IF Bhutto was symptom then Ayub Khan was disease (part-II)

پاکستان کے ٹوٹنے  کی علامت  بھٹو  کی صورت ہے تو اسکی   بیماری ایوب خان  تھے

General Ayub Khan

پاکستان میں ایوب خان کے گن ایسے گائے جاتے ہیں جیسے یہ وہ گائے تھی  جو دودھ بھی دیتی  اور حل بھی چلانے کے کام آتی ۔ اسی کی ایک سینگ پر پاکستان کا بوجھ تھا اور جب یہ گائے تھک جاتی تھی تو صرف پاکستان کے بوجھ کو دوسری سینگ پر لے جاکر تھوڑا آرام کر لیتی تھی۔  لیکن پچھلے ایک مہینے کی انتھک محنت اور دسویوں  غیر جانبدار ریفرنس کی کتابیں اور جرائد  چھاننے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان کو دولخت کرنے سے لیکر ، مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی پذیرائی سے لیکر معاشی اور معاشرتی طور پر اقلیتی قومیتوں کو دیوار سے لگانے غرض یہ کہ ہر طرح کی بربادی کو باقاعدگی سے ایوب خان کے دور میں دوام ملا۔ یہ تحریر انتہائی تحقیق کے بعد اس لیے لکھنا پڑی کے ایک نثری نشست کے دوران اس پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی گئی اور پھر اس محفل میں بیٹھ کر مجھے خیال آیا کہ آئیے دیکھتے ہیں ایوب خان نے دودھ کی کتنی نہریں پاکستان کے کٹھن اور مشکل راستوں سے نکالیں۔ اور اپنی ریسرچ کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچا کہ ایوب خان کے چہرے پر پڑے کاسمیٹک کی خوبصورتی کو اتارنا ضروری ہے تاکہ قوم کو اصل حقائق کا پتہ چلے ورنہ قوم ہمیشہ جمہوریت کے ثمرات کے ساتھ آمریت کے پھل کو برابری کا درجہ دیے کنفیوز ہی رہے گی۔

1953 میں سندہ اور پنجاب میں احمدیوں پر حملوں کے بعد فوج کو بلانا پڑا اور اس کو بنیاد بناکر 1954 میں فوج کو سیاست میں باقاعدہ داخل کرنے کے لیے  ایوب خان کو بطور وزیر دفاع کابینہ میں شامل کیا گیا۔ یہ وہ پہلا قدم تھا جس میں فوج کی سیاست میں قدم جمانے کا موقعہ قانونی طور پر فراہم کردیا گیا۔  یہی وجہ ہے کہ آج تک کچھ سیڈو انٹیلچولز یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کی شکل پر ایک کالا تل فوج کو جمہوری عمل میں قانونی حصہ دیکر لگا دینا  جمہوریت کی خوبصورتی کو بڑھا دیگا۔

ایوب خان کے دور میں اشرافیہ اور انتظامیہ نے بڑی خوبصورتی سے  بار بار ایک نوزائیدہ مملکت کی عوام کے ذہنوں میں یہ زہر ڈالا کہ پاکستان خصوصا مغربی پاکستان کی عوام کا مزاج اور اس خظے کے زمینی حقائق جمہوریت کےمخالف ہیں۔ یہاں جمہوریت نہیں آمرانہ طرز عمل سے ہی حکومت کو چلایا جانا چاہیے۔ اور مغربی پاکستان نے ایوب خان کی اس زنجیر کو اپنے گلے کا طوق سمجھ کر سینے سے چمٹا لیا یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں جتنے لوگ جمہوریت کے حامی ہوتے ہیں اس سے ذیادہ لوگ آمریت کی بوٹ کے نیچے سانس لینے میں مزہ محسوس کرتے ہیں۔

ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کرنے کے فورا” بعد پاکستان میں پرنٹ میڈیا کو مکمل طور پر دباؤ میں لے لیا۔ ان پرہر  طرح کا کنٹرول لگایا ۔بس صرف اخبارات کو اپنی ملکیت میں نہیں لیا۔ جن اخبارات نے ان کی حکم کے تعمیل میں تردد کرنے کی کوشش کی انھیں سرکاری اشتہارات کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھا جب تک ایوب خان نے اپنی حکمرانی کا دبدبہ پورے پاکستان پر قائم نہیں کرلیا۔ میڈیا کی آذادی اور اپنے ذاتی و خاندانی مفاد کے تحت ایوب خان نے ایک ٹرسٹ بنوایا جس نے سرکاری مشینری کا استعمال کرکے بہت سے اخبارات کے مالکان پر دباؤ ڈال کر انھیں ٹرسٹ کے نام پر خرید لیا۔ جس سے ایوب خان کی پاکستان میں کرپشن کے ذریعے پیسہ بنانے ، طاقت حاصل کرنے کی ہوس اور کرپشن کے ذریعے خاندانی اثاثے جمع کرنے کی روش کی ابتداء ہوئی جو آج پورے آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔

ورلڈ بینک نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانی کے جھگڑے کے خاتمے کے لیے 1950 میں کمیشن ترتیب دیا مگر کسی بھی حکومت نے انڈیا کے مطالبے کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ایوب خان نے اپنی حکومت کے قیام کے  ایک ہی سال کے بعد راوی ، ستلج اور بیاس  کو  انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کے نام پر انڈیا کے حوالے کردیا اور پنج آب کو تین آب کے دریا کا صوبہ بنا دیا۔  آج پاکستان اسی معاہدے کو بھگت رہا ہے اور پنجاب کے یہ تین دریا  جب پانی کی ضرورت شدید ہو تو سوکھے نالے اور سیلاب کے دنوں میں موت کا پھندہ ہیں۔

ایوب خان نے اپنی حکومت کے تیسرے سال 1962 میں ہی پاکستان کے دالخلافہ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا انتظامی عمل کو شروع کردیا ۔  جبکہ اس وقت انڈیا  اپنے پڑوسی چین سے جنگ میں مصروف تھا اور بری طرح سے شکست کھا رہا تھا۔ ایوب خان نے اپنی ساری قوت درست وقت پر غلط جگہ مرکوز کیے رکھی اور اس کے نتیجے میں کشمیر کی آذادی کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکنے میں اپنا گھناونا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی ساری قوت ایک پہاڑی سلسلے کو توڑ کر نیا شہر بسانے اور اس کے لیے قرض کا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کا نہ رکنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ دالخلافہ کی منتقلی کے اعلان نے ہی بنگالیوں  میں   اس بات کا احساس پختہ کر دیا کہ انکے لیے فیڈریشن آف پاکستان میں رہنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔

ایوب خان نے مہاجروں کے ساتھ جو دیوار سے لگانے کا عمل شروع کیا آج تک  وہ جاری و ساری ہے۔ ایوب خان نے بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز مہاجروں کو بہت بڑے پیمانے پرملازمتوں سے برخاست کیا ۔ جس کے نتیجے میں مہاجروں میں بیروزگاری پھیلی اور ساتھ ہی ساتھ بطور قومیت وہ دیوار سے لگادئیے گئے۔

ایوب خان نے جن علماء کو پاکستان کی ترقی میں روکاوٹ قرار دیکر انھیں ہر طرح سے پیچھے دھکیلا بعد میں محترمہ فاطمہ جناح کو ایک مضبوط مخالف اُمیدوار دیکھ کر ان ہی علماء کے ذریعے یہ مہم چلوائی کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی حرام ہے اس لیے محترمہ فاطمہ جناح انتخاب لڑنے کی اہل نہیں اور اگر وہ اُمیدوار ہیں بھی تو انھیں ووٹ دینا حرام ہوگا۔

ایوب خان نے 1956 کے آئین میں عورتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی شق کو 1962 کے آئین میں ختم کردیا۔ جس نے پاکستان میں خواتین کو برابر لانے کی کوششوں کو کئی دہائی پیچھے دھکیل دیا۔

ایوب خان نے 1962 کے آئین میں پاکستان کو دویونٹ میں تقسیم کردیا، تاکہ مشرقی پاکستان کی جمہوری برتری کو کم کیا جاسکے۔ اس طرح انھوں نے اصل میں موجودہ پاکستان میں بے چینی کی بنیاد ڈال دی۔ انھوں نے سندہ ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو یکدم ختم کردیا۔ جس  سے پنجاب کی بالا دستی ان تین صوبوں پر قائم ہوگئی اور اس نے قوم پرست تحریکوں کو جنم دیا ۔ اس کے نتیجے میں پاکستان آج تک ان مسائل سے آذاد نہ ہوسکا۔ قیام پاکستان میں سندہ سے جی ایم سید نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مگر ایوب خان کے دور میں ون یونٹ کے قیام کی خان عبدالولی اور جی ایم سید نے کھل کر مخالفت کی جس کے باعث دونوں کو بڑی مشکلات اور تذلیل سے گزرنا پڑا۔ جی ایم سید کئی بار جیل گئے ۔  اور بالا آخر جی ایم سید نے قوم پرست تحریک جئے سندہ کی بنیاد رکھ دی۔   وہ قوم پرست تحریکیں جو صوبہ کی بحالی کے نام پر شروع ہوئیں اب ان میں سے کئی ملک توڑنے کی تحریکوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔  جن میں جیئے سندہ ایک بڑی مثال ہے۔  ایوب خان نے  1960 میں بلوچ لیڈروں کی بھی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کروائیں

ایوب خان نے 1962 میں  چین سے سرحدی معاہدہ کیا جس  میں انھوں نے 750 مربع  میل  زمین کے بدلے  2500 مربع میل کی زمین سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اس میں کشمیر ، لداخ  اور کارگل وغیرہ کے قریب کے انتہائی حساس مقامات بھی شامل تھے۔ شائد اس طرح پاکستان نے پہلی بار اپنی ریاست کی زمین پر بھی سمجھوتا کرلینے کی ابتداء کی اور یہی ابتداء اپنے انتہاء کے طور پر بطور بنگلادیش  کی صورت میں سامنے آگیا۔

ایوب خان نے درست وقت 1962 میں انڈیا سے جنگ چھیڑنے کے بجائے 8 اگست 1965  میں انڈیا   کے کشمیر میں آپریشن جبرالٹر نامی خفیہ مہم جوئی شروع کروادی ۔ جس کو 1962 میں شروع ہونا چاہیے تھا۔ جب یہ آپریشن مکمل طور پر ناکام ہوا تو فوجیوں کو بچانے کے لیے ایک اور آپریشن شروع کرنا پڑا جس کو  آپریشن گرانڈ سلام کا نام دیا گیا مگر اس آپریشن میں بھی صرف تین دنوں میں مکمل ناکامی ہوئی جس کے بعد انڈیا نے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان کے ساتھ مکمل جنگ کا آغاز کردیا۔  اس جنگ میں  جو بھی علاقے پاکستان نے فتح کیے تھے وہ سب ایک سال کے بعد تاشقند کی میز پر بیٹھ کر 1966 میں انڈیا کے حوالے کر دئیے ۔  1965 کی جنگ کے خاتمے اور جیت کے جھوٹے دعوئے کے غبارے سے کچھ ہی عرصے کے بعد ہوا نکل گئی جب جنگ میں ہونے والے اخراجات کی قیمت عوام کو چکانا پڑی۔ ملک میں ایک دم سے عوام الناس کے لیے چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور بیروزگاری میں کئی گنا اضافہ۔ نتیجہ عوام میں ایوب خان کی حکومت کے خلاف ہیجان برپا شروع ہوگیا اور ہر طرف احتجاج کے لہر پیدا ہوگئی۔

سکھر بیراج کی تعمیر کے بعد کاشتکاری کے لیے میسر زمین کو آبادکاری کے لیے تقسیم کے دوران اس بات کا خیال رکھا گیا کہ اس زمین کا حصہ سندھیوں میں بھی  برابری کی بنیاد پر تقسیم کیاجائے۔ 1953 سے 1958 کے دوران حکومت نے غیر سندھیوں کو ایک لاکھ 53 ہزار ایکٹر اور  سندھیوں کو ایک لاکھ 52 ہزار ایکٹر زمین دی گئی۔ جبکہ ایوب خان نے اپنے دور میں  تقسیم ہونے والی صرف 20 فیصد زمینیں سندھیوں کو وہ بھی نیلامی کے عوض جبکہ 80 فیصد زمینیں بیوروکریٹس اور فوجیوں میں بانٹ دیں۔ یعنی سندہ کی زمینوں کو ذیادہ تر پنجاب کو بانٹ دیا گیا جبکہ ان زمینوں پر کاشتکاری کے لیے پنجاب سے ہی افراد آئے جس سے سندہ کے ہاریوں میں شدید مایوسی اور بے روزگاری پھیلی۔

ایوب خان نے اپنے دور میں ایک مخصوص طرز عمل کی صنعتی ترقی کا عمل شروع کیا ۔ کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر صنعتیں لگیں۔ جس سے کراچی کے مہاجروں  کو ملازمتیں ملنے کے امکانات پیدا ہوئے لیکن ایوب خان نے  پنجاب اور سرحد سے بڑے پیمانے پر مزدوروں کے کراچی آنے کا آغاز کروایا اور ایک منصوبے کے تحت صنعتی ایریا کے ارد گرد آنے والے افراد کے قبضے کروائے۔ پنجاب اور سرحد سے اتنے بڑے پیمانے پر کراچی میں آمد نے  مستقل رہائشی شہریوں خصوصا” اردو بولنے والوں  کے لیے مسائل بڑھادئیے ۔ ایوب خان نے لسانی منافرت کو باقاعدگی سے ہوا دلوائی جس کے نتیجے میں پہلی بار 1960 میں کراچی میں مہاجر پٹھان لسانی فسادات  ایوب خان کے دور حکومت میں ہوئے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایوب خان نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی معاشی ترقی اور انکے صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں پر بہت توجہ دی مگر غیر جانبدار تاریخ دان یہاں تک کہ پاکستانی بھی اس بات کو کہنے میں عار نہیں محسوس کرتے کہ ایوب خان نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کے در کا بھکاری بنایا۔ یعنی ترقیاتی کام اونٹ کے منہ میں زیرہ اور ڈھول اتنے تیز پیٹو کہ غربت سے تنگ ننگے بنگالیوں کے کان بھی پھٹ جائیں۔ ایوب خان نے زنجیر میں قید جمہوریت کی ایسی شکل پیش کی کہ سب کو جمہوریت سے ہیضہ ہوجانے کا خوف رہنے گا۔

6 جنوری 1968 کےاگر تلہ سازش کیس نے بنگالیوں میں نفرت کی آگ بھر دی جن پر بھارت سے مدد مانگنے کا الزام لگایا جارہا تھا وہ انکار کرتے رہے اور ایوب خان ان سے اقرار کی ضد پر اڑے رہے۔ اگرتلہ سازش کیس ثابت تو نہ ہوسکا مگر ایوب خان نے ایک سیاست دان جو شائد پاکستان سے الگ ہونے پر اتنا زور نہیں دے رہا تھا کو ایسے دیوار سے لگایا کہ وہ دیوار ہی گرا دینے پر تل گیا۔ یہ سازش بھی پاکستان توڑنے  میں ایوب خان کے کردار کی بو پھیلاتی ہے۔ اس سازش کیس کو جتنی آسانی سے شروع کیا گیا تھا وہ اتنے ہی مشکل کیس کی صورت اختیار کرگیا۔ جب اس کیس کو 19 جون 1968 کو عدالت میں شروع کیا گیا تو اس میں مجیب اور 35 دوسرے افراد پر بھارت کی مدد سے مسلح جدوجہد کرکے پاکستان توڑنے کے الزام کا کوئی ثبوت پیش نہ کیا جاسکا ۔ بس پھر کیا تھا  اس کیس سے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب پڑی اور مجیب الرحمٰن رات و رات چمکتا ستارہ  اور نجات دہندہ بن کر مشرقی پاکستان کے اُفق پر   اُبھرا۔ ایوب خان نے پاکستان کا سورج غروب کروانے میں کوئی کثر نہ رہنے دی۔

ایوب خان نے بنگالیوں کے ساتھ جس تیسرے درجے کا شہری ہونے کا سلوک 11 سال جاری رکھا اس کا اقرار انھوں نے خود اپنی تقریر میں 21 فروری 1969 میں کیا۔ انھوں نے کہا مشرقی پاکستان میں عوام کا خیال ہے کہ انھیں برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں اس لیے آئنیدہ الیکشن سے میں خود دستبراد ہوتا ہوں اور ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر الیکشن کروائے جائیں گے تاکہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو اپنے صوبے پر حکمرانی کا پورا حق مل سکے۔

10 مارچ 1969 میں راونڈ ٹیبل کانفرنس کے افتتاحیہ میں ہی ایوب خان نے پاکستان کی تقدیر میں سیاہی لکھ دی اور شروع میں ہی مشرقی بنگلادیش کی عوام اور سیاست دانوں پر غداری کا الزام لگا دیا۔ اس پر مجیب الرحمٰن نے شدید اعتراض کیا جبکہ ائیر مارشل اصغر خان نے بھی ایوب خان کے اس طرز عمل کو راونڈ ٹیبل کانفرنس جو کہ دراصل پاکستان کو بچانے کی ایک کوشش تھی  کو ناکام کرنے کے لیے الزامات لگانے پر اعتراض کیا۔

ایوب خان کے دالخلافہ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے فیصلے نے پاکستان کے استحکام کو اس قدر کمزور کیا کہ اس کی گونج راونڈ ٹیبل کانفرنس میں سنائی دی اور مجیب الرحمٰن نے دارلخلافہ کو ڈھاکہ منتقل کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ اگر ایوب خان نے بے پناہ قرضہ لیکر ایک مصنوی شہر بسا کر دارالخلافہ اسلام آباد نہ منتقل کیا ہوتا تو شائد بنگالیوں میں اتنی شدت سے علیحدہ ہونے کا خیال زور نہ پکڑتا۔

اپنے اقتدار کے آخری لمحات میں بھی ایوب خان نے بجائے ملک کی جمہوریت کی گود میں ڈال دینے کہ ایک لنگڑی لولی جمہوری حکومت کا صدر ہونے کے باوجود ملک کو ایک اور فوجی ڈکٹیٹر یحییٰ خان کے پیروں میں ڈال دیا۔ بہانہ یہ کیا گیا کہ اگر صدر استعفی دے گا تو اس نظام میں اسپیکر صد ر بن جائے گا چونکہ ایک بنگالی اسپیکر کا صد ر بن جانا مغربی پاکستانیوں کو غداروں کا صد ر بن جانا لگ رہا تھا اسی لیے ملک میں جمہوریت کی دوشیزہ کو ایک ڈکیٹیٹر سے دوسرے ڈکٹیٹر کی گھر میں رکھ دیا گیا۔ حالانکہ اگر اسپیکر صدر بن بھی جاتا تو دالخلافہ2000 میل دور اسلام آباد  میں اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونک لیتا!

حاصل تحریر یہ ہے کہ پاکستان میں تاریخ کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جب ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کی تعریف کو اپنی درسی کتابوں کی زینت بنا دیتے ہیں تو نئی نسل کو پہلے دن سے ہی گمراہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر وہ ملک کے بجائے شخصیت کو اہمیت دیتے ہیں اور انھیں درست فیصلے کرنے یا کرنے والوں اور غلط فیصلے کرنے والوں میں فرق سمجھ میں نہیں آتا۔ اس سے ریاست دن بدن کمزور ہورہی ہے اور ہم ملک کے بجائے افراد کی عزتیں بچانے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ ہم ملک توڑنے والوں یا اسکی ابتداء کرنے والوں کا احتساب تو الگ انکی غلط کاریوں کو بھی سنہری حروف کا تاج پہنا کر اپنے آنکھوں کی پلکوں پر جگہ دے رہے ہیں۔ خدارا تاریخ درست  طور پر پہنچائیے  ورنہ آپ کا مستقبل بگڑتا رہی رے گا!

Advertisements

2 thoughts on “IF Bhutto was symptom then Ayub Khan was disease (part-II)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s