The Right Man- Urdu Translation (Part-II)

سوال: آپ نے ضرب عضب کی پوری حمایت کی ہے اور اس کے لیے اظہار یکجہتی ریلی بھی منعقد کی ہے۔  یہاں تک کہ آپ نے فوج کو متحدہ کے کارکنوں کی مدد بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔  تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کون سی عملی اور زمینی حقائق کے مطابق مدد فراہم کرسکتے ہیں؟

جواب: متحدہ قومی مومنٹ کا شروع سے ہی یہ موقف ہے کہ پاکستان اور مذہبی جنونیت دونوں ساتھ ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ طالبان جس طرح بگاڑ کر اپنے ہی برانڈیڈ شریعت کو نافذ کرنا چاہتے ہیں اُس میں تو مذہبی اقلیتوں اور عورتوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان میں ماڈرن، لبرل اور پروگریسو ہونے کا قائداعظم محمد علی جناح کا خواب اب ایک ناقابل تصور   عمل دیکھائی دیتا ہے۔ عمومی طور پر اس معاشرے کو بچانے اور خصوصا” پاکستان کی دنیا میں بکھرتی ہوئی عزت کو بچانے کے لیے ایک انتہائی منظم اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے طالبان اور انکے اتحادی دہشت گردوں کو ختم کرنے کی پالیسی  پر عمل کرنا ہوگا۔

متحدہ قومی مومنٹ کو معاشرے کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہے۔ پارٹی نے حکومت اور فوج کا بغیر کسی شرائط کے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اُٹھائے جانے والے ہر قدم کی ہر طرح سے اخلاقی اور سیاسی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ میرا خیال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر حمایت سے طالبان اور انکے اتحادیوں کے خلاف اٹھائے گئے ہر قدم کو کامیابی مل جائے گی۔

متحدہ کی ایک فلاحی تنظیم خدمت خلق کمیٹی پورے پاکستان میں عوام الناس کی مدد کرنے میں پوری طرح سے مصروف ہے۔ 2005 میں کشمیر، اسلام آباد اور خیبر پختوانخواہ کے کئی حصوں میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد متحدہ نے ہزاروں رضاکار فوری طور پر وہاں بھیجے جنھوں نے وہاں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے کاموں اور امداد پہنچانے کا کام دن رات محنت کرکے کیا۔ ہمارے رضاکاروں نے وہاں فوری طور پر طبی امداد کے ہسپتال، ڈسپنسریاں، بلڈ بینک، خیموں پر مشتعمل بستیوں کا فوری انتظام کیا۔ ہمارے فوری طور پر قائم ہونے والے ہسپتال میں سرجری تک کی سہولتیں موجود تھیں۔ متحدہ کے رضاکاروں نے جو غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں اس کی معترف تو ساری دنیا، فوج اور یہاں تک کہ ہمارے مخالفین بھی ہیں۔

ابھی حال ہی میں 2010 کے سیلاب میں بے گھر افراد متحدہ کے رضا کاروں نے نا صرف کراچی بلکہ پورے سندہ میں کھانا بلکہ پناہ کے لیے گھر بھی فراہم کیے۔ اور متحدہ ہر اس جگہ پر اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے جہاں بھی اسکی ضرورت ہوگی۔ متحدہ کی یہ ایک انفرادی خوبی ہے کہ یہ بہت کم عرصے میں لاکھوں رضاکاروں کو کسی بھی جگہ امداد کے لیے تیار اور بھیج سکتی ہے۔ ہمارے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف ، رضاکار اور دوسرے تجربہ کار افراد آج کل فوج کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری کاروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ بڑے پیمانے پر آنے والے مہاجرین  بلکہ کسی طرح کے مسائل کی حل میں مدد کرسکتے ہیں ۔

سوال: عمران خان کی تحریک انصاف کا آپ کی پارٹی سے بہت عرصے سے اختلاف چل رہا ہے۔ یہاں تک انھوں نے آپ کی پارٹی پر اپنی بہت سینئر کارکن کے قتل کا پچھلے سال الیکشن سے پہلے الزام لگایا اور اسکے بعد آپ کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو فون کرکےآپ کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا۔ آپ پی ٹی آئی اور انکی کے پی کے میں کارکردگی کو کسی طرح دیکھتے ہیں؟ آپ پی ٹی آئی کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ پر دھاندلی کے الزامات اور اسکے نتیجے میں پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: ہاں تحریک انصاف نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت  2013 میں متحدہ کو بدنام کرنے کے لیے مہم چلائی۔ اسکے نتیجے میں ہونے والی تحقیقات کے بعد نہ صرف یہ کہ پاکستانی اداروں بلکہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس دونوں نے متحدہ کو پر لگائے جانے والے ان الزامات کو جھوٹا  اورنہ صرف یہ کہ  سیاسی طور پر لگایا جانے والا الزام قرار دیا بلکہ متحدہ کی بات ہی کو درست قرار دیا۔  پی ٹی آئی کے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ مسئلہ یہ کہ وہی الیکشن جی پر پی ٹی آئی دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے کہ نتیجے میں وہ کے پی کے میں اقتدار میں آئی جبکہ پنجاب سے اس کو بہت کم سیٹیں ملیں۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام فضل الراحمٰن گروپ پی ٹی آئی پر کے پی کے میں اُسی طرح کے دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی کے دھاندلی کے الزمات کو تسلیم کرے اور جمیعت علماء اسلام کے الزامات کو یکسر نظر انداز کردے۔

جہاں تک پی ٹی آئی کی کارکردگی کا تعلق ہے تو اب انھیں اندازہ ہوجانا چاہیے کہ دور بیٹھ کر نکتہ چینی کرنا کتنا آسان ہے ۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ کے پی کے میں بھتہ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ساتھ ہی ساتھ ایک تاجروں کی ایک بہت بڑی تعداد پی ٹی آئی کی حکومت کی لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی پر بے چینی کا اظہار کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے باعث اسکے تعلیم یافتہ اور روشن خیال حامیوں میں بہت ذیادہ مایوسی ہے۔

سوال : بقول وزیر دفع اور وزیر داخلہ ، فوج اور پاکستان مسلم لیگ کی حکومت درمیان اختلاف پایاجاتا ہے۔ آپ کی رائے اس اختلاف پر کیا ہے اور اس کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے؟

جواب: میرے پاس ایسے کسی اختلاف کی براہ راست کوئی خبر نہیں ہے۔ اس کے واضع ثبوت موجود ہیں کہ وفاقی حکومت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے بجائے طالبان سے مذاکرات کی حامی ہے۔ جبکہ دوسری طرف فوج طالبان کے خلاف عسکری کاروائی کی حامی ہے۔ جبکہ میڈیا نے اس اختلاف کو اور واضع کرکے دیکھایا۔ کچھ وفاقی وزراء کے خیالات اور میڈیا پر اس کی ترویج سے ان اختلافات کو مذید ہوا ملی۔ اگر ایسی باتیں درست ہیں تو اس بڑھ کر کوئی اور المیہ نہیں ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ ملک کے لیے مذہنی انتہا پسندی کے خلاف کاروائی میں مذید وقت کا ضیاع بہت تباہ کن ہوگا۔ میری رائے میں پاکستان میں پائی جانے والی دہشت گردی جو اصل میں مذہنی انتہا پسندی سے اپنی قوت حاصل کرتی ہے اب پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ میری رائے میں پاکستان کے لیے موجودہ صورت حال اب یا کبھی نہیں کی طرح ہے۔ اس صورت حال میں کاروائی نہ کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے کیوں کہ یہ خطرہ اب پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اس کی یکجہتی اور استحکام اس خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دینا کے لیے بہت ضروری ہے۔ طالبان عفریت کے خاتمے کے لیے سول اور ملٹری قیادت کا آپس میں ملکر بیٹھنا اور ایک زبان ہونا لازمی ہے۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s