Will Marriage contract between State and Terrorist Organization extend to ISIS!

دہشت گردوں کے ساتھ ریاست کادوستانہ رویہ اور آئی ایس آئی (داعش)۔

چشم فلک حیران ہے کہ روئے زمیں پر کوئی ایسی ریاست دیکھائی نہیں دیتی جو اپنی ہی عوام کو اپنی شعوری کوششوں سے قتال کے لیے دہشت گردوں کے حوالے کردے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف تویہی ریاست اعلان کرتی ہے کہ لشکر طیبہ، جیش محمد، لشکر جھنگوی، اہل سنت والجماعت جیسی جماعتیں کلعدم ہیں۔ مگر پھراُسی سانس میں ان تمام دہشت گرد جماعتوں کو کبھی آذادی سے اور کبھی چوری چھُپے کام کرنے کی اجازت بھی دیتی ہے۔
اب اس معاملے کو ثابت کرنے کے لیے کسی راکٹ سائینس کی مشکل تھیوری کی ضرورت نہیں کہ لشکر جھنگوی اور اہل سنت و الجماعت نہایت دیدہ دلیری سے شیعہ کمیونٹی خصوصا ہزارہ شیعہ کے قتل میں نہ صرف یہ کہ مصروف ہیں بلکہ نہایت دیدہ دلیری سے اس قتال کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ اب تو شائد لفظ حیرت بھی حیرت میں ہے کہ پھر بھی ان دہشت گرد جماعتوں کو اپنے دفاتر کھولنے اور دہشت گردی کے ٹریینگ دینے کے لیے تمام تر سہولیات پورے پنجاب، سندہ اور بلوچستان میں حاصل ہیں۔ ریاست کے بہت سارے کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی ہے ریاست ان دہشت گرد جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ سہولیات فراہم کررہی ہے بلکہ بعض اوقات انکے رہنماوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی با احسن و خوبی کما حقہُ انجام دیکر فخر سے اپنی گردن آسمان کی اس بلندی پر ٹانک رہی ہے جس کو آج تک کسی جہاز کی اُڑان نے بھی چھونے کی ہمت نہ کی ہو۔ ملک اسحاق کے بارے میں پنجاب حکومت کا رویہ ایسے ہی میزبان کا ہے جس نے اپنے مہمان کی خاطر داری میں کو ئی کثر نہ چھوڑی ہے۔ جب اسکی ہی جماعت میں اسکے خلاف لڑائی شروع ہوئی تو اس کو گرفتار کرکے محفوظ کردیا گیا اور جب وہ خطرہ ختم ہوگیا تو اس کوخاموشی سے رہا کردیا گیا۔ ریاست نے ایک اور بڑا کارنامہ جو انجام دیا وہ یہ تھا کہ اس دہشت گرد کے لیے کوئی بہتر کیس فائل نہ کیا نتیجا وہ باعزت طریقے سے رہا ہوکر معاشرے کا باعزت شہری بن گا اور دہشت گرد اَمر ہوگیا۔
پاکستان میں ریاست کے قدرتی آفات حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت کے ختم ہوجانے یا کمزور پڑجانے کے نتیجے میں میں ایک بہت ہی افسوس ناک رویہ پیدا ہورہا ہے۔ اور دہشت گرد تنظیمیں ریاست کے اس غیر موثر ہونے کو اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ اب ان تنظیموں نے عوام الناس میں اپنی خوبصورت شکلیں پیش کرنا شروع کردی ہیں۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کلعدم تنظیموں نے حب الوطنی کی ایسی چادر اوڑھ رکھی ہے کہ کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ انھیں چھونے کی جرائت نہیں کرسکتا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح دہشت گردوں نے ریاست کی اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے کو بھی منافع بخش بنا کر اپنے لیے استعمال کرنا سیکھ لیاہے۔ 2010 کے بدترین سیلاب کے دوران سندہ میں غیر موثر ریاست نے ان تنظیموں کو جڑیں پکڑنے کے لیے تمام مواقعے فراہم کیے۔ سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد نے ریاست کے بجائے لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے ذریعے امدادی سہولتیں فراہم کرنے کے عمل کو دیکھا جس کو ریاستی اداروں کی پوری مدد حاصل تھی۔ جس طرح کی مشینیں اور سہولیتیں لشکر طیبہ نے وہاں استعمال کیا ایسی سہولیتیں اور مشینیں تو ریاست کے اپنے پاس بھی نہیں ہیں۔ امداد دینے کے دوران لشکر طیبہ نے اپنے نظریات کا پرچارکیا۔جس طرح لشکر طیبہ نے ہر روز لوگوں کو لیکچروں اور پمفلٹ کے ذریعے انھیں شدت پسند ی کے رُجحانات پر مائل کیا وہ ایک الگ کہانی ہے!
ایک اور شدت پسندتنظیم اہل سنت والجماعت ہے جو نہایت ہوشیاری سے میڈیا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔ حالانکہ یہ جماعت بھی کلعدم ہے مگر ہمارے آذاد میڈیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اس تنظیم کو آفات میں مدد فراہم کرنے پر ذیادہ سامنے لاتی ہے اور کبھی کبھار اسکی دہشت گردی کو سامنے لاتی ہے۔ یہاں تک کے بہت سے پروگریسو میڈیا کے دوست آذادی اظہار رائے کے نام پر ان دہشت گردوں کو میڈیا پر لانے کو بُرا نہیں سمجھتے ہیں۔ کسی کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہر ہفتے پورے اسلام آباداور کراچی کی سڑکوں کے پولوں پرایک دن میں نئے جھنڈے لگا دئیے جاتے ہیں۔
اہل سنت والجماعت کانام رکھکر اپنے دہشت ذدہ کردینے والے آئیڈیلوجی کے باوجود اس جماعت نے بہت سارے عام افراد کو دھوکہ مییں رکھا ہوا ہے۔ اہل سنت وہ فرقہ ہیں جو صوفیوں اور بزرگوں سے محبت کرتا ہے۔
امریکہ میں 9/11 سے پہلے یہاں پاکستان میں ایسا ہی غدر مچا تھا۔ طالبان افغانستان پر قابض تھے اور پاکستان میں خوشیوں کے بہار کھِل رہے تھے۔ یہاں کے اخبارات طالبان کے کارناموں اور ان کی دیومالائی بہادری کی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے۔ بلکہ ایک وقت تو ایسا آچکا تھا کہ اُسامہ بن لادن کو خواب آنے لگے تھے کہ بس اب مسلمانوں کا غلبہ ہونے والا ہے۔ اور اتحادیوں کے افغانستان پرحملے سے پہلے پاکستان میں کئی اخبار اور رسائل اس بات کی اشاعت کر رہے تھے کہ بس قیامت قریب ہے عرب سے ایک مسلمان قیادت کررہا ہے اور غلبہ اسلام بس ہونے کو ہے۔ پھر سب کچھ بدل گیا پتہ نہیں اُسامہ کو کب مار دیا گیا اور ان کی لاش کو کہاں دریا بُرد کردیا گیا۔ ہاے مسلم تیری اپنی تاریخ سے ناواقفیت نے تجھ پر کیا کیا ظلم نہ ڈھائے مگر ہاے تیری یاداشت کے اب تجھے داعش کے صورت میں غلبہ اسلام اتنے قریب دکھائی دے رہا ہے کہ اگر اتنے قریب سے ایک نقطے کو بھی دیکھے تو پہاڑ دکھائی دے۔ بس نظر کی درستگی کا المیہ ہے جو جس کا شکار مسلم معاشرہ اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست ہے۔ حیرت انگیز طور تمام اسلامی قوتیں جن میں کلعدم تنظیمیں شامل ہیں وہ داعش ہی کے فلسفہ اسلامی ریاسست کے مطابق ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدو جہد کر رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فی الحال کسی کو اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں کہ آئی ایس آئی ایس یہاں کس طرح سے اپنی جڑیں مظبوط کرتی ہے۔ سب انکی قتل و غارت گری کی مخالفت کرتے ہیں مگربہت سے لوگ اس کو کامیاب ہوتا بھی دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ انکے خیال میں مغرب کو سبق سکھانے کا ایک بہترین ہتھیار ہیں داعش۔ کچھ کا خیال ہے کہ قیامت قریب ہے اور داعش کی شکل میں قیامت سے پہلے کے تمام آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ جس میں مسلمانوں کی حکومت تمام روئے زمین پر قائم ہونے جارہی ہے اور اسلام کے پورے دنیا پر غالب آنے میں داعش ہی مددگارہوں گے۔
اس بات کے قطعہ نظر کے یہ دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور پاکستان کی افواج کے خلاف کس طرح کے جذبات رکھتی ہیں، انھیں یہاں کام کرنے ، اپنے نظریے کی ترویج و اشاعت کی کھُلی آذادی ہے۔ایک طرف تو ریاست نے انھیں کلعدم قرار دیا ہے لیکن انھیں روکنے کے لیے کہیں کو ئی کوشش یا عملی اقدامات نظر ہی نہیں آتے ہیں۔
ہر بار ریاست جب پہلے والے دہشت گرد گروہ کو کنٹرول کرنے کے لیے نیا ذیادہ طاقتور گروہ بناتی ہے تو شائد وہ یہ بھول جاتی ہے کہ آنے والا گروہ پرانے گروہ سے ذیادہ طاقتور اور خطرناک ہوگا۔ شائد ریاست کو غلط فہمی ہے یا پھر ریاست غیر حقیقی خود اعتمادی کا شکار ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ نئے خطرے سے بہتر طور پر نمٹ سکے گی چاہے وہ داعش جیسے خطرناک گروہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا ریاست اب یہ سوچ رہی ہے کہ وہ داعش سے نمٹنے کے لیے نئے دہشت گروہوں کا ایک اتحاد ترتیب دے گی تاکہ ان سے نمٹا جاسکے۔ خدا کی پناہ ہم جنھیں داعش کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ سب کے سب پہلے ہی یا تو ہی داعش کے ساتھ جاچکے ہیں یا پھر وہ داعش کے ساتھ اتحاد کا سوچ رہے ہیں۔
ایک سئینیر جرنلسٹ نے ایک دہلا دینے والی بات بتائی ہے۔ حالانکہ یہ بات بہت دور کی کوڑی لانے جیسے دکھائی دیتی
حل کیا ہے؟
پاکستان کو اگر قائم رہنا ہے تو عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب طالبان کا فتنہ سر اُبھار رہا تھا تو بھی متحدہ کے قائد نے وقت سے پہلے یہ بتا دیا تھا کہ اس سنپولیے کو کُچل دو مگر افسوس صد افسوس کے یہاں کسی نے نہ توجہ دی نہ بات سنی ۔ آج پورا پاکستان طالبان کی لگائی آگ سے خاک و خون میں نہا گیا۔ جو کارنامے داعش کے ہیں اور جو انکا انداز حکومت ہے اس میں وہ مخالفین کی بستیوں کو تاراج نہیں کرتے بلکہ اس میں رہنے والے ہر ذی شعور کی ذبح کردیتے ہیں ۔ اسکے باوجود پاکستان میں داعش کے لیے نرم جذبات کا پایا جانا اور متحدہ کے زیرک قائد کا دوبارہ نقارخانے کے شور میں مسقتل اپنی آواز بلند کرکے انھیں زہر کے اس پیالے کو پینے سے منع کرنا ایک معجزہ سے کم نہیں ۔ مگر قوم موسیٰ کو اپنے من سلویٰ کی عزت کرنے کی عادت نہیں۔ عذاب ہی اسکا مقدر ہے۔ یہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں بس یہ پہلے دسویں کی تعداد میں مارے جانے کو قبول کرتی رہی ہے لگتا ہے اب یہ قوم و ریاست ہزاروں کی تعداد میں بھی قتل ہونے کو فرقے کی بنیاد پر قبول نکاح کے طور پر تیار ہے۔ اللہ اس قوم پر رحم کرے یا اس کے صاحب حکمرانوں کو غارت کرے۔

ISIS pics2 ISIS pics3 ISIS pics4 ISIS pics5 ISIS pics6 ISIS in Karachi

Advertisements

One thought on “Will Marriage contract between State and Terrorist Organization extend to ISIS!

  1. سید حنید علی کی یہ تحریر میں نے حرف بحرف پڑھی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد میں شدید تشویش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ اگر کسی ملک میں دہشتگرد اپنی کارروایئاں کررہے ہوں اور وہاں کی حکومت ان سے اپنی بھرپور ریاستی طاقت کے ساتھ لڑ رہی ہو تو پھر تو کوئی بات نہیں لیکن جب دہشتگردوں کو ریاست ہی تحفظ فراہم کرنے لگے اور ان کو انکی ناپاک کارروایئوں کیلئے مدد بھی فراہم کرنا شروع کردے تو پھر ایسی ریاست کے روئے زمین سے ناپید ہوجانے کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے یہاں یہی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ انتہائی افسوس کی اور تشویش کی بات تو یہ ہے کہ ملک کے خیر خواہوں اور وطن سے محبت کرنے والوں کو دیوار سے لگانے کا عمل اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کے انتباہ کو تواتر کے ساتھ نظر انداز کیا جارہا ہے جس سے اس تکلیف دہ احساس کو تقویت ملتی ہے کہ ریاست میں ایسے عناصر اہم ترین عہدوں پر قابض ہوچکے ہیں جہاں وہ دہشتگردوں کو پناہ ہی فراہم نہیں کررہے بلکہ وہ الطاف حسین جیسے محب وطن رہنما کے وجود کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں اور اسی لئے انکے بار بار انتباہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں۔
    سید جنید علی صاحب نے یہاں ایک اہم پہلو کو مختصر طور پر بیان کیا ہے جسکے لئے میں جنید صاحب سے ایک الگ بلاگ لکھنے کی استدعا کرں گا اور وہ یہ کہ ریاست کا چوتھا ستون یعنی صحافت بھی ان دہشتگردوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن چکا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s