Bitter Reality about Govt. School and Colleges in Karachi-Damage of CAP

کراچی میں  سرکاری  اسکول اور کالجیز  ! ڈوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

کراچی کے اصل نمائندے ایسے اُلجھا دئیے گئے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں ہورہا ہے کے کراچی میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سرکاری تعلیم کے دروازے غریب بچوں پر بند کیے جارہے ہیں۔ پہلے والدین کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے یعنی پرائیوٹ اسکولوں کے پیچھے لگا دیا گیا اور اب کالجیز کی تعلیم کو بھی اس قدر تباہ کیا جارہا ہے کہ والدین ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگنے پر مجبور ہورہے ہیں یعنی پرائیوٹ کالجیز سے تعلیم دلوانا۔ ارے بھئی جو افورڈ کرلے گا چلو اچھا ہے لیکن وہ  50 ہزار بچے جو پرائیوٹ کالجیز کی فیس نہیں دے سکیں گے وہ ہر سال تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گے! یقینا” اس عمل کو ابھی کچھ سال لگیں گے مگر جناب اب دلی دور نہ ہوگی بس کچھ دیر میں ہی سانس اُکھڑنے والی ہے۔

اسکولوں کو یہ کہہ کر تباہ کیا گیا کہ پرائیوٹ سیکٹر بہتر کارکر دگی دکھاتا ہے۔ اس نام پر کراچی سے ذیادہ تر سرکاری اسکول صرف نام کو ہی رہ گئے ہیں وہاں اب اگر کوئی پڑھائی ہو رہی ہے تو اس کو متوسط طبقے کے لوگ پڑھا ئی کی زمرے میں نہیں لاتے۔ یہ اسکول ذیادہ تر کیسیز میں تقریبا ختم ہوچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پرائیوٹ سیکٹر اچھی کار کردگی دکھا رہا ہے تو اس میں برا منانے والی کیا بات ہے۔ تو جناب میری بحث یہ ہے کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی غربت کے ساتھ آخر ہمارے غریب بچے کہاں تعلیم حاصل کریں گے؟  کراچی میں جب سرکاری اسکول ختم ہورہے ہیں تو شہریوں کے لیے ان اسکولوں میں سرکاری نوکریاں بھی ختم۔ اسکول تو اب بھی قائم ہیں کراچی سے باہر کے 90 فیصد  افراد ان اسکولوں میں اب بھی اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے طور پرملازمت کر رہے ہیں ۔ مگر اب اس کو پڑھانا نہیں پڑتا۔یہ لوگ  ملازمت تو یہاں کر رہے ہیں مگر پڑھا نہیں رہے اور تنخواہیں باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں۔ لانڈھی ، ملیر، کورنگی اورنگی جیسے علاقوں کے ہزاروں غریب بچوں کے والدین اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال کر اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکول میں ڈال رہے ہیں اور   جو اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کرسکتے ان کے بچے تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔ یعنی شہر کراچی کے باشندوں کے لیے تعلیمی  ادارے تو موجود ہیں  مگر اساتذہ بغیر پڑھائے اور غیر تدریسی عملہ بغیر کوئی کام کیے یہاں سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ غریب بچہ جو سرکاری اسکول میں پڑھ سکتا تھا اس کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دئیے گیے ہیں تو ہم ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ کیسے اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں؟ کیسے ان اساتذہ کو اس بات پر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی کلاسوں میں پڑھا ئیں؟

سرکاری کالج میں دیر سے ایڈمیشن کے نتائج:

سندہ میں کراچی وہ واحد شہر ہے جہاں پچھلے کچھ سالوں سے سینٹرالائیذڈ ایڈمیشن پالیسی(کیپ)  نامی ڈرامہ چلا کر کالجیز میں متوسط اور غریب بچوں کے لیے بہت مشکل حالات پید ا کیے جارہے ہیں۔ کیپ پالیسی کے تحت ایڈمیشن اکتوبر بلکہ نومبر  تک جاکر مکمل ہوتے ہیں جبکہ پرائیوٹ کالجیز اپنے ایڈمیشن کے عمل کو جون میں نویں جماعت کے پرسینٹج کے بنیاد پر مکمل کر لیتے ہیں۔ جس کے بعد وہ اپنے یہاں باقاعدہ کلاسیں اگست سے شروع کر دیتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت 70 ہزار طلبہ و طالبات جو پرائیوٹ کالجیز میں نہیں پڑھ سکتے ان کے ایک سال کے سیشن کو 4 سے 5 مہینے دیر سے شروع کر کے پرائیوٹ کالجیز کے بچوں سے مقابلے میں پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ کیپ کے پچھلے سال کی ایڈمیشن پالیسی ایک علیحدہ بحث ہے لیکن یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کو برباد کرنے کے بعد اب  باقاعدگی انٹر لیول کی تعلیم میں بھی یہیں ثابت کیا جارہا ہے کہ پرائیوٹ تعلیم ہی بہتر تعلیم کا ذریعہ ہے آئیندہ کچھ سالوں میں ہمارے بچوں کے والدین پرائیوٹ کالجیز کی طرف چلے جائیں گے اور پھر کالجیز بند ہوں گے یا مکمل طو ر پر بیکار ہوجائیں گے۔ تقریبا” 50 ہزار بچے جو پرائیوٹ کالجیز کی فیس ادا نہیں کرسکیں گے وہ ہر سال تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔  سوال یہ پیدا  ہوتا ہے کہ حل کیا ہے تو جناب

کیپ کی پالیسی کو یا تو ختم کیا جائے اس کے اچھے نتائج کے بہانے سے 70 ہزار بچوں کے تعلیمی سیشن کو پرائیوٹ بچوں کے سیشن سے 5 مہینے دیر سے کیوں شروع کروایا کیا جارہا ہے؟

اگر اس کو جاری رکھنا ہے تو کیپ کے تحت بھی داخلے فورا شروع کروائے جائیں اور نویں کی بنیاد پر ایڈمیشن کے عمل کو فائنل کیا جائے جیسے پرائیوٹ کالجیز کرتے ہیں اور بعد میں میٹرک کے ریزلٹ کے بعد کچھ ایڈمیشن کینسل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح  کیپ کے ایڈمیشن  کو فائنل کرنے کے لیے میٹرک کے رزلٹ براہ راست میٹرک بورڈ سے حاصل کیے جائیں اور جو بچے معیار پر نہ پورا اُتریں انکا ایڈمیشن کینسل کر دیا جائے جیسا کہ پرائیوٹ کالجیز والے کرتے ہیں!

blog Aga-Khan-Higher-Secondary-School-Karachi-Admission-2015-Form

انٹر کے سیشن کو ہر صورت میں اگست میں شروع کیا جائے اب بھی 3 مہینے باقی ہیں اس معاملے پر توجہ دی جائے تاکہ 70 ہزار بچوں کے ساتھ انصاف ہو سکے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s