Communication Gap is death for Revolutionary Movement

انقلابی تحریکوں میں رابطے میں رہنا ضروری ہے

آرمی اور پولیس 90 پر چھاپے مارتے ہوئے
آرمی اور پولیس 90 پر چھاپے مارتے ہوئے

(19 جون 1992 میں کارکن کے ساتھ بیتی ہوئی وہ غم کی داستان جس نے متحدہ سوشل فورم نثری نشست کے شرکاء کو ہچکیوں سے رُلا دیا)۔ 19 جون 1992 کے آپریشن نے کئی ساتھیوں اور خصوصا” مجھے یہ اچھی طرح سے باور کرادیا کہ انقلابی تحریک کیا ہوتی ہے؟ اور اس کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت کس قدر اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو انقلابی تحریکوں سے وابستہ ہوتے ہیں انھیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ایسی تحریکیں آنسووں اور غم و الم کی داستانوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ انقلابی تحریکوں سے وابستہ لوگوں کو اس بات کا بخوبی احساس ہونا چاہیے کہ تحریک سے رابطہ ہی اس کے روح سے جُڑے رہنے کی کڑی ہے۔ ایک لرزش اس تحریک سے وابستہ فرد کو آسمان کی بلندی سے گرا دیتی ہے۔ اس کے لیے بڑے حوصلے اور تحمل و بردباری کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

یہ سارا واقعہ حماد بھائی جو کہ تحریک سے آج بھی وابستہ ہیں نے خود ہی سنایا اور اسی یونٹ کے ایک اور ساتھی نے اس کو سوشل فورم کی نثری نشست کے دوران پڑھ کر سنایا۔ اس پوری حقیقت میں ایک اور بات اہم ہے کہ 1992 میں موبائل فون اس قدر عام نہ تھے اور رابطے کے لیے لینڈ لائین بھی مشکل سے میسر ہوتی تھی۔  مجھے افسوس ہے کاش میں نے اس دوران ایک اس کو ریکارڈ کر لیا ہوتا بہتر ہوتا کیوں کہ اس تحریر کے ذریعے شائد اس دن اور حماد کے جذبات کی ترجمانی نہ کی جاسکے۔

18 جون 1992 کی رات کے دو بج رہے تھے اور اچانک حماد کی نیند ٹوٹ گئی۔ حماد نے کھڑی دیکھی رات کے صرف بارہ ہی تو بج رہے تھے اُسے اندازہ تھا کہ گلی میں سب لوگ بیٹھے ہوں گے کیوں کہ اس علاقے میں رات بھر چہل پہل رہتی ہے۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو نیند کے جھونکے کہ باوجود اس رگوں میں ٹھنڈک سی دوڑ گئی کیوں کہ پوری گلی میں قبرستان کا سناٹا تھا۔ منہ سے تیز آواز میں چیخ سی نکل گئی ارے یہ کیا سب لوگ اچانک کہاں چلے گئے؟ پھر دل میں ایک وسوسہ اُٹھنے لگا اور اپنے آپ سے سوال پوچھنے لگا ارے کیا کچھ ہونے والا ہے؟ اور اگر ہونے والا ہے تو کیا ہونے والا ہے کہ اتنا خوف طاری ہے؟ پھر حماد نے خود ہی اپنے آپ کو جواب دیا اس کا قصور وار میں بھی تو ہوں میں اپنی بھتیجی کا شادی جو لانڈھی سے باہر تھی اس میں اتنا مصروف رہا کہ پچھلے ایک ہفتے میں فون آئے اور میں نے فون سنے بغیر ہی کاٹ دئیے! اور کل بھی جب میں اور میرا بھائی واپس آئے تو ہم دونوں اتنے تھکے ہوئے تھے کہ خاموشی سے گھر آکر سوہی گئے۔

حماد جام نگر لانڈھی نمبر ایک میں رہتا تھا، اسکا بڑا بھائی فرحان بھی اسی گھر میں رہتا تھا۔ اسکا ایک اور بڑا بھائی فیروز گلشن حدید کے ای ایس کالونی میں رہتا تھا۔ فیروز اور فرحان دونوں شادی شدہ تھے۔ چھوٹی اور اکلوتی بہن جس کو تینوں آنکھوں کی پلکوں پر سجا کر رکھتے تھے اسکی بھی شادی ابھی کچھ دنوں پہلے ہی ہوئی تھی۔ اس گڑیا جیسی معصوم اور پری جیسی خوبصورت بہن کے ہاتھوں اور پیروں کی مہندی بھی ابھی پوری طرح سے اُتری نہ تھی۔ فرحان اور حماد دونوں ہی اس انقلابی تحریک سے وابستہ تھے۔

حماد باہر آکر سوچ رہا تھا کہ گلی میں تو کوئی ہے ہی نہیں اور میں اپنے ساتھیوں سے رابطہ کروں تو کیسے کروں؟ کوئی رابطے میں کیوں نہیں آرہا ہے؟ اب ہمت کرکے حماد ایک دو ساتھیوں کے گھر پر گیا تو لاحاصل اور گھروں پر تالے لگے ہوئے تھے! اب حماد اپنے آپ سے کہنے لگا کیا رابطے میں رہنے والے خطروں سے آگاہی حاصل کر لیتے ہیں؟ کیا وہ اپنی جان و مال کے ساتھ اپنی عزتوں کی حفاظت بھی کر لیتے ہیں؟ کیا میں نے رابطے میں نہ رہ کر کوئی بھیانک غلطی کردی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ میری چھٹی حس مجھے کسی بڑے طوفان اور خطرے کا احساس دلا رہی ہے؟

رات ذیادہ ہوچکی تھی اور حماد کے پاس اب واپس جاکر سوجانے یا صبح ہونے کا انتظار کرنے کے سواء کوئی چارہ نہ رہ گیا تھا۔ چونکہ حماد اور فرحان پچھلے تین دن سے جاگے ہوئے تھے لہذا نیند تو پھانسی گھاٹ پر بھی آجاتی ہے اور دونوں کو بھی آہی گئی۔ لیکن صبح پانچ بجے کے قریب دونوں بھائیوں کی آنکھیں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے کھل گئی۔ ساتھ میں انھیں ایسا لگا جیسے کچھ لوگ گھروں کے دروازے توڑ رہے ہیں۔ دونوں بھائی اندر سے ایک انجانے خوف میں ڈوب گئے اور ایک دوسرے کے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے آپس میں ہی خوف کو ایک دوسرے سے چھپانے لگے۔ اپنے آپ کو دوسرے سے چھپائے چھپائے ابھی کچھ ہی لمحے گذرے تھے کہ ان کے دروازے کو بھی کسی نے زور زور سے پیٹنا شروع کردیا۔ جب دونوں نے دروازہ نہیں کھولا تو پھر باہر سے انھیں اپنے بڑے بھائی کے بولنے کی آواز آئی جلدی دروازہ کھولو جلدی کرو۔ بس پھر کیا تھا حماد نے لپک کر کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔ جیسے ہی حماد نے دروازہ کھولا بڑا بھائی فیروز چیخنے لگا جلدی کرو گاڑی میں بیٹھو۔ جب دونوں بھائی باہر نکلے تو انھوں نے دیکھا کہ انکی بھابھی بھی گاڑی میں آگے بیٹھی تھیں۔ حماد نے بڑے بھائی سے پوچھا بھائی یہ سب کیا ہورہا ہے کچھ جواب دیے بغیر فیروز نے انھیں گلے سے لگا لیا اور چیخنے لگا خدا تیرا شکر ہے کہ تم لوگ مجھے زندہ سلامت مل گئے بس اب کوئی سوال مت کرو فورا” بیٹھو اینٹی والے آگئے ہیں۔ فوج بھی انکے ساتھ ہے اور وہ انقلابی تحریک سے وابستہ لوگوں کو گھر سے نکال کر گولیاں مار رہے ہیں۔ اور کچھ ساتھیوں کو تو انھوں نے قتل بھی کردیا ہے۔

1992 operation2

حماد اور فرحان جلدی سے گاڑی پر بیٹھ گئے اور فیروز نے گلی سے گاڑی کو بہت تیزی سے نکالنا شروع کردیا۔ اتنی دیر میں حماد نے کہا بھائی میں نہیں جاسکتا اس لیے کہ صبح تو حمیرا (چھوٹی ) بہن کو حیدرآباد سے آنا ہے وہ تو شائد وہاں سے چل بھی پڑی ہوگی۔ اتنا سن کر حماد کی بھابھی نے اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا جواب دیا کہ تم بے فکر ہوجاو ابھی یہاں سے نکلنا ضروری ہے حمیرا کا فون کل رات ہی آگیا تھا کہ وہ نہیں آئے گی۔ پتہ نہیں کیوں حماد کا دل پھر بھی وسوسے میں گھرا رہا۔

چونکہ آج کی طرح موبائل کا زمانہ نہ تھا اور ٹی این ٹی کی زمینی لائینیں بھی اتنی ذیادہ نہ تھیں اس لیے فون پر رابطہ بھی اتنا آسان نہ تھا۔ دن گذر گیا اور رات آگئی حماد بے تاب رہا، کسی سے کچھ بول بھی نہ پاتا اور خاموشی بھی کھائے جارہی تھی۔ رات خبر ملی کے اینٹی والے ان لوگوں کو جو وہاں پھنسے رہ گئے تھے گھروں سے نکال کر لے جارہے تھے اور فوج بھی انکے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ محلے والوں کے سامنے لے جاتے ہوئے تشدد کرتے اور کئی ایک کو راستے میں ہی گولیاں مار دی تھیں۔ جنکی لاشیں سڑک پر پڑی تھیں۔ پڑوسی خاتوں بھی جو وہاں ہی بھاگ کر آئیں تھیں نے حماد کو بتایا کہ میرے سامنے فوجی ایک گھر سے چند لڑکوں کو اُٹھا کر لے گئے اور تھوڑی دور جاکر انھوں نے ان لڑکوں کو اینٹی والوں کے حوالے کر دیا جنھیں اینٹی والوں نے کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا۔ خالہ کے سامنے حماد کے منہ سے بے ساختہ نکلا وہ ساتھی بھی میری طرح رابطے میں نہیں ہوں گے! یہ سن کر بڑے بھائی فیروز نے گھبرا کر پوچھا حماد کون رابطے میں نہیں ہوگا اور رابطہ میں کس کو رہنا تھا؟ آخر مجھے بھی تو کچھ بتاو۔ حماد کا چہرہ اُتر گیا اور اس نے بھائی کو ٹال دیا مگر اندر سے کٹ کر رہ گیا۔ ہائے یہ میں نے کیا کردیا؟ کاش میں رابطے میں رہتا؟ کاش میں نے اس دن فون نہ کاٹا ہوتا؟ کاش ! مگر اب سوائے انتظار اور انتظار اور اپنے آپ کو دل ہی دل میں کوسنے کے کوئی چارہ نہ تھا!. 

1992 operation

21 جون کی صبح سویرے جب سب سو رہے تھے تو بڑے بھائی کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی سارے گھر والے گھبرا گئے اور دہلتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو سامنے حمیرا کو دیکھ کر جان میں جان آئی۔ مگر حمیرا کی تو عجیب حالت تھی وہ دوڑ کر اندر داخل ہوئی اور پھر حماد جس سے وہ سب ذیادہ پیار کرتی تھی کیوں کہ وہ چھوٹا بھی تھا بس اس کے گلے لگ کر ایسا روئی کے خدا کی پناہ بس اس کے درد کو محسوس کرنے کے لیے انسانیت کے دل کا ہونا ضروری ہے۔ اپنی چھوٹی بہین کو بلکتا دیکھ کر حماد کو سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ حماد زمین میں گڑ گیا اور دوسرے دونوں بھائی پیروں پر کھڑے نہ رہ سکے تینوں بھائی باہر صحن میں ہی زمین پر بیٹھ گے شائد کمر نے انکے جسم کا بوجھ اُٹھانے سے انکار کردیا تھا۔ حماد نے چیخ کر پوچھا باجی دُلہا بھائی کہاں ہیں تو حمیرا کے منہ سے صرف اتنا نکل پایا کہ وہ تو مجھے بس پر سوار کرکے اُتر گئے تھے کیوں کہ ساتھ میں بیٹھی خالہ بھی حیدرآباد سے لانڈھی ہی آرہی تھیں۔ اسکے بعد حمیرا بے ہوش ہوگئی اور تینوں بھائیوں کے ہوش بھی اُڑ گئے۔ حماد نے ایک نظر بھابھی کی طرف دیکھا اور خاموشی سے ان سے سوال کردیا کہ آپ نے تو کچھ اور کہا تھا! بس حماد نے بھابھی کے چہرے پر جو نگاہ ڈالی تھی اگر نفرت میں کات ہوتی تو شائد بھابھی کا چہرہ اس سے جل جاتا۔

سب ملکر حمیرا کو ہوش میں لے آئے مگر وہ بار بار بے ہوش ہوجاتی اور حماد بار بار یہ سوچتا اگر میں رابطے میں رہتا تو کیا یہ سب ہوتا! میں ایک انقلابی تحریک کا حصہ ہونے کا دعویدار تھا میں اس سے جڑے رہنے کی اہمیت میں اسکی ہدایت پر عمل کرنے کی اہمیت سے کیوں غافل ہوگیا؟

خیر کچھ وقت کے بعد حمیرا کچھ ہوش میں آئی تو حماد نے پوچھا باجی کچھ تو بتاؤ تو حمیرا نے بتایا کہ میں تو 19 جون کی صبح گھر آگئی تھی۔ باہر تالا تھا اور جب میں واپس مڑنے لگی تو فلاں رشتہ دار گلی میں کھڑا تھا اس نے مجھ سے کہا تم گھر میں چلی جاؤ میں تالا توڑ دیتا ہوں پھر اس نے تالا توڑ دیا اور مجھے گھر میں داخل کردیا۔ اسکے بعد حمیرا کہنے لگی بھائی وہ بہت برا ہے بھائی وہ بہت برا اور یہ کہہ کر اسکے آنکھ سے شائد آنسو کے بجائے دل کا خون ٹپکنے لگا۔ حماد نے باجی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اپنے آنسو کو دل میں گھونٹ پی گیا۔ اسکا حلق خشک ہوگیا اور وہ وہاں سے اُٹھ گیا۔ اس کو معلوم تھا کہ وہ اسکا رشتہ دار بھی تھا مگر وہ اینٹی کا علاقائی عہدیدار ہوگیا تھا۔ حمیرا صبح گھر سے کسی طرح دو دنوں کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

حمیرا نے انقلابی تحریک سے وابستہ ایک بہن کا ایسا رول نبھایا کہ بس اس نے ٹی بی پالی لی اور اس کو دوا دینے کے باوجود ہر دن پال کر بڑا کرنے لگی اس نے چھٹے مہینے ٹی بی کو اتنا بڑھا دیا کہ دوا نے بھی اس پر اثر چھوڑ دیا اور حماد کی بہن حمیرا اس سے جدا ہوگئی۔  وہ بڑی غیرت مند تھی خود ہی آنکھیں بند کرکے ایک دن لیٹ گئی اور پھر دوبارہ نہ اُٹھی۔

حماد کی بہن جب تک زندہ رہی بس ایک ہی نوحے کے کچھ مصرے بار بار پڑھتی تھی

نہ رو زینب نہ رو میرے جگر کے ٹکڑے نہ رو

میں کیسے نہ روؤں بابا میں اُجڑ گئی بابا

حماد کو ہمیشہ ایک چیز تنگ کرتی ہے اور وہ ہے ایک اس رابطہ کیوں نہیں رکھا۔ حماد کو دوسری چیز جو سب سے ذیادہ دکھ پہنچاتی ہے وہ اسکی بھابھی کا جواب ہے وہ اتنی نفرت دنیا میں کسی سے نہیں کرتا جتنی اپنی بھابھی سے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s