The Right Man- Urdu Translation (Part-III)

سوال: مغرب بہت عرصے سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ کررہا تھا۔ آخر کار یہ حملے اب جون کے دوسرے ہفتے میں شروع کردیئے گئے ہیں۔ آپریشن کے تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ یہ آخر کار اتنا ضروری کیوں ہے؟ اور یہ آپریشن کہاں تک کامیاب ہوگا؟

جواب: متحدہ قومی مومنٹ کا ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف ایک واضع موقف رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کے لیے بلکہ اس خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرہ سمجھا ہے۔ اس برعکس پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں، دائیں بازو کی جماعتوں اور (عسکری) اداروں  میں موجود کچھ عناصر نے انھیں کشمیر اور افغانستان میں جنگی حکمت عملی میں ایک موثر ہتھیار اور بہت اہم مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں فوج کے مزاج اور اس کی پالیسیوں میں ایک بہت بڑا کی تبدیلی دیکھی گئی ہے جس کے تحت فوج اب اندرونی خطرات کو باہر کے مقابلے میں ذیادہ بڑا خطرہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اب فوج طالبان اور انکے اتحادیوں کو پاکستان کی بقاء ہی کے خلاف ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاخیر کی بڑی وجہ حکومت اور اپوزیشن میں طاقتور لوگوں اور میڈیا نے  طالبان کے خلاف کسی عسکری ایکشن کے بجائے ان سے مذاکرات کو اہمیت دینے پر زور دیا۔  تحریک انصاف   جو شورش ذدہ کے پی کے میں حکومت چلا رہی ہے نے آخری لمحے تک اس آپریشن کی مخالفت کی جبکہ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کے دونوں گروہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں اور فوجیوں کو شہید کرنے والوں سے جنگ کو مغر ب کی جنگ قرار دیتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پاکستان کی بقاء کے لیے بہت ضروری ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ فوج اپنے تمام طے شدہ اہداف حاصل بھی کرلے گی۔

سوال: متحدہ قومی مومنٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے آپ کے پاسپورٹ حاصل کرنے کے حق میں آپ کی مدد نہیں کی۔ کیا یہ درست ہے؟ کچھ میڈیا پر تجزیہ نگاروں بہت زور دیکر اس بات پر اعتراض کررہے ہیں کہ آخر آپ نے اس وقت پاسپورٹ کے لیے درخواست کیوں دی ہے۔ کیا آپ ایک دن کے دورے پر کراچی جانے کی سوچ رہے ہیں؟ آپ اپنے شہر کی کس چیز کو سب سے ذیادہ یاد کرتے ہیں  (you miss the most)

جواب: میں ایک برطانوی شہری ہوں مگر اس بات کو بھی نہ بھولیں کہ میں ایک پاکستانی شہری بھی ہوں لہذا میرا ہر طرح سے یہ حق بنتا ہے کہ میں پاسپورٹ حاصل کروں۔ برطانیہ اور پاکستان دونوں کے قوانین مجھے ایک ہی وقت میں دونوں ملکوں کی شہریت رکھنے کا پورا حق اور اختیار دیتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے شناختی کارڈ   کے لیے میں نے یہ درخواست پہلی مرتبہ نہیں دی ہے۔ میں نے پہلے بھی بہت بار درخواست دی ہے لیکن میری درخواست کو ہر بار بغیر کسی وجہ بتائے مسترد کردیا گیا ۔ اس بار میں نے شناختی کارڈ کے لیے درخواست برطانیہ میں پاکستانی سفیر کے سامنے جمع کروائی ہے۔ میں نے تمام قانونی ضرورتیں پوری کردیں لیکن اس کے باوجود میری درخواست کو کئی ہفتے تک روک کر رکھا گیا۔ جب میں نے اپنی درخواست پر عملدرامد سے متعلق سوال پوچھا تو مجھے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔ جب میری جماعت کے لوگوں نے اس بات کو اسمبلی میں اُٹھایا تو انھیں متضاد جوابات دیے گئے۔ اور سب سے آخر میں یہ کہا گیا کہ میں نے درخواست تو دی ہے لیکن میرے درخواست کا الیکٹرانک ڈیٹا ضائع ہوگیا ہے۔ مجھے کبھی نہیں بتایا گیا کہ ایسا کیسے ہوا۔ اب مجھے ایک درخواست دوبارہ جمع کرانی ہے جس کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن نے مجھ سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کی ہے۔

پاکستان میرا ملک اور کراچی میرآبائی شہر ہے جہاں میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ میں ہمیشہ سے کراچی آنا چاہتا ہوں مگر میرے پارٹی کے ممبران پاکستان میں میرے لیے موجود خطرات کے باعث اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ میں سب سے ذیادہ ان لوگوں کو یاد کرتا ہوں جنھوں نے مشکل ترین  حالات میں بھی میرا ساتھ دیا۔ اور وہ اب بھی میرا ساتھ دیتے ہیں۔ اس وقت تو بہت سارے ایسے ہیں جنھوں نے مجھے کبھی نہیں دیکھا مگر پھر بھی گذشتہ دو عشروں سے وہ میرے ساتھ ہیں۔

سوال: آپ جناب نواز شریف کی حکومت کی اب تک کی  کارکردگی کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا وہ اپنے انتخابی منشور کےمیں کیے گئے معاشی  بہتری، امن کے قیام، خارجہ پالیسی ، حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور  لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر قابو پانے کے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ آپ انھیں کیا مشورے دیں گے؟

جواب: پورے پاکستان میں اب اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نواز شریف صاحب کی حکومت سوائے اس بات کے بار بار دہرانے کے کہ انھیں 2013 کے الیکشن میں کامیابی ملی ہے عملی طور پر  ناکام ہوچکی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پہلے کے مقابلے میں بد سے اب بدترین ہوچکی ہے، صنعت کا پہیہ بھی سست ہورہا وہ بھی صرف توانائی کے بحران کے باعث، جبکہ معاشی کساد بازاری  اور بیروزگاری اب بھی اپنے انتہائ بلندی کی سطح پر ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ بہت ہی اہم وزارتیں اب بھی خالی پڑی ہیں۔

سب سےبڑا چیلنچ جس سے نمٹنے میں نواز حکومت سرے سے ہی ناکام ہوگئی ہے وہ ہے مذہبی انتہاپسندی۔ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ نواز حکومت نے ان دہشت گردوں جنھوں نے ہزاروں بے گناہ افراد اور فوجیوں کا قتل کیا کو خوش کرنے کے لیے ان سے مذاکرات کیے۔ ان دہشت گردوں نے پاکستان کو باقابل تلافی نقصان پہنچایا مگر اس کے باوجود نواز حکومت اس بات کو سمجھے سے قاصر رہی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بھی نواز حکومت کسی مربوط پالیسی کو بنانے میں ناکام رہی ۔

پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی براہ راست دہشت گردی پر قابو اور امن کی بحالی سے منسلک ہے۔ اسکے باوجود حکومت اس حقیقت کو مکمل طرح سے نظرانداز کررہی ہے۔ نواز حکومت دوسرے صوبوں کی معاشی ترقی کی جانب توجہ نہیں دے رہی ہے بلکہ وہ پنجاب میں بھی صرف چند مخصوص علاقوں میں ہی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ میں پنجاب کی ترقی پر حکومت کی کاوشوں کو سراہتا ہوں۔ مگر ملک کے ایک حصے میں دوسرے تمام حصوں کو نظر انداز کرکے کی جانے والی ترقی ایک بہت غلطی ہے۔ اگر یہ رویہ بلا روک ٹوک جاری رکھا گیا تو ملک کے دوسرے صوبوں اور قبائلی علاقوں میں احساس محرومی مذید بڑھے گا۔

سوال : برطانیہ میں آپ پر چلنے والے مقدمات اس وقت کس مرحلے پر ہیں اور کیا آپ یہاں کے عدالتی نظام سے مطمئین ہیں؟

جواب: سب سے پہلے تو یہ کہ میں برطانیہ کے عدالتی نظام کا حد سے ذیادہ احترام کرتا ہوں۔ لیکن چونکہ اب بھی تحقیقات کا عمل جاری ہے اس لیے میں اس سوال پر مذید گفتگو نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود جس بات کو میں انتہائی خود اعتمادی سے کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے دنیا کہ کسی ملک میں کہیں بھی کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ اور میں اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ ایک قانون پسند شہری ہونے کی حیثیت سے میں ہر طرح سے اپنا تعاون کرتا رہا ہو  ں اور یقین دلاتا ہوں کہ آئیندہ بھی کرتا رہوں گا۔

سوال: میڈیا میں ایسی خبریں بھی ہیں کہ آپ کی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر پابندی ہے اور آپ کو ہر مہینے پولیس کو ریپورٹ دینی ہوتی ہے۔

جواب: چونکہ ابھی تحقیقاتی عمل چل رہا ہے لہذا اس پر بات کرنا بہتر نہیں ہوگا۔

سوال: متحدہ قومی مومنٹ سے متعلق عام طور پر پائی جانے والی غلط فہمیاں کیا ہیں اور آپ ان سے کیسے نمٹتے ہیں؟

جواب : متحدہ کے قیام کے فورا” بعد سے ہی اس پر بہت سے الزامات لگائے گئے ہیں اور اس سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں۔ میں شروع ایسے کرتا ہوں کہ ہم پر علیحدگی پسند اور لسانی تحریک ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہم پر ریاستی طور پر 1992 میں جو آپریشن کیا گیا اس میں ہم پر الزام لگایا گیا کہ متحدہ جناح پور کے نام سے آذاد ریاست بنانا چاہتی ہے۔ ہم کبھی بھی علیحدگی پسند نہیں رہے اور ہم اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ہمارے ہی دو نسلوں پہلے بزرگوں نے اس پاکستان کو بنایا۔ اور بعد میں انہی لوگوں نے اپنا الزام واپس لے لیا۔ چونکہ متحدہ کا نظریہ پاکستان میں اسٹیٹس کو کی تبدیلی ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ متحدہ کے خلاف اس طرح کے الزامات لگاتی ہے کیوں کہ وہ ہی اس نظام کو اسی طرح چلانا چاہتی ہے۔ مگر متحدہ ایسے الزامات سے اپنے راستے سے گمراہ نہیں ہوگی۔ اور ہمارا نظریہ ہے کہ پاکستان کو ماڈرن، جمہوری ، Pluralistic  ، تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک بہتر ملک بننا چاہیئے جہاں ہر ایک کو سماجی طور پر انصاف، مذہبی طور پر آذادی اور سب کے انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے۔ پاکستان کی مختلف اسمبلیوں میں تعلیم یافتہ اور روشن خیال ارکان کو بھیج کر ہم اس موروثی سیاست کے عمل کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اپنی مستقل جدوجہد اور عزم سے ہم اپنے اوپر لگنے والے الزامات اور اپنے متعلق پائے جانے والی غلط فہمیوں کو غلط ثابت کرچکے ہیں۔ او ر اس کے نتیجے میں ہمارا پیغام اب پاکستان کے کونے کونے تک پہنچ رہا ہے۔ ہمارے راستے میں مشکلات کے باوجود ہم اپنا کام کررہے ہیں کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں اس لیے ہم اپنا کام مستقل کرتے رہیں گے۔

سوال: آپ پی ٹی آئی ، ڈاکٹر طاہرالقادری اور مسلم لیگ شجاعت کی جانب سے احتجاجی تحریکوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا پاکستان میں انقلاب کے لیے زمین زرخیز ہو چکی ہے؟

جواب: ایک چیز تو طے ہیں کہ پاکستان میں ہر سطح پر مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے قیام کے فورا” بعد سے اس ملک میں گلا سڑا اور فرسودا نظام چل رہا ہے۔ جس کو قبائلی چیف، فیوڈل لارڈ اور اشرافیہ چلا رہی ہے۔ پاکستان میں غریب غریب تر ہورہا ہے، کرپشن پھیل رہی ہے، جبکہ شہری پینے کے صاف پانی، بہتر تعلیم ، بہتر ہسپتال، بجلی ، گیس اور اچھی غذا غرضیکہ ہر چیز سے محروم ہے۔ الیکشن کمیشن بھی نہ صرف یہ کہ کرپٹ ہے بلکہ حکمران طبقے کے زیر اثر ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کسی قابل ذکر تبدیلی کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف الیکشن جمہوریت کا حسن نہیں ہے۔ اچھی گورنینس بھی جمہوریت کا حصہ ہے جو پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک اس کے شہریوں کو میسر نہیں ہے۔ وہ اچھے لوگ جس کو اس کرپٹ سیاسی کلچر نے باہر رکھا ہوا ہے انھیں موقعہ ملنا چاہئے کہ وہ عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرسکیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس ملک کی قابلیت سے سب کو فائدہ حاصل ہوسکے۔

میرے لیے تو انقلاب کا لفظ ہی بہت ذیادہ انقلابی لگ رہا ہے مگر ایک چیز تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی سرزمین اب نظام کی تبدیلی کے لیے زرخیز ہوچکی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s