Darkness behind brightened face of Field Marshal General Ayub Khan

ایوب خان کا روشن چہرہ کی پیچھے کی تاریکی اور جمہوریت کا قتل ناحق

آج کل فیلڈ مارشل جرنل ایوب خان کا بڑا چرچا چل رہا ہے۔ میرا بھی دل چاہا کہ اس “کشمیر بزور شمشیر” کے نعرے کے خالق کے روشن چہرے کےاندر جھانک کر دیکھوں ۔ بس پھر کیا تھا جب اندر جھانکا تو لگاکسی کُہنہ مشق نے ڈانٹ پلا دی ہو اور زناٹے دار تھپڑ اپنے گال پر محسوس ہوا،  اور آوزا آئی  چراغ کے نیچے کیا جھانکتے ہو بھائی اس کے نیچے تو اندھیرا ہی ہوگا۔ مجھے لگا وہ شائد مجھے پاکستان کی تاریخ میں جھانکنے یا ایوب خان سے ذیادہ فری ہونے سے ڈرا رہے تھے۔

بلاگ کا مقصد پاکستان کے پیاز نما تاریخ کی پرت اُتارنا نہیں کیوں کہ  اس کی جتنی پرتیں اُتار لو ایک نئی پرت سامنے آجائے گی اور پہاڑ کھود کر مردہ چوہا نکل آئے گا ۔ اصل مقصد تو ایوب خان کے روشن چہرے کے پیچھے چھُپے تاریک حقیقت کو سامنے لانا ہے مگر ان پر اس وقت تک  لکھنا ممکن نہیں جب تک پاکستان کی انگریزوں سے نکل کر مغربی پاکستان  (موجودہ پاکستان) کے مسلم لیگیوں کی غلامی میں چلے جانے کی تاریخ پر تھوڑی سی بات نہ ہوجائے۔

پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح پہلے گورنر جرنل بنے ۔محمد علی جناح قائد اعظم تھے ان پر لکھنا میرے بس کی بات نہیں بس تاریخ کے اوراق کھنگالتے ہوئے ایسا لگا جیسے کرپشن اور دوسرے عوامل کو دیکھ کرقائد اعظم محمد علی جناح نے مغربی پاکستان کے دو  وزرائے اعلیٰ کی حکومتیں انتظامی اخٰتیار کو استعمال کرکے ختم کیں۔   بس پھر کیا تھا  اسی نقش پاء پر چلتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلی کو 1949 میں معطل کردیا گیا۔ یعنی جمہوریت کے شاندار سفر کو قیام کے فورا” بعد اعلی و ارفع مقام دے دیا گیا۔ قائد اعظم پر مذید لکھنا غداری ہوگا اس لیے قلم نے بھی جواب دے دیا ہے اور اس نے اپنے منہ سے تھوک اُگلنے کے بجائے نگلنے میں ہی عافیت جانی ہے!

پاکستان میں مغربی پاکستان کی اجارہ داری کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے قائد سے محبت کا ایک رنگ بناکر گورنر جرنل کے عہدے کو 1956 تک جاری رکھا گیا تھا،۔ مطلب ایک تیر سے دو مزے تیتر بھی مارا اور بٹیر بھی بھون کر کھا لیے یعنی رند کے رند رہے او ر ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی۔ قائد اعظم کے نقش پا پر بھی چلے اور انتظامی اختیار کو سمیٹ کر اپنے گود بھی ہر ے رکھے ۔ وہ توغدار  مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے قائد اعظم کے نقش پاء کو مٹا دیا  جن پر جمہوریت کا بھوت انگریزوں کی غلامی کی زمانے سے ہی سوار تھا اور بس انھوں نے گورنر جرنل کے عہدے کو ختم کروا کر پاکستان کے انتظامی اخیتار رکھنے والے سچے پاکستانیوں سے غداری کی۔ پھر جو کیا بھُگتنا بھی انہی کو تھا اور بھگتا بھی۔ بد بخت آج نہ پنجابی ہیں، نہ پٹھان، نہ سندہی نہ بلوچی نہ اس فوج کے جوان ۔ یہ بھی جینا کوئی جنیا اس سے اچھا تو مرنا ہوتا ہے!

مشرقی  پاکستان (موجودہ بنگلا دیش) کی جمہوریت پسندی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 1952 کے الیکشن میں  نامور لیڈروں  اے کے فضل الحق ، ایچ ایس سہروردی اور مولانا بھاشانی کی یونائیٹیڈ فرنٹ الیکشن میں 300 سیٹیں جبکہ مسلم لیگ کو وہاں صرف 10 سیٹیں  ملیں۔ نتیجہ صوبائی اقتدار کا سنگہاسن تو مشرقی پاکستان کے ہی گلے میں لٹکنا تھا سو وہ لٹکا۔ اور یونائٹیڈ فرنٹ نے بھی جمہوری طرز فکر کی نمائندگی کی اور انھوں نے اپنے 21 نکات جن میں لینڈ ریفارم ، ملک کے لیے آئین بنانے اور عوام کی فلاح کے لیے اقدامات شامل تھے ان پر عمل بھی شروع کردیا ۔ بس پھر کیا تھا مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کی بیوروکریسی اور فیوڈل مزاج کے طاقت ور حلقوں  کے درمیان میں تو جیسے کسی نے سانپ چھوڑ دیا ہو۔ مغربی پاکستان میں تو حکمرانوں کے لیے جمہوریت کا چھچھوندر نہ اگلا جائے نہ نگلا جائے۔ اصل آگ تو تب بھڑکی جب یونائیٹیڈ فرنٹ نے صوبائی خود مختاری کے لیے کام شروع کردیا ۔ تو پھر کیا تھا بنگالیوں کو اپنے صوبے میں آذادی مل جاتی تو مغربی پاکستان کی بیوروکریسی کا طوق انکے گلے سے اُتر نہ جاتا۔ بس یہ شائد آخری کیل تھی جس کو یونائیٹیڈ فرنٹ نے خود ہی اپنے تابوت پر ٹھونک لیا ۔   مشرقی پاکستان میں جہوریت کے زہریلے  نوخیر پودے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور پھر دوبارہ کبھی ایسی اپوزیشن پاکستان میں پنپنے سے روکنے کا بھر پور بندوبست کیا گیا۔ یعنی سیدھے الفاظ میں فضل الحق کو غداری کا سرٹیفیکٹ دیکر 29 مئی 1954 کو مشرقی پاکستان صوبے کی حکومت کو معزول کر دیا گیا  اور صوبائی حکومت کے ایک وزیر شیخ مجیب  اور  150 سے زائد افراد کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا۔  جہازوں کو بنگالیوں کے سینوں پر مونگ دلنے کے لیے اُڑایا گیا اور انہی کے نمائندوں کو گرفتار کرنے اور نمائندہ حکومت کو معزول کرنے کی وہی گھسی پٹی باتیں پمفلٹ میں لکھ کر جہاز سے گرا کر انھیں بتانے کی کوشش کی گئی کہ جو معتوب ہوئے وہ اسی کے حق دار  تھے  اور قبضہ کرنے والے اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔

مغربی پاکستان سے ڈیفینس سیکریٹری اسکندر مرزاء کو گورنر بناکر اختیارات کے میزائل سے لوڈ کرکے  کرادیا گیا۔ اور بس جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کی رسم  کبھی نہ رک سکی۔ اسکی شادی کبھی فوج سے اور کبھی سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سے کروادی گئی ۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ بانجھ ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منکوحہ سے ہم بستری کرنے والے ہی اصل میں مخنس تھے تو جمہوریت کون سا بچہ جن دیتی!

 اسکندر مرزاء نے وہاں مارشل لاء نافذ کیا اور مغربی پاکستان سے افواج کو بنگالیوں کو کچلنے کے لیے بلا لیا گیا۔ اسکندر مرزاء نے صوبائی قانون سا ز اسمبلی کے 35 ممبران بشمول فضل الحق اور مجیب الرحمان کو گرفتار کرلیا ۔ یعنی فوجی بوٹوں سے کچل دینے کی روش نے دیوار پر بنگلا دیش بنا دینے کا نعرہ  خود اپنے ہاتھ سے لکھ دیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ بنگالیوں کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا کہ وہ ایک مفتوح قومیت سے تعلق رکھتے ہیں جن کو مغربی پاکستان کے چند افراد نے فتح کیا ہے۔ وہ غلام ہیں اور انکے آقا  مغربی پاکستان میں رہتے ہیں۔

جمہوریت کو پاکستان کے لیے شجر ممنوعہ قرار دینے او ر اس کو لوگوں کے ذہنوں میں بطور شجر ممنوعہ بٹھانے کے لیے قانوں ساز اسمبلی کو 28 اکتوبر کو توڑ دیا گیا اور پولیس کو گورنر جرنل غلامحمد نے حکم دیا کہ اسمبلی ممبران کو اسمبلی میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ یہی وہ دن تھا جب جمہوریت کے پودے کو شکنجے میں کس کر اپنی مرضی کے مطابق بڑھنے دینے یا بڑھنا روک دینے کی طاقت حاصل کر لی گئی۔ اس دن پہلی بار جمہوریت کا قتل کرکے پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا سیاہی سے اسکی قسمت طے کردی گئی۔ جمہوریت کا قتل کرنے والے مفاد پرست بڑے تیز آواز میں کہتے رہے کہ قانون ساز اسمبلی کو صرف اس لیے توڑا گیا کہ وہ قانون سازی کو متفقہ طور پر کرنے میں ناکام رہے مگر وہ آدھا سچ بتاتے رہے اصل حقیقت یہ ہے کہ جس دن اسمبلی توڑی گئی اس دن تمام امور متفقہ طور پر  طے پاچکے تھے اور صرف دستخط ہونا باقی تھا۔

1955 میں مولوی تمیز الدین نے اسمبلی توڑنے کے خلاف حفیظ الدین پیراذادہ کے ذریعے بڑی مشکلوں سے سندہ ہائی کورٹ میں ایک اپیل لگوائی۔  جس کاف فیصلہ انکے حق میں ہوا اور غلام محمد کے اسمبلی توڑنے کو غیر آئینی قرار دیا گیا لیکن غلام محمد نے پنجاب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرکے اس فیصلے کو کلعدم قرار دلوا دیا۔ جس سے پہلی بار عدالت میں نظریہ ضرورت بطور پنجاب کی صورت  ملک کی روایت بن گیا۔  پھر تو نظریہ ضرورت ہی قانون بالا بن گیا اور جتنی مرتبہ پاکستان میں ڈکٹیٹر نے آئین توڑا جسٹس منیر کی روح کو ثواب پہنچانے اور مطمئین کرنے کے لیے ہر بار اعلی عدالت نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا اور وہی کیا جو جسٹس منیر نے غلام محمد کا ساتھ دیکر کیا تھا۔ چاہے وہ ایوب خان ہو یا یحییٰ، ظلمت کا ضیاء ہو یا مشرف  کی تشریف آوری ۔بس نظریہ پر ضرورت حاوی رہا اور شائد جسٹس منیر کی روح کو ثواب بڑھتا گیا۔

حفیظ الدین پیرذادہ کس طرح برقعہ پہن کر عدالت میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور پولیس کو کس طرح سے انکے بو سونگھنے کی مہم پر عدالت کے دروازے پر لگا دیا گیا یہ ایک الگ داستان اور پولیس کو پٹواری و وڈیرے کے اوطاق کا بستر بنانے کی ایک الگ کہانی ہے جو اس وقت کا موضوع بحث نہیں ۔

اسکندر مرزاء جب بنگالیوں کی ناک میں نکیل ڈال کر کراچی واپس آئے تو انھوں نے طاقت ور حلقوں کو یہ کہنا شروع کردیا کہ ایک بیمار گورنر جرنل غلام محمد کے بجائے انھیں گورنر جرنل بنا دیا جائے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ پھر دوسری قانوں ساز اسمبلی سے صدر کے عہدے میں تبدیل ہوگئے۔ اقتدار کی ہوس تو پہلے ہی تھی پھر ساتھ ایک اور شکر خور ہوگیا۔ ایوب خان نامی کردار جس نے ہر طرح سے اقتدار تک پہنچنے کے راستے پر سفر کے لیے بڑے جتن کیے تھے۔ اس  کو اس وقت بہترین موقعہ ملا جب انھیں آن ڈیوٹی سولجر ہونے کے باوجود وزیر دفاع بنا دیا گیا۔

1958 میں صدر محترم جناب اسکندر مرزاء نے ایوب خان کے ہاتھوں  منہ پر تھپڑ کھا کر (دروغ بہ گردن راوئی )   پاکستان کے آئین کو معطل کرکے مارشل لاء نافذ کردیا اور جرنل ایوب کو چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بنا دیا۔ پہلے تو یہی کہا جاتا رہا کہ مارشل  کا قیام صدر محترم کی مرضی سے ہوا ہے ۔لیکن جب ایوب خان نے صدر کو ہٹا کر خود بطور صدر آگئے تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ایوب خان کو اقتدار کی ہوس ستا رہی تھی اور انھوں نے اسکندر مرزاء کو مجبور کیا اور انکے پیچھے چھپ کر اپنا اصل مقصد حاصل کرلیا۔ ایوب خان کے اقتدار پر قبضے کے بعد فوج کا ہاضمہ اتنا بڑھا کہ اس نے ہر وقت بلی کی طرح دودھ کی رکھوالی مانگنی شروع کردی اور جب بھی موقع ملا اقتدار کے آنگن میں چاند بن کر  اُتر آئے مگر گئے تو سارا ملک گہنا گئے۔

 بقیہ باقی رکھتے ہیں کیوں کہ ایوب خان کی زندگی کے روشن پہلو پر تو لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے! اگلی قسط میں رہا سہا کسر اُتار دیں گے۔

Advertisements

One thought on “Darkness behind brightened face of Field Marshal General Ayub Khan

  1. یہ تحریر پاکستان میں آمریت کی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مختصر لیکن بہت زیادہ معلومات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور نوجوانوں کو خاص طور پر اسے ضرورپڑھنا چاہئے۔ اسکے عنوان اور ابتدایئے پر ہمیں اعتراض ہے اور وہ یہ کہ نہ جانے مصنف کو ایوب خان کا چہرہ روشن کیسے نظر آرہا ہے! ہم نے تو بہت غور سے دیکھا لیکن سوائے بداعمالیوں کی سیاہی کے اور کچھ نظر نہیں آیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s