Do We Know the Worth of A True Leader: Urdu Translation of Akbar’s Blog

کیاالطافیوں کو حقیقت پسنداور عملیت پسند قائد کی  اہمیت کا اندازہ ہے

“میرے ساتھیوں جب میں نے آپ کے ہاتھوں میں امانت ، آپ کے ہاتھوں میں ذمہ داری یہ کہہ کر دے دی کہ اس کا ناجائز استعمال نہ کرنا ۔۔۔۔۔ لیکن یہ اختیار بدقسمتی سے پسند اور ناپسند میں کنورٹ ہوگیا۔ سیکٹر انچارج پسند والا، جوائنٹ بنا پسند والا ، یونٹ انچارج پسند والا ۔۔۔۔ ایم پی اے اور ایم این اے کی بھی اگر بات ہورہی ہے تو قسمیں اُٹھا اُٹھا کر پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ (قائد تحریک کی تقریر سے اقتباس)”

میں اس تحریک کو 35 سالوں سے چلا رہا ہوں،  میں جیل گیا، بدترین تشدد برداشت کیا ، قید تنہائی کاٹی ، اور ان سب کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہوں (قائد تحریک کی تقریر سے اقتباس)

4 ستمبر 2014 کی تقریر میں قائد تحریک نے ایک طرف تو اپنے کارکنوں اور ذمہ داروں کو ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی اور دوسری جانب اس بات کا بھی واضع اشارہ دے دیا کہ اگر انھوں نے اپنی خامیو  ں پر جلد از جلد قابو نہ پایا تو انھیں اس تحریک سے نکال باہر کیا جائے گا۔

اگر بہت کھل کر بات کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈرشپ میں اتنی ہمت نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے پارٹی میں موجود خامیوں پر اتنا کھل کر بات کرسکے اور مثبت تبدیلی یعنی ریفارم کے لیے بھی ایک  مخصوص مگر بہت جلد کی مدت کا تعین کرے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں میں اس نایاب خوبی کی کم یابی کی وجہ ان پارٹیوں میں دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ کی جانب سے بغاوت کا خوف ہے۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ متحدہ کے قائد میں یہ ہمت  موجود ہے بلکہ وہ اپنی تحریک میں پائی جانے والی خامیوں پر نہ صرف یہ کہ کھل کر بات کرسکتے ہیں بلکہ ان خامیوں پر قابو پانے اور پوری تحریک میں مثبت تبدیلی کے لیے ایک قلیل مدت کی ڈیڈ لائین بھی دے سکتے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاست میں الطاف حسین وہ واحد لیڈر ہیں جنکا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور صرف انھیں ہی یہ اعزار حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز  تعلیم کے میدان میں طلبہ تنظیم سے شروع کیا اور ایک بہت کامیاب تنظیم کی داغ بیل ڈالنے میں کامیابی کے بعد سیاسی تحریک کو شروع کیا۔  پاکستان میں سرمایہ داروں، وڈیروں اور فوجی جرنیلوں کو الطاف حسین کی ان کاوشوں کو سراہنا چاہیے تھا  مگر افسوس کے ایسا  نہ ہوا۔

الطاف حسین کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ جب انکی تحریک نے عوام میں مقبولیت کی بلندی کو چھو لیا تو انھوں نے عوام ہی کے درمیان سے لوگوں کو منتخب کرکے قومی و  صوبائی اسمبلیوں اور ایوان بالا (سینٹ ) میں بھیجا۔ پاکستان کے نام نہاد جمہوری طرز حکومت میں انھوں نے قابض اشرافیہ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کے خلاف عملی جدوجہد کو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے۔ اس بدقسمت ملک اور قوم میں الطاف حسین کا جرم ہی یہ ہے کہ انھوں نے عوام الناس کے لیے اپنی زندگی مشکل میں ڈال رکھی ہے اور اسی وجہ سے قابض آمرانہ جمہوری طرز حکومت کے اصل روح رواں اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ ، سرمایہ دار اور وڈیرے ان سے بدترین دشمنی رکھتے ہیں اور ان پر اور انکے چاہنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتےرہتے ہیں۔

ان قوتوں نے الطاف حسین کی تحریک کے قیام کے شروع دنوں سے ہی شازشوں اور ریشہ دوانیوں کے سلسلہ شروع کردیا جو آج تک اپنی  پوری شدت سے جاری ہے۔ ان ریشہ دوانیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ماں جیسی ریاست کو بھی اپنے بچوں کے قتل و غارت گری اور اذیت دینے کے عمل میں استعمال کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ ہزاروں چاہنے والوں اور کارکنوں کا ریاستی مشینری کاناجائز استعمال کرکے قتل کیا گیا بلکہ الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کوجن کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا کو بھی الطاف حسین کی مظلوم عوام سے محبت کے سزا کے کے طور پر بدترین اذیت کے بعد شہید کردیا گیا۔

ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اس ملک میں نام نہاد جمہوریت کے دعویٰ دار حکمران طبقے نے آج تک الطاف حسین کی ذات پر اپنے حملے اور ریشہ دوانیوں کو جاری رکھا ہوا ہے اور ریاستی امور کو بیچ میں ڈال کر کچھ بین الاقوامی طاغوتی طاقتوں کو بھی آپس میں ملا کر انکی ذات کو تکلیف پہنچانے کے لیے سازشیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ الطاف حسین اپنی صحت کے لحاظ سے اب اتنی نفرت کے مستحق نہیں ہیں۔  ان تمام حالات کے باوجود ایک مذید قابل افسوس امر یہ بھی ہے کہ ان ہی کے چاہنے والوں میں سے کچھ افراد جانے یا انجانے طور پرکچھ ایسی چیزوں میں ملوث ہیں جن سے انکی تکلیف میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ کیا ہمیں اپنے آپ سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ ہم جو  ان سے محبت کے دعوے کرتے ہیں کیا یہی انداز ہے محبت اور احترام کا جو ہم میں سے چند افراد نے اپنا رکھا ہے؟

متحدہ قومی مومنٹ کے چاہنے والوں اور کارکنوں کو  اپنے قائد کی اہمیت کا ادراک ہونا چاہیے۔ انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس پاکستان میں عام آدمی ایک حقیقی لیڈر کی تلاش میں 60 سالوں سے  ہے لیکن اس کی یہ خواہش پوری ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ ستائے ہوئے لوگ اللہ سے فریاد کررہے ہیں لیکن ان  کو آج تک کوئی سچا لیڈر نہ مل پایا۔ بدقسمتی سے پاکستان کے نظام میں اگر عوام بہت کچھ کر بھی لیں اور کسی ایک کو اپنے طور پر منتخب بھی کرلیں تو وہ ایک چوہدری تو ہو سکتا ہے لیکن سچا اور حقیقی لیڈر نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ موجودہ نظام ان میں سچے افراد کو آگے آنے کا موقعہ نہیں دیتا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ عوام نے بار بار اپنی دانست کے مطابق اچھے لیڈر چُنے اور ان لیڈروں کے بتائے ہوئے افراد کو منتخب کروایا مگر وائے افسوس کے ہر بار انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے کیا تمام الطافیوں کواپنے قائد پر بجا طور پر فخر نہیں کرنا چاہیے؟  انکے قائد نے اپنی ساری زندگی ان پر قربان کردی اور کبھی انھیں آزمائش میں نہیں ڈالا ۔ کیا یہ خود اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بد قسمتی کی بات نہی کہ ایک طرف پوری پاکستانی قوم اچھے اور سچے لیڈر کی تلاش میں پریشان ہے جبکہ الطافیوں کا لیڈر اپنے ہی چندکارکنوں اور ذمہ داروں کی اپنے  خامیوں پر قابو نہ پانے کی صورت میں قیادت چھوڑنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ افسوس صد افسوس !

نوواردوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ  90 کی دہائی میں بھی کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ فتو ر آگیا تھا کہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے الطاف حسین کو بنایا ہے !  اپنے دماغ کے اسی خلل کے باعث ان لوگوں نے ملکر اپنے ہی جیسے ایک شخص کی قیادت میں جانا پسند کیا، مگر وقت کے بے رحم پہیے نے گھوم کر کیا تاریخ رقم کی؟ کون  وقت کے بے رحم موجوں کا سامنا کرکے کھرا اور سچا لیڈر بن کر اُبھرا؟ بلاشک و شبہہ وہ الطاف حسین ہی ہیں جو الطافیوں کے سچے  اور کھرے لیڈر کے طور پر فاتح بن کر سامنے آئے۔ الطاف حسین کے ہر آزمائش میں سچے اور کھرے لیڈر کے طور پر اُبھر کر سامنے آنے پر ایک اور بات تاریخ میں رقم ہوئی کہ سچا لیڈر لوگ نہیں بناتے بلکہ وہ تو قدرت کا عطیہ ہوتا ہے اور الطافیوں کو یہ تحفہ قدرت کی جانب سے عطا کیا گیا ہے۔

الطافیوں کو اس بات کی اہمیت کا ادراک ہونا چاہیے کہ الطاف حسین ان پر اللہ کا ایک بڑا احسان ہیں ۔ لہذا الطافیوں کو اللہ کی اس نعمت کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ الطافیوں کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ صدیاں لگتی تو ایسے لیڈر پیدا ہوتے ہیں ۔ لہذا الطافیوں کو اب ہر صورت میں اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا ہوگا اور انھیں اپنے اندر پائی جانے والی ان تمام خامیوں جنکو انکے قائد کی نگاہ قلندر دیکھ رہی ہے پر قابو پانا ہوگا۔ انھیں اپنے قائد کا سچا پیروکار بن کر سامنے آنا ہوگا۔ ورنہ الطافیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواسہ خاکم بدہن اگر ایسا نہ ہوا جیسا انکے قائد الطاف حسین چاہتے ہیں تو پھر نقصان قائد کا نہیں الطافیوں کا ہوگا۔

Altaf Hussain Speech on September 4, 2014

Advertisements

2 thoughts on “Do We Know the Worth of A True Leader: Urdu Translation of Akbar’s Blog

  1. Jin anasir ki bhai ne nishan dahi ki he unko bahir karen warna tehreek mazeed kamzor aur sache mukhlis karkunN o awam se door hoti ja rahi he.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s