Sindh Teachers Forum, a ray of hope for Quality Education in Sindh

سندھ ٹیچرز فورم دعوت حلیم:  تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کی ایک کوشش

چھ دسمبر 2014 بروز ہفتہ سندھ ٹیچرز فورم کے زیر اہتمام ہونے والی ایک دعوت حلیم میں شرکت کا موقعہ ملا۔ جو میسیج پہلے دیا گیا تھا اس کے مطابق میں اپنے ایک عزیز دوست جناب زبیر احمد مدنی کے ساتھ صبح 11:30 پر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ پریمئر کالج میں یا تو ہم تھے یا پھر طلبہ اور کلاسیں۔ البتہ پنڈال میں اس وقت کئی لوگ بڑی جانفشانی سے انتظامات کو آخری شکل دیتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ لیبر ڈویژن متحدہ قومی مومنٹ ایجوکیشن ونگ کے کارکنان ہیں جو اس دعوت حلیم کے انتظامات میں برابر کی شریک ہے۔قصہ مختصر میں اپنے دوست کے ساتھ انکے گھر چلا گیا اور گھر جاکر انکی علمی قابلیت اور صلاحیت سے مستفید ہوتا رہا۔ ان سے تفصیلی بات کرتے ہوئےیہ خوشگوار انکشاف ہوا کہ وہ نوادرات، پینٹنگ، خطاطی اورنایاب کتابوں کی تحفیظ یعنی کنزرویشن کے ماہراور اس شعبے میں پاکستان کے واحد کنزرویٹر ہیں اور بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین اور متحدہ قومی مومنٹ اور تحریک سے متعلق تمام تاریخی اشیاء و دستاویزات کو آنے والی نسل کیلئے محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے پاس محفوظ اے پی ایم ایس او کے پہلے پمفلٹ کے متعلق بھی بتایا جو گیارہ جون سنہ اٹھتر کو جامعہ میں قائد نے اپنے ہاتھوں سے تقسیم کیا تھا۔ تحریک کے ابتدائی کارکنان میں سے ہونے کے ناتے سے انہوں نے کئی دلچسپ واقعات بھی سنائے اور بتایا کہ کس طرح قائد تحریک خود اپنے ہاتھ سے پریس ریلیز لکھا کرتے تھے اور خود ہی اخبارات کے دفاتر میں دے کر آیا کرتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم خود ہی قائد تحریک کے پمفلٹ اور دوسری چیزوں کو محفوظ کرنے سے ذیادہ اہم کام میں مصروف ہوگئے ہیں۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے جس پر پھر کبھی قلم اُٹھائیں گے۔

ہم دونوں دوبارہ پریمئر کالج میں پہنچ گئے اور یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ وہاں ہر طبقہ فکر و زبان سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ موجود تھا۔ ہم جو یہ سمجھ رہے تھے کہ شائد سندھ ٹیچرز فورم میں اردو بولنے والے یا اس سے بھی بڑھ کر صرف متحدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہوں گے لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس ٹیچرز باڈی نے اپنے غیرجانبدارانہ امیج کو اتنے بہتر طریقے سے منوایا تھا کہ ہر زبان بشمول سندھی پڑھانے والے اساتذہ بھی اس میں شریک تھے۔ وہاں غیر تدریسی عملہ بھی ہر زبان بولنے والے افراد پر مشتمل تھا جس سے متحدہ کے لیبر ڈویژن ایجوکیشن ونگ کے کام اور انکے اعتبار پر اعتبار آگیا۔ جب پروگرام شروع ہوا تو اس میں مہمانوں کے علاوہ مہمانان خصوصی کو دیکھ کر اس فورم کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

اس دعوت حلیم میں ڈائریکٹر کالجز سندھ ڈاکٹر ناصر انصار اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر انعام بھی موجود تھے،وہاں کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب انچارج بھی تھے۔ اسکے علاوہ کراچی کے بڑے نامور پروفیسرز و علمی قابلیت کی شخصیات بھی تشریف فرما تھیں۔ جب پروگرام شروع ہوا تو شپ اونر کالج کے پرنسپل نے اپنے کالج میں روز جھیلتے ہوئے المیے کا بڑے دُکھ سے ذکر کیا کہ کیسے وہ اپنے کامرس کالج کو چلاتے ہیں جب کہ ہزاروں بچوں کے اس کالج میں کامرس کے مضامین کےصرف 5 اساتذہ ہیں جب کہ ان میں سے ایک وہ خود آئیندہ چند مہینوں میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ کرب سے اپنے کالج کا حال بتاتے رہے اور شائد تمام اساتذہ اور ڈائریکٹریٹ کالجز کے عہدیدار بھی انکے دُکھ کو محسوس کرتے رہے۔ پھر کچھ اور تقریروں کے بعد سندھ ٹیچرز فورم کے کو آرڈینیٹر اور اسکے روح رواں جناب پروفیسر عذیر احمد مدنی روسٹرم پر آئے اور انھوں بہت اختصار کے ساتھ کچھ باتیں اپنی تقریر کے ذریعے گوش گزار کیں۔ جس میں انھوں نے یہ بتایا کہ ہمارا فورم بچوں کی تعلیمی معاملات کو بہانہ بناکر ایک ٹیچرز باڈی کے اپنے مطالبات منوانے کا مخالف ہے سندھ ٹیچرز فورم نے امتحانات میں بار بار اپنے مطالبات منوانے کے لیے طلبہ کو استعمال کرکے انہیں نقصان پہنچانے کے عمل کو بند کروایا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کے مسائل حکومت اور اساتذہ کے درمیان کا معاملہ ہے اس کو انہی کے درمیان طے ہونا چاہیے اور انکی لڑائی میں بچوں کے امتحانات،انکی تعلیم اور کلاسوں کا بائیکاٹ نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہماری اسی کوشش کے باعث اب طلبہ و طالبات کو  کلاسوں کے بائیکاٹ اور امتحانوں کے بائیکاٹ جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہ لیا جائے کہ ہم ٹیچرز کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے بلکہ انھوں نے بتایا کہ  آپ دیکھیں کہ جب بھی ٹیچرز نے اپنے مطالبات کے لیے کسی بھی طرح کی کوشش کی ہم ان تمام کوششوں کے ہر اول دستہ رہے ہیں اور ہر بار ہم ہی افرادی و ذہنی قوت فراہم کرتے ہیں۔ ہم ہر اس تحریک یا ٹیچرز باڈی کے ساتھ کھڑے ہیں جو ٹیچرز کےمسائل حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہر بار جب ٹیچرز کا معاملہ آتا ہے آپ سندھ ٹیچرز کے ارکان کو سب سے آگے پائیں گے۔ پروفیسرعذیر احمدمدنی نے بحیثیت کو آرڈینیٹر اس بات پر ٹیچرز فورم کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سابق وزیر تعلیم سندھ کے مخصوص علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے مخالف ہیں اور یونیورسٹیوں کے قیام کے بھی۔ جس پر وہاں موجود تمام اساتذہ نے بھی انکی تائید کی۔ پروفیسرعذیر احمدمدنی نے سندھ ٹیچرز فورم کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر حیدرآباد میں ایک نجی ادارے کی جانب سے یونیورسٹی کے قیام میں کوئی روکاوٹ ڈالی گئی تو سندھ ٹیچرز فورم کھل کر اسکے خلاف ہر محاذ پر تحریک چلائے گی۔ پروفیسرعذیر احمدمدنی نے سندہ ٹیچرز فورم کی جانب سے ایک بڑی خوشگوار بات کی۔ انھوں نے کہا کہ سندھ ٹیچرز فورم اپیل کرتا ہے کہ خدارا اندرون سندھ نئے کالجز بنائے جائیں اور وہاں ٹیچرز بھی تعینات کیے جائیں کیوں کہ اندورن سندھ کالجز کی تعداد بہت کم ہے وہاں تعلیم کے مواقعے بھی کم ہیں۔ انھوں نے کہا یہ اندرون سندھ کے طلبہ کے ساتھ نا انصافی ہے کہ آپ ٹیچرز تو وہاں پر اپائنٹ کرتے ہیں لیکن انکو کراچی میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں جس سے وہاں کے طلبہ و طالبات کو تدریس کیلئے اساتذہ میسر ہی نہیں ہیں۔

ڈپٹی ڈائیریکٹر جناب پروفیسر انعام صاحب کی بہت ساری باتوں میں ایک بات بہت اہم تھی جس میں انھوں نے بھی دبے لفظوں میں اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اساتذہ کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ خالصتا” تعلیم کا معاملہ ہے مگر سیکریٹریٹ نے اس کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے جس کے باعث اگر اساتذہ کی کم تعداد کو درست پوسٹنگ سے کچھ حد تک کم کیا جاسکتا تھا تو وہ بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کیسے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مزید اس پر بات نہیں کرسکتے ہاں البتہ یہ ضرور کہیں گےکہ غیر تدریسی عملے کی ٹرانسفر ان کے دائراہ اختیار میں ہے اگر کسی پرنسپل کو بھی کوئی غیر تدریسی عملے کے مسائل ہیں تو وہ ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انھوں نے کالجز میں آنے اور جانے کے سرکاری اوقات کار کا ذکر کیا۔ انھوں نے اس بات کی اپیل بھی کی کہ کلاسوں کا باقاعدگی سے انعقاد ممکن بنانے میں فورم اپنا کردار ادار کرے۔ پروفیسرعذیر احمدمدنی نے ٹیچرز فورم کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا کہ ایسے تمام اساتذہ جو باقاعدگی سے کلاسیں نہیں لیں گے ان سے فورم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، نہ فورم نے پہلے کبھی ایسے اساتذہ کا ساتھ دیا ہے نہ مستقبل میں کوئی ایسا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈائریکٹریٹ کالجز سندھ ڈاکٹر ناصر انصار نے جہاں بہت سی باتیں کیں وہیں ایک بات یہ بھی بتائی کہ انہوں نے محکمہ تعلیم کو یہ پروپوزل بھجوایا ہے کہ آپ جب بھی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے معاملات پر عمل درآمد کریں اس کے دوران کالجز میں اساتذہ کی ضرورت کے مطابق اور سبجیکٹ کے لحاظ سے پوسٹنگ کریں جس پرمحکمہ تعلیم نے عملدرآمد کا وعدہ کیا ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ بہت جلد جب نئے ٹیچرز کی پوسٹنگ ہوگی تو ان باتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ اسکے علاوہ متحدہ لیبر ڈویژن کے ایجوکیشن ونگ کے عہدیدار نے بھی خطاب کیا۔ تقریب حلیم کی شاندار ضیافت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ میرے لیےاس تقریب میں شرکت نے ایک خوشگوار تاثر چھوڑا۔ میں اب یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اساتذہ کو سندھ ٹیچرز فورم میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے تاکہ وہ تعلیم کی بہتری میں اپنا بھرپور کر دار ادا کر سکیں۔

Advertisements

2 thoughts on “Sindh Teachers Forum, a ray of hope for Quality Education in Sindh

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s