کہیں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ اگرلائینز ایریا، لانڈھی اور ڈیفنس کے علاقوں میں جو بدامنی کے واقعات ہوئے وہ یا تو دہشت گردوں نے غیر ریاستی عناصر کی ایماء پر کیے یا پھر رینجرز کی سیاسی تحریک  جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے کیے۔  کراچی کے الیکشن میں متحدہ قومی مومنٹ کی جیت نے یہ بات ثابت کردی کہ شاہین صہبائی اصل میں متحدہ کی فتح سے ہی خوف ذدہ تھے اور اسی لیے شاہین صہبائی نے اتنا گھناونا کالم لکھا تھا۔  جبکہ رینجرز کو اس بات کا خطرہ تھا اور وہ خطرہ اب مذید بڑھ گیا ہے کہ اس کی یکطرفہ اور متعصبانہ کاروائیوں پر اُٹھائے جانے والے متحدہ کے خدشات میں ذیادہ وزن پیدا ہوگیا ہے اور اس کی کاروائیوں پر اب سوالات صرف متحدہ ہی نہیں بلکہ دنیا کا ضمیر بھی اُٹھائے گا۔

Advertisements

2 thoughts on “Rebuttal of Shaheen Sehbai analysis on November 23, 2015 in The News and Jang

  1. بہت زبردست اور حقیقت پر مبنی تجزیہ بمعہ شواھد کے کیا ہے ، لیکن یہ بہت بے غیرت انسان ہے اور اپنی حرکتوں سے باز نہیں آے گا …….. کل جب متحدہ پاور میں ہو گی (انشا الله ) تو یہ کہیں کی سفارت لینے کے لئے متحدہ کی مدح سرائی میں مصروف ہو گا . یہ اور شاہد مسعود پوری قوت سے متحدہ کے خلاف کھلی جنگ کر رہے ہیں اور دونوں ہی بوٹ پا لیشیے ہیں / متحدہ کو چاہیے کہ ان دونوں نا سوروں کو اپنے نزدیک بھی نہ پھٹکنے دیں / یہ صحافتی رنڈیاں ہیں /

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s