Blind Faith on Qaid-e-Tehreek

قائد پر اندھا اعتماد

زمانہ جاہلیت میں بھی یہ روایت موجود تھی کہ مذہبی عبادات پر روکا نہیں جاتا تھا۔ 1400مسلمان اسی روایت کی پاسداری میں پوری تیاری کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لیےمکہ کی جانب چل پڑے۔ انھوں نے اپنے نبی ﷺکے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر پڑاو ڈالا ۔ وہاں انھیں بتایا گیا کہ قریش انھیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے آنے کا مقصد قریش کو کہلوایا تو انھوں نے اپنا ایک نمائندہ بھیج دیا جس نے نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی سے بات کی۔حالانکہ بعض جلیل القدر صحابیوں نے اس پر اعتراض کیا مگر نبی کریم ﷺ کے حکم پر اُسے جانے دیا گیا۔ جب نبی کریم ﷺنے اپنا نمائندہ قریش کے پاس بھیجا تو انھوں نے ان کے قتل قصد کیا وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر واپس آئے۔ اس پر بھی بس نہ کیا گیا بلکہ قریش نے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے 40 افراد کا لشکر بھیجا جو صحابہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ۔ جب ان افراد کو پکڑ کر بنی کریم ﷺکے سامنے پیش کیا گیا تو نبی کریم ﷺنے اپنی دانش کے مطابق برداشت کا رویہ اپنا یا اور ان لوگوں کو چھوڑ دیا۔
مگر جب نبی کریم ﷺکو اس بات کی اطلاع دی گئی کے قریش نے آپ کے پیغام رساں حضرت عثمان غنی کو شہید کردیا ہے تو پھر نبی کریم ﷺنے برداشت اور صحیح وقت کے انتظار کو جنگ پر ترجیح دینے کا قصد کیا اور تمام صحابہ سے ایک درخت کے نیچے قصاص عثمان غنی پر بیعت لینا شروع کردیا ۔ لیکن حضرت عثمان غنی کے شہادت کی خبر درست ثابت نہ ہوئی اور وہ زندہ و سلامت واپس آگئے۔ قریش کو مسلمانوں اور ان کے نبی ﷺکے مصمم ارادوں میں جب کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دی تو انھوں نے معاہدے کی پیش کش کردی۔
معاہدہ لکھا جارہا تھا او ر علی ابن ابی طالب اس کو اپنے ہاتھ سے لکھ رہے تھے۔ مندرجات کی ابتدا  بسمہ اللہ الرحمٰمن الرحیم سے کی گئ جس پر قریش کے فریق سہیل بن عمرو نے اعتراض کردیا ۔ نبی کریم ﷺنے باسمائے اللھم لکھوادیا۔ سہیل بن عمرو کی خواہش پر عمل درامد کے بعد جیسے ہی حضرت علی ابن ابی طالب نے آگے لکھا کہ ” یہ معاہدہ محمدالرسول اللہ اور سہیل بن اعمر وکے درمیان طے پا رہا ہے “۔ سہیل بن عمرو چیخ پڑا ہمیں محمد کے اللہ کا رسول ہونے پر اعتبار نہیں اس لیے اس لفظ اللہ کے رسول کو مٹا دیا جائے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے حضرت علی ابن ابی طالب کو ایسا ہی کرنے کا فرمایا تو علی ابن ابی طالب نے بصد احترام فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺمیرے ہاتھوں میں وہ سکت نہیں کہ میں آپ ﷺکے نام کے سامنے سے اللہ کے رسول کے الفاظ کو مٹا دوں۔ سناٹا طاری تھا اور کسی میں اتنا بڑا قدم اُٹھانے کی ہمت بھی نہ ہورہی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺنے برداشت کو ترجیح دی اور اپنے صحابہ اور علی ابن ابی طالب کو مذید امتحان میں ڈالے بغیر اپنے ہاتھوں سے ان الفاظ کو مٹا دیا۔ اس کے بعد معاہدے کی تمام شقیں لکھ دی گئیں۔
معاہدہ ہوگیا اس کی کئی شقوں پر مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ ان کے لیے یہ بات قابل ہضم نہ تھی کہ قریش کا کوئی بھی فرد جب چاہےمدینہ جاسکتا ہے اور واپس مکہ بھی آسکتا ہےاور اگر کوئی نہ آنے چاہے تو اسکا ولی اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اگر ولی مطالبہ کرے تو اسے واپس کردیا جائے گا۔ جبکہ اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ چلاجائے تو قریش اسے واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے یہاں تک کہ اگر محمدﷺ بھی اس کا مطالبہ کریں۔
مسلمانوں میں اس بات پر بھی بے چینی تھی کہ انھیں اسی سال عمرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور معاہدے کے مطابق انھیں مکہ سے بغیر حج کیے واپس جانا تھا۔ جبکہ وہ تمام تر تیاری کے ساتھ اس عبادت کو ادا کرنے کے ارادے سے آئے تھے۔
مسلمانوں میں اس معاہدے کے بعد بھی بہت ذیادہ بے اطمینانی رہی۔ وہ اس کے آئیندہ کے اثرات کے بارے میں بہت ذیادہ فکر مند تھے لیکن محمد مصطفٰی ﷺنے معاہدے کی ہر شق کی پابندی کرنے کا حکم دے دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی ﷺکی دوربینی اور بہتر انداز فکر و موقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت تمام مسلمانوں کو حیران کر گئی۔ معاہد ے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں قریش کے افراد مدینے میں آنے لگے اور جب وہ یہاں کے رہن سہن کو دیکھتے تو متاثر ہوتے اور ان میں سے بعض مسلمان بھی ہوئے جن مسلمانوں کو قریش نے واپس مانگا جب معاہدے کی پاسداری کے نتیجے میں انھیں واپس کیا گیا تو ان مسلمانوں نے تمام تر مصائب برداشت کیے مگر اسلام پر کاربند رہے جس سے انھوں وہاں قریش کے بہت سے افراد کو متاثر کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مسلمانوں کا عرب کے دوسرے علاقوں پر ایک مثبت تاثر اُبھرا۔ مسلمانوں کو اپنی طاقت اور تعداد دونوں کو بڑھانے کا موقعہ ملا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال مسلمان مکہ میں عمرہ کے لیے داخل ہوئے اور اسکے بعد قریش کے ایک قبیلے بنو بکر نے مسلمانوں کے ساتھ دوستی والے قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا جس کے بعد یہ معاہدہ ختم ہوگیا ۔ معاہدے کے ختم ہونے کے بعد مسلمانوں نے مکہ فتح کرلیا۔
راقم آگے جو کچھ کہنے جارہا ہے شائد بہت سے لوگ اس پر فتویٰ لگادیں گے مگر اس کے باوجود راقم اپنی بات کہنے پر کسی خوف کا شکار نہیں۔ شائد جدید دور کے انسانوں نے اپنے لیڈروں کے احترام کے بہت سارے پہلو انھی واقعات  سے اخذ کیے ہیں ۔بس فرق صرف یہ ہے کہ وہ کچھ مجبوریوں یا مذہب کو ملا کی اوطاق کی باندی دیکھ کر خوف سے اس کے ساتھ سنت کا لفظ نہیں لگاتے ۔ عالم یہ ہے کہ امیر کا احترام اور اسکی رائے کو اولیت حاصل ہے جیسے الفاظ ان ہی وقعات سے سیکھے جانے کی گواہی دیتے ہیں۔ ملک میں تحریک کے ساتھ اور اس سے وابستہ کارکنوں کے ساتھ آج کل بہت سے واقعات ایسے ہورہے ہیں جو نووارد کارکنوں کے لیے نا سمجھ میں آنے والے ہیں۔ ان کی عقل حیران ہوتی ہے  کہ
دھرنے دیے تو سارے کارکن رہا کرائے بغیر دھرنے ختم کیوں کردئیے۔
حکومت سے مل کچھ نہیں رہا تو حکومت میں بیٹھے کیوں ہیں۔
دیوار سے لگائے جانے پر اعلان بغاوت کیوں نہیں ۔
ان کارکنوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ضرورت کے وقت تو نبی کی ذات نے بھی برداشت کا مظاہرہ کیا، اس وقت کا انتظا ر کیا جب مسلمان طاقتور ہو جائیں، انکی تعداد بڑھ جائے اور صلہ بھی ملا۔

نوواردوں کو اس سنت کو اپنانا ہوگا اور قائد کے دور اندیش فیصلوں اور قوت برداشت کو برداشت کرنا ہوگا۔ انھیں قائد پر اندھا اعتماد کرنا سیکھنا ہوگا تب ہی انھیں فتح نصیب ہوگی۔ مکمل فتح۔
باقی باقی——–

Advertisements

2 thoughts on “Blind Faith on Qaid-e-Tehreek

  1. سید جنید علی کا ،یہ مضمون ہمارے تمام ساتھیوں اور قائد کے چاہنے والوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ انہیں چاہئے کہ اس مضمون میں بیان کئے گئے نکتے کو سمجھیں اور اپنے قائد پر بھرپور اعتماد ہمیشہ قائم رکھیں۔ یہی کامیابی کی راہ ہے۔ صاحب تحریر کو اتنا اچھا بلاگ لکھنے پن خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ہی مضامیں لکھتے رہیں گے۔

  2. sahib-e-raqim bora na manaieye ga plz, daraj e bala tehrer main AAP[S A W W] k dour ka tazkarah kia hai or yaqenan tamam waqiaat durust hain sirf nam ke islah kar lain MUSLIM[ farman bardar] na k mosalman ab es apnay poaray balog ko lfaz mosalman k bajaey Farman bardar k nam say pardhain baat samajhnay or samjhanay main aasani payda hojaey ge aap k kehny ka maqsad bhi ye he hai k Farman bardare karain aankhain band kar k anjam ke parwah keye bina . es mosalman qoom ko aik bohat bardi islah ke zarorat hai es ka asal nam or moqam es ko lotana hai QeT Altaf Hussain bhai esi maqsad ko pora karnay k leye zameen par mosalmano k darmeyan bhayjhay gaey hain , zara ghoor karain MQM k karkonan ka naaraa Qaid k farman par jan bhi qurban hai matlab ye k Altaf bhai sekha he farman bardare rahay hain , janab ye aik bohat bardi sazish k tayhat MUSLIM main AN dal dia gaya hai jis say es ke shakal he tabdeel ho gaei ye bikul ulat ho gaya yani, na farman , amli shakal mosalman ke aap k samnay hai aik or ayhum baat lafz mosalman ke moannus bhi nahe hai jab MARD o Owrat main Allah nay tafreeq rakhi hai or pokara bhi motafariq lafzo main hai MUSLIM or MUSLIMAH MOMIN or MOMINAH mosalman owrat ko kia pokaro gay k Allah ka naib tou MUSLIM bana na k MUSLIMAH , aik baat or , kisi bhi lafz ke shakal os k amal say zahir hoti hai , so ghoor karain ye aik farman bardar bhai ke aap ko solah hai ye samaj aanay k baad aaj hum Al Humdulilah Muslim kehalaey jatay hain or nazar bhi aaty hain Allah bhi mil gaya or Allah ka AMAL bhi mil gaya salamti ho Allah k Amal par Allah ke

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s