Pakistan turns up heat against powerful party in bid to secure Karachi (Urdu Translation)-Part-II

کراچی پر قبضے کے لیے پاکستان کا سیاسی جماعت کے خلاف انتہائی سخت اقدمات: (دوسرا حصۃ)۔

1

متحدہ قومی مومنٹ کے چاہنے والوں کے لیے جاری آپریشن نے اذیت کا نیا باب کھول دیا ہے۔ وہ گذشتہ کئ دہائیوں سے اس ملک میں جو صرف چند امیرخاندانوں کی گود میں جھول رہا ہے اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں ان کے حقوق نہیں دے رہے ہیں۔ متحدہ قومی مومنٹ کے کٹر ترین مخالف بھی رینجرز کے ظالمانہ اقدامات پر یہ کہہ رہے ہیں کہ رینجرز کو اس پاگل پن سے بعض آنا چاہیے۔ رینجرز کو اپنے پاگل پن کے نتائج کا اندازہ ہونا چاہیے۔

پیپلز پارٹی جس کا متحدہ قومی مومنٹ کے ساتھ اکثر سیاسی لڑائی رہتی ہے، اسکے سینٹر جناب فرحت اللہ خان بابر  کا کہنا ہے کہ سیکوریٹی ایجنسیز کے ایسے تمام اقدامات جو کسی بھی طرح سے سیاسی رنگ رکھتے ہوں اس کے نہایت خطرناک اور دور رس منفی نتائج ہوں گے، ایسا کوئی بھی تاثر نہ صرف یہ کہ  مسئلے کو حل نہیں کرے گا بلکہ یہ امن قائم کرنے کے پورے عمل کو تباہ کردے گا۔

آذادی کے بعد تقریبا” 70 لاکھ کے قریب ہجرت کرنے والے مہاجروں میں سے ذیادہ تر نے کراچی اور سندہ میں ہی رہائش اختیار کی۔ انکا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں پاکستان بنا اسکے مقامی سندہی ، پنجابی اور پٹھانوں نے انھیں ہمیشہ دیوار سے لگایا اور انکے حقوق کو غصب کیا ہے۔

الطاف حسین  جو خود لندن میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ انھوں نے انہی مایوسیوں کی وجہ سے ایک سیاسی جماعت بنائی جس  کی بنیاد ہی عدم تشدد ، سیکولرازم اور جدت پسندی تھی  اس جماعت نے بہت تیزی سے ایک بڑی جماعت کی شکل اختیار کر لی۔

الطاف حسین کے چاہنے والے انھیں حد درجہ عزت و احترام دیتے ہیں۔ انکی قدآدم تصویریں  روشنی کے پول، دیواروں ، دروازوں اور گاڑیوں کی کھڑکیوں پر لگی ہوئی دیکھائی دیتی ہیں۔ انکے مرکزی دفتر پر یہ سب کچھ جا بجاء نظر آتا ہے۔ یہ تحریک اپنے 100000 کارکنوں کے ساتھ مذہبی شدت پسندوں کے خلاف ایک اُمید کی کرن ہے۔

90 کی دہائی میں نواز شریف جو کہ دوسری بار وزیر اعظم بنے تھے اور مرحومہ بینظیر بھٹو دونوں نے آپریشن کی حمایت کی حالانکہ ان دنوں اس تحریک اور اسکی مخالف جماعت کے درمیان زبردست قسم کی لڑائی چل رہی تھی۔ فوجی حکمران پرویز مشرف نے 1999 سے 2008 تک اس تحریک کے خلاف آپریشن کو روکے رکھا۔

جیسے جیسے اس تحریک کو دباؤ  کا شکار کیا جارہا ہے کراچی میں دوبارہ غیر یقینی کی فضا پید ہورہی ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ میں موجود متحدہ کے 35 میں سے ایک رکن پارلیمنٹ علی رضا عابدی  کہنا تھا کہ جتنا ہمیں دباؤ میں لایا جائے گا اور دیوار سے لگایا جائے گا اُتنا ہی لوگوں کو مایوسی ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ میں پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ یہ نسل پرستی اور ہمارے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

جمعرات کی رات واشنگٹن پوسٹ سے انٹرویو ختم ہونے کے فورا” بعد رینجرز  علی رضاعابدی  کے مشہور زمانہ سی فوڈ ریسٹورینٹ گھس گئی اور متحدہ قومی مومنٹ کے آفیشیلز کے مطابق وہاں سے سیکوریٹی مقاصد کے لیے لگائے گئے سی سی ٹی وئ کیمرے اور انکی ایکویپمینٹ لے گئے۔ جبکہ جمہ کے دن پاکستانی میڈیا کہ مطابق رینجرز نے بیان جاری کیا کہ وہاں چھاپہ مارا اور وہاں سے 10 افراد کے قتل میں ملوث ایک فرد کو گرفتار کیا ۔

فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں 4000 ہمدردوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 750 اب بھی گرفتار  ہیں۔40 سے ذیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے اور 20 سے ذیادہ کارکنان اب بھی لاپتہ ہیں۔ جبکہ 200 سے ذیادہ کارکنان کو مخالف گروہوں کے ذریعے ٹارگیٹ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

Urdu translation of washington post july1

47 سالہ شمعون صالح جو کہ پروپرٹی ڈیلر اور متحدہ کے ہمدرد ہیں انھیں ستمبر میں رینجرز نے گرفتار کیا، لیکن کسی عدالت میں پیش نہیں کیا۔ انکا کہنا تھا کہ رینجرز نے مجھے دس دن  تک ایک چھوٹے سے لکڑی کے بکس میں بند رکھا۔

میری تذلیل کی گئی اور مجھ پر بدترین تشدد کیا گیا۔ تشدد کے دوران مجھ سے پوچھا جاتا رہا کہ میں نے کتنے قتل کیے اور کس کے لیے پیسے اکٹھا کرتا ہوں۔

30 سالہ عدنان حبیب نے بتایا کہ رینجرز نے انھیں اور انکے چھوٹے بھائی کو مئی میں انکے گھر سے کراچی یونیورسٹی کے قریب سے جہاں متحدہ کے ووٹر بڑی تعداد میں رہتے ہیں گرفتار کیا ۔  انھیں بھی ایک ہفتے سے ذیادہ گرفتار کرکے رکھا گیا لیکن عدالت میں کبھی پیش نہیں کیا گیا۔

پہلے تو وہ ہمیں بغیر کسی وجہ کے تشدد کرتے  اور مستقل کرتے رہتے ، اور اس دوران بار بار کہتے تھے کہ تم کتنے قتل قبول کرتے ہو تاکہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔ میں نے بار بار کہا کہ میں ایک عام سا کارکن ہوں میں صرف الیکشن کی تیاری میں حصہ لیتا ہوں۔ وہ مجھے تشدد کے دوران بار بار کہتے رہے کہ تم شادی شدہ ہو ہم تمہیں نامرد کردیں گے۔

Advertisements

4 thoughts on “Pakistan turns up heat against powerful party in bid to secure Karachi (Urdu Translation)-Part-II

  1. itna zul kro k bad me brdasht kr sako ……… mahajiru ki wahid numainda jamat ko riyasati taqat k zarye daban band na hua to aik ar sakoot ye mulk dekh sakta.

  2. This is hight of biased, racist and fascist attitude of Rangers, Police and LEA. Muhajirs facing same attitude like Bangalis in East Pakistan in 1971. Bangalis wants his basic rights, history witness that Bangalis wasn’t traitor, but military stablishment and politicians of West Pakistanforcefully embossed label of traitor on Bangalis and their leader. Now exactly same behavior of Stablishment and politicians against Muhajirs and their leadership. This is a dangerous game against the country. This stupid actions against Muhajir community should be stop.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s