Mohajirs Are Terrorists-They Do Not Deserve Justice : Punjab’s Perspective

مہاجر دہشت گرد- انصاف پر انکا کوئی حق نہیں : پنجاب کا نقطہ نظر

(پنجاب سے تعلق رکھنے والے طالب علم کے خیال میں)

اپنے زمانہ اسکول میں 1984 اور 85 سے  ہی میں نے  مہاجر نوجوانوں کو نارویجن سیکنڈری اسکول اورنگی میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے دیکھا۔  مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ یہ نوجوان میدان میں تین لکڑیاں آدھی دفن کرکے ایک لکڑی کےبڑے ٹکڑے سے ایک  چھوٹی سی گیند  پر تشدد کیا کرتے تھے۔ برابر ہی ایک اور میدان میں کچھ لڑکے ہر روز مڑی ہوئی لکڑیاں لیکر ایک سخت سے گیند کو میدان میں لکڑیوں سے مار مار کر تشدد کرنے کا طریقہ سیکھتے تھے۔ ایک اور میدان میں ایک بڑی سی گیند کے ساتھ کچھ لڑکے پیروں سے مار مار کر اپنے پیر مظبوط کرتے تھے۔ برابر میں ہی ایک اور میدان میں کچھ لڑکے ایک اور بڑی سے بال لیکر ایک ٹارگیٹ پر نشانہ لگاتے رہتے تھے اور اس کو باسکٹ بال کا نام دے دیتے تھے۔ بہت پریشانی کا زمانہ تھا اسکولوں میں روز بچے حاضررہتے تھے۔ وہ پتہ نہیں کیا چاہتے تھے جو ہر وقت کتابیں پڑھتے اور اچھے نمبر کے نام پر گھر میں وقت ضائع کرتے تھے۔ ان سالوں میں  بڑی تعداد میں لوگ صبح سویرے اُٹھ کر اسکول کے میدان میں  پہنچ جاتے تھے اور صبح کی نماز کے بعد جو گھمسان کا رن پڑتا تھا کہ بس اللہ کی پناہ کئی لوگ مستقل دوڑتے کئی لڑکے مستقل اپنے جسم کو مظبوط کرتے تھے اور کئی صبح صبح دہشت گردی کی تربیت کے طور پر کراٹے سیکھتے تھے۔ یہ تو صرف ایک میدان کا عالم تھا خدا جانے بقیہ اورنگی میں کیا ہوتا ہوگا۔

یہ کوئی 1985 کی بات ہے کہ اورنگی میں حالات بگڑنے لگے کیوں کہ مہاجر  دہشت گردوں کی مائیں بہنیں بنارس کے علاقوں میں اُتر جاتی تھیں اور  پشتو بولنے والے لوگوں  کے گلیوں میں داخل ہوکر دہشت گردی کرتی تھیں ان خواتین میں سے چند تو اس قدر بڑی دہشت گرد تھیں کہ اللہ کی پناہ کے وہ کچھ گلیوںمیں  جاتیں تو  نوجوانوں کی انسان دوستی دیکھ کر کبھی وہاں سے واپس نہ آئیں بلکہ کچھ بیٹیوں کی لاشیں پشتو بولنے والے نوجوان بنارس کے نالے کے نیچے رکھ جاتے تھے۔ ان  خواتین کے بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ نے بھی کبھی ان کے بارے میں کسی سے نہ پوچھا کبھی جاکر تھانے میں کوئی ریپورٹ نہ درج کرائی ۔اورنگی تھانے میں جاتے توبھی پنجاب کے ایس ایچ او کا منہ دیکھ کر چلے آتے ۔ایس ایچ او  ایف آئی آر کی کاپی لیکر منہ دیکھتا رہ جاتا ۔ حد ہوتی ہے دہشت گردوں کی دید ہ دلیری کی۔

جب  نوجوان لڑکے اور بیٹیاں بنارس سے غائب ہونے لگیں تو  85 میں حالات کچھ ذیادہ بگڑنے لگے۔  اکثر  مجھے میری اماں بتاتی تھیں کہ بیٹا فلاں لڑکی کمانے کے لیے گئی تھی تو واپس نہ آئی اور فلاں دہشت گرد لڑکے  کی گلہ کٹی لاشیں  ملی ہے ۔ تو مجھے ایسا لگتا تھا کہ  یہ دہشت گرد خود اپنے گلے کاٹ لیتے ہیں۔

1986 کے شروع میں اورنگی کے ٹو پہاڑی سے کچھ پشتو بولنے والوں نے مہاجر دہشت گردوں کے علاقے پر حملہ کردیا ۔ پشتو بولنے والے ان معصوم افراد کے پاس معمولی قسم کے کلاشنکوف اور سیون ایم ایم رائفل تھے جبکہ مہاجر دہشت گرد مائیں اپنے بچوں کو چھری دھار کرنے سے بھی منع کرتی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ اس حملے میں کئی کلومیٹر دور تک گھر میں بیٹھی عورتیں بھی اپنے حرکتوں کی وجہ سے ماری گئیں۔ پھر مہاجر نوجوانوں نے کے ٹو پہاڑ اورنگی پر بغیر ہتھیاروں کے قبضہ کیا اور معصوم پشتو بولنے والے مسلح نوجوانوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اس دوران جب تمام لوگ کے ٹو پہاڑ کی جانب متوجہ تھے تو غازی آباد  مہاجر چوک پر ایک معصوم پشتو بولنے والے شخص نے اچانک اپنے چھت پر چڑھ کر گولیاں چلانی شروع کردیں۔ میں آج تک یہ بھلا نہیں سکتا کہ اس دوران اس شخص نے گیارہ مہاجروں کو واصل جہنم کردیا اور جب دہشت گردوں پر فائرنگ کرکے اس کی گولیاں ختم ہوگئیں تو ہم سب حیران رہ گئے کہ اچانک فوج آگئی اور اس معصوم شخص کو نکال کر لے گئی اور دہشت گرد مہاجروں کو درست انداز میں قتل کرنے پر انعام کے طور پر اسے چھوڑ دیا گیا۔

12 دسمبر کو فوج نے جنرل ضیاء کے حکم پر بین الاقوامی دباؤ کے باعث سہراب گوٹھ پر نام نہاد آپریشن کیا  گیاجہاں سے معصوم افغانیوں جو نشہ و اسلحہ کا کاروبار کرتے تھے انھیں بنارس اور قصبہ کے علاقوں میں جمع ہونے دیا گیا۔ 13 اگست  ان معصوم پشتو بولنے والے افغانیوں اور علاقائی لوگوں نے اپنی مسجدوں سے اعلان کرنا شروع کیا جس میں مہاجر دہشت گروں کی آبادیوں پر حملے کے لیے اکسایا جانے لگا۔ حالات کی نزاکت دیکھ کر وہاں فوج تعینات کر دی گئی۔ لیکن  14 دسمبر کی رات فوج اچانک قصبہ اور علیگڑھ سے نکل گئی۔  ہزاروں کی تعداد میں مسلح پشتو بولنے والے نوجوان جنون کے ساتھ بنارس کی پہاڑیوں سے اترنے لگے اور انھوں نے مہاجر دہشت گردوں کے گھروں میں داخل ہوکر انھیں آگ لگانا اور عورتوں کی عصمت دری ، بچوں کو آگ میں جلانا اور نوجوانوں کو قتل کرنا شروع کردیا ۔ فوج صرف ایک کلو میٹر دور سے تماشہ دیکھتی رہی اور جب ان لوگوں کے دل بھر گئے اور قتل و غارت گری کا سلسلہ نا رُکا تو بہت سے دہشت گرد مہاجروں نے اکٹھا ہوکر مزاہمت شروع کردی۔ دہشت گرد مہاجروں نے پرا من افغانیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

حاصل گفتگو کیا ہے!

یہ سارے واقعات اب تو میرے (راقم) ذہن سے مٹ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے شائد  پنجاب ایسے ہی نوجوانوں کو تلاش کرکے ختم کردینا چاہتا ہے جو مہاجروں کی آبادیوں پر حملے پر مزاہمت کرتے ہیں۔ جو اپنی بہن ، بیٹیوں کے عصمت پر ہاتھ ڈالنے والوں کے ہاتھ روکتے ہیں۔ پنجاب ان نوجوانوں کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار نہیں کہ ہم ایسے واقعات  دوبارہ نہیں ہونے دیں گے ۔بس اس  نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کراچی میں جو نوجوان بھی حق کے لیے اُٹھنے کے جراثیم سے متاثر ہے اس کو تلاش کیا جائے اس کو ختم کیا جائے ۔ اتنا خوف ذدہ کیا جائے کہ دوسرے نوجوان ہر ظلم کو برداشت کرسکیں۔ مجھے یقین ہے آج کے جو بچے  نویں دسویں کے طالب علم ہیں وہ آج سے 25 سالوں کے بعد ایسی ہی تحریر لکھیں گے کیوں کہ مہاجروں کا مستقبل تاریک اور اس ریاست میں انصاف کی اُمید دم توڑ رہی ہے۔ پنجاب کا اقبال بلند ہو۔

Advertisements

6 thoughts on “Mohajirs Are Terrorists-They Do Not Deserve Justice : Punjab’s Perspective

  1. بیہ طنز میں ڈوبی ہوئی علامتی تحریر بانیان اکستان کی اولادوں کے خلاف غداری کے مقدمے بنانے والوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے
    اس وقت پاکستانی قوم وقت کے ایک ایسے لمحے سے گذر رہی ہے جہاں اسکی بقا کا فیصلہ ہونا ہے۔ اگر اس وقت بھی فیصلے کرتے ہوئے تعصب و تنگ نظری، نفرت و عداوت او بغض و عناد کو اولیت دی گئی تو پھر مستقبل قریب میں وطن عزیز کی بقا پر ایک سوالیہ نشان واضح نظر رہا ہے

  2. یہ ایک تماچہ ہے مگر مسلسل تماچوں کی ضرورت ہے کہ شائد جنکا کوئی فائدہ نہی
    اندازِ بیاں گرچہ کچھ شوخ نہی ہے
    شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات

  3. مہاجر پناہ گزین نہیں بلکہ بانیان پاکستان ہے ….. اگر مہاجر پاکستان نہیں بناتا تو تمھارے باپ کیا دادا بھی پاکستان نہیں بنا سکتے تھے ….. مہاجر پر ظلم پاکستان پر ظلم ہے …… اے محب وطن پاکستانیوں اس ظلم کو روکو ……. ورنہ سب ختم ہو جائیگا …….

  4. مہاجر اور غدّار … اب بھی وقت ہے مہاجروں کو دیوار سے مت لگاؤ …. مہاجر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں …. مہاجر پر ظلم پاکستان پر ظلم ہے ….. بنگلہ دیش سے بد تر حال ہو جائیگا … سب ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا …….. مہاجر کو دیوار سے مت لگاؤ …. مہاجر بانیان پاکستان ہے …..جنرل راحیل شریف اور محب وطن فوجی افسران اور محب پاکستان توجہ دیں …… خدا کے لیے پاکستان کو بچا لو …………

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s