Urdu Translation of Blog in CNN iReport “Liberty of Life”

MQM rally for Urdu translation of blog

زندہ رہنے کی آذادی

انسانوں کو غیر قانونی اور غیر انسانی طریقے سے لاپتہ کردینا انسانی نسل کی عزت، عظمت اور وقار کی تذلیل ہے۔ کسی بھی شخص کو چاہے حالات یا اس پر الزمات کی شدت کسی ہی ہو لاپتہ کردینا انسانیت کی توہین ہے۔ حالات چاہے کیسے بھی ہوں، چاہے حالت جنگ ہو یا جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہوں، چاہے ملک کے اندر سیاسی استحکام کی کمی ہو یا چاہے کسی طرح کی مفاد عامہ کے لیے ایمرجنسی ہو کسی بھی حالت میں جبری طور پر لاپتہ کردینے کو جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ اقوام متحدے کے چارٹر کے آرٹیکل 1 اور 2 میں اشخاص کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے خلاف تو یہی لکھا ہے۔

اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی نے 18 دسمبر 1998 کو  اپنی قرارداد نمبر 133/47 میں وہی چیزیں منظور کی ہیں جو اوپر بتائی گئی ہیں۔ اس قرار دار پر پاکستان نے بھی دستخط کیا ہے جو بطور ریاست خود جبری طور پر لاپتہ کردینے میں ملوث ہے۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے پاکستان میں کراچی میں جاری ٹارگیٹیڈ آپریشن کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کے عمل سے انکار کو اپنے ریپورٹ کے ذریعے غلط ثابت کیا ہے۔ ورکنگ گروپ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ورکنگ گروپ کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات کا پاکستانی اتھارٹیز نے کوئی جواب بھی نہیں دیا، ورکنگ گروپ نے اقوام متحدہ سے یہ سفارش کی ہے کہ پاکستان حکومت سے اس معاملے کو دوباہ اُٹھایا جائے اور اس کو اہمیت دی جائے۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کے معاملات کوئی نئے نہیں ہیں، یہاں مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان اور کے پی کے سے جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ایسے واقعات کے بڑھنے پر سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار چوہدری نے سو موٹو نوٹس لیا جس پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

ابھی حالیہ چند دنوں میں پاکستان میں لبرل اور جمہوری طور پر چوتھی بڑی جماعت نے کراچی میں پیرا ملٹری فورسیز کی جانب سے جاری ٹارگیٹیڈ آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ کے ایک سئنئر لیڈر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ انکے 200 سے ذیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور 150 سے ذائد کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔ انھوں نے پیرا ملٹری فورسیز کے اہلکاروں پر آئین اور قانوں کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا ہے۔

اس بات کو خاص طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب سے کراچی آپریشن شروع کیا گیا ہے متحدہ اور پیرا ملٹری فورس کے درمیان درجہ حرارت میں بہت ذیادہ اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران پیرا ملٹری فورس کے اہلکار صرف متحدہ کے کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پیرا ملٹری فورس مُٹھی بھر کلعدم جماعتوں کو آذادی سے کام کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ حالانکہ کے پیرا ملٹری رینجرز اس بات سے انکار کرتے ہیں، اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آپریشن مکمل طور پر غیر جانبدارانہ ہے، انکا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران صرف دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ رینجرز کے دعوئے کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ متحدہ ہی دہشت گردوں کے خلاف ایک مضبوط آواز بلند کرتی رہی ہے اور اسی جماعت نے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا۔

موجودہ ٹینشن اچانک اس وقت بڑھی جب پیرا ملٹری رینجرز نے متحدہ کے چار کارکنوں کو جمعے کی رات کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا۔ متحدہ کا دعویٰ ہے کہ چاروں کارکنوں کو رینجرز اہلکاروں نے انکے گھر والوں کی موجودگی میں کئی مہینوں پہلے گرفتار کیا۔ متحدہ نے چاروں مقتولین کو جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے والے کارکنوں کی فہرست میں بھی دیکھایا۔ انھوں نے بتایا کہ ان لاپتہ افراد کی فہرست کو وزیر اعظم جناب نوازشریف کو بھی فراہم کیا گیا تھا۔ اس لسٹ پر کسی کاروائی کے بجائے اس لسٹ میں موجود چار کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ فاروق ستار نے اپنے پریس کانفرنس کے دوران یہی بات زور دے کر بتائی۔

ایسے تمام ممالک جنھوں نے جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کے اقوام متحدہ کی قرار دار پر دستخط کیے ہیں وہ سب کے سب اس پر عملدرامد کے ذمہ دار بھی ہیں۔ پاکستان میں 90 کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کی حکومتوں کے ماورائے عدالت قتل اور جبری طور پر لاپتہ کیے جانے ہی کے الزام میں ہی ختم یا گیا تھا۔ 90 کی دہائی سے لیکر آج تک اس زمانے میں جبری طور پر لاپتہ کئیے جانے والے افراد کے گھروں میں انکے فیملی ممبرز آج بھی انکی واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔

آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی میں امن کے قیام کے لیے جاری آپریشن کو کسی صورت میں متاثر نہیں ہونا چاہیے مگر اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی ماورائے آئین یا قانون اقدامات کسی صورت میں امن کی بحالی کے لیے معاون و مددگار نہیں ہوں گے۔ کراچی کے آپریشن کو شفاف بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کی شدید پامالی کراچی کے مسائل کو مذید بگاڑ دیں گے۔ کراچی آریشن کے دوران اس پر لگنے والے ماورائے قانوں اور آئین اقدامات کی تحقیق کے لیے ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن کا قیام بہت ضروری ہے۔ اس کمیشن سے ٹینشن میں کمی ہوگی اور آپریشن کے نتائج بھی بہتر ہوجائیں گے۔

سویلین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو کراچی میں جاری آپریشن کی سمت اور غیر جانبداری کو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کراچی میں ایک دیرپا امن قائم ہوسکے۔ کیونکہ کراچی میں امن ہی پاکستان کی معاشی خوشحالی کا سبب بنے گا۔

 http://ireport.cnn.com/docs/DOC-1270265

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s