Pakistan turns up heat against powerful party in bid to secure Karachi (Urdu Translation)-Part-I

کراچی پر قبضے کے لیے پاکستان کا سیاسی جماعت کے خلاف انتہائی سخت اقدمات:

Urdu translation of washington post july1

دو سال کی کوششوں کے بعد بدنام زمانہ قتل کی وارداتیں آدھی تو ہوگئی ہیں مگر  سیکیورٹی اداروں کے طرز عمل نے ایک طاقتور سیاسی تحریک کو آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے  جس کا عزم ہے کہ وہ کسی صورت میں جھکنے کو تیار نہیں۔

2013 میں جب کراچی میں ریکارڈ کے مطابق 2789 انسانی جانوں کا قتل اور کئی بم دھماکے ہوئے تو وزیر اعظم نواز شریف نے شہر میں پہلے سے موجود پیرا ملٹری فورس جسے عرف عام میں پاکستان رینجرز کہتے ہیں  کو کراچی میں آپریشن کی اجازت دے دی۔ اس آپریشن کا مقصد شہر میں گھناونے غیر قانونی عمل بہتر کرنا تھا جس کی اصل ماں  مذہبی دہشت گرد  اور منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ ہیں، جو شہر ہر صورت میں اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس آپریشن کا ایک اور مقصد ان مجرمانہ گروہوں کا بھی خاتمہ تھا جن میں سے کچھ کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ انکا کراچی میں نہایت اہم کردار رکھنے والی سیاسی جماعت سے بھی تعلق ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں تشدد کے واقعات ایک گہری تقسیم کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

متحدہ کے ذمہ داروں کے مطابق ، شہر میں پچھلے دو سالوں  اب تک  4000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں سے بہت ساروں کا کہنا ہے کہ انھیں ان جرائم پر اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن جرائم کو کبھی انھوں نے کیا ہی نہیں۔ اب پاکستانی اداروں نے اس  سیکولر جماعت کی عرصہ دراز سے فلاحی  ادارے کے فلاحی کاموں کے لیے عطیات جمع کرنے کے عمل پر بھی حملے شروع کردیے ہیں۔

ایک سوال جو شریف حکومت کے لیے پیدا ہورہا ہے وہ یہ کہ کیا رینجرز کی کاورائیاں دو کڑوڑ افراد کے اس شہر میں لسانی اور طبقاتی تقسیم کو مذید بڑھائے بغیر بہت دنوں تک کامیاب رہیں گی۔

1“ہم اس وقت تاریخ کے بدترین اور مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ کیوں کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ دونوں ہمارے خلاف صف آراء ہیں” ۔ ڈیپلومیٹک افئیر کے انچارج جناب فاروق ستارنے متحدہ کے دفتر میں یہ انٹریو دیتے ہوئے کہا۔ “متحدہ کو دیوار سے لگایا جارہا ہے”۔

انٹریو کے صرف 12 گھنٹوں کے اندر جولائی 17، 2015 چوتھے مہینے میں دوسری بار رینجرز گھسی ، اور دو اہم سینئر لیڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ رینجرز نے لاتعداد کارکنوں اور ہمدردوں کو انکے گھروں اور دفاتر سے گرفتار کرلیا۔

حقیقت یہ ہے کہ متحدہ ایک  نہایت متحرک  سیاسی جماعت ہے جو ایسے وٹرز کی خدمت کرتی ہے جو پاکستان میں بے انصافی کا شکار ہیں۔  ان میں سے ذیادہ تر ووٹرز جب 1947 میں پاکستان اور انڈیا دو ملک بنے تو اس زمانے میں ہجرت کرکے آئے۔  متحدہ کے کارکنوں پر بہت سارے لوگوں کو قتل کرنے کا الزام ہے تاکہ قوت کا استعمال کرکے کراچی کو کنٹرول میں رکھا جائے۔

مگر متحدہ کے ایسے  عہدیدار جو انکے قائد تحریک سے رابطے میں رہتے ہیں کہتے ہیں  کہ وہ تشدد کی کاروئیوں کے خلاف ہیں ۔ وہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ کچھ لوگ ہوسکتا ہے کہ تنظیم سے الگ ذاتی طور پر غیر قانونی عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ اتنی بڑی کاروائیوں کے بعد کراچی نسبتا  پہلے کے مقابلے میں بہتر جگہ ہے۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق پچھلے سال شہر میں 1823 اموات ہوئیں جو کہ  2013 کے مقابلے میں 1000 کم ہے۔ اس کے مطابق جنوری سے جولائی 21 تک اموات میں کمی ہورہی ہے اس دوران 554 اموات ہوئیں۔  کراچی میں اس سال رمضان میں ریکارڈ سیل ہوئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف جو کہ کراچی میں متحدہ کو ختم کرنا چاہتی ہے کہ رہنما عارف علوی کا کہنا ہے کہ کراچی میں عوام مطمئین ہے۔

2

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s