Story Of King His Highness Nawaz Zardari Shareef

بادشاہ سلامت نواز زرداری مودی شریف کا دور!
2050 میں پنجاب کی ایک درسی کتاب میں ایک بچہ مطالعہ پاکستان میں پڑھ رہا تھا۔
2013-2018 تک کا دور جناب نواز مودی زرداری کا دور تھا۔ اس دور میں ہر طرف امن و چین تھا۔ لوگوں کو پانی کی ضرورت پڑتی تو وہ میٹرو بس پیتے اور کھانے کی ضرورت پڑتی تو موٹر وئے کھاتے تھے۔ یہ سب انواع و اقسام کے من سلویٰ مفت میں میسر تھے۔ ان کے دور میں کبھی کوئی مفلس و غریب نہیں دیکھا گیا۔ انکے دور میں کبھی کسی شہر میں یا ملک میں لوگ قحط (بھوک) یا گرمی کی شدت سے نہیں مرے۔ بادشاہ سلامت بڑے دلسوز و دل گداز شخصیت کے مالک تھے کسی کے مرجانے پر بڑے دکھی ہوجاتے تھے اسی لیے انکی کی کابینہ میں گرمی سے مرنے والوں کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ ان کی سرکار میں کبھی کسی میت کو نہلانے کے لیے پانی کی کمی نہییں ہوئی، کفن کے لیے بے پناہ کپڑا میسر ہوتا تھا اور دفنانے کے لیے مفت میں قبرستان میں جگہ ملتی تھی۔ بادشاہ سلامت نے تین مہینے میں بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تیسرے دن ہی بجلی بن کر گرے اور سارے ملک میں بجلی ہی بجلی پھیلا دی۔
بادشاہ سلامت کی دوستی لوٹ کا مال جمع کرنے والوں سے بہت ذیادہ تھی اسی لیے اور زر رکھنے والے زرداری کی دوستی پر بہت فخر کرتے تھے۔ جب اس ملک میں فوج نے انکے دوست کو کرپٹ کہا تو وہ آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور اپنے دوست کو کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا۔
بادشاہ سلامت کے دور میں ایک تنظیم تھی جسکا نام متحدہ تھا بادشاہ سلامت کو ان بہت نفرت تھی۔ انکی نفرت کی وجہ یہ تھی کہ اس تنظیم کو انکے کماؤ پوت شہر کے سارے باسی پسند کرتے تھے۔ اسی لیے بادشاہ سلامت اس شہر کے رہنے والے ساکنان سے بھی بہت غصہ رہتے تھے۔ اپنے پچھلے دور میں انھوں نے اس تنظیم کو ووٹ دینے والوں کو سبق سکھانے کے لیے 15 ہزار سے ذیادہ شہریوں کو گلی کوچے میں مروایا تھا۔ اسکے لیے بادشاہ سلامت اپنے قصبے سے پولیس اہلکار بھیجتے تھے۔ بادشاہ سلامت اور انکے دوست دونوں ایسے پولیس افسران کو بہت پسند کرتے تھے جو اس شہر میں اردو بولنے والوں کا خصوصا” قتل کرتے تھے۔ بادشاہ سلامت اور انکے دوست ایسے پولیس افسران کو ہمیشہ عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔
بادشاہ سلامت کے درباریوں نے ملکر بار بار کوشش کی کہ وہ اس تنظیم کو ختم کردیں انہوں نے بہت درباریوں کے ساتھ ملکر کئی بار کوشش کی کہ کسی طرح اس شہر پر انکی مرضی کی حکومت قائم ہوجائے اسی لیے انھون نے ایک دن اپنے دیرینہ دوست عمران کے ساتھ ملکر بی بی سی سے ڈاکیومینٹری بنوائی اور 2015 میں اس ڈاکیومنٹری کے نام پر بھی بہت کام کیا تاکہ اس تنظیم کو ان کی نگاہ کے سامنے سے ہٹایا جائے۔
بادشاہ سلامت کے کارناموں میں
رینجرز کی شہر سے محبتیں
پولیس سے ماورائے عدالت قتل
پی پی آئی
اے این پی
جماعت اسلامی
طالبان سے محبت
لشکر جھنگوئی
سپاہ صحابہ وغیرہ وغیرہ
بڑے کارنامے شامل ہیں
2050 میں بادشاہ سلامت اڈیالہ جیل میں آرام کرتے ہیں۔ وہ آج بھی پورے پاکستان میں سڑکوں کا جال بچھانا چاہتے ہیں تاکہ لاشوں کو آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاسکے۔ بادشاہ سلامت کے دل میں آج بھی حسرت ہے کہ کاش شہر کراچی کے لوگ متحدہ کو ووٹ نہ دیتے تو پنجاب پر آج متحدہ کی حکومت نہ ہوتی۔ (از س ج ع)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s