MQM struggle for the success of Zarb-e-Azab, Dear Armymen when you will take care of Karachi, the sinking heart of Pakistan

اے ضرب عضب متحدہ کی تیری کامیابی کے لیے کوششیں ،اب بھی وقت ہے ایک نظر پاکستان کے ڈوبتے دل کراچی کی جانب ڈال!
آج کل جہاں دیکھو دو باتوں کا چرچا چل رہا ہے ایک ضرب عضب اور دوسری بات ہے ” پاکستان میں بقاء کی آخری لڑائی”۔ راقم نے کبھی اپنے آپ کو دور اندیش نہیں سمجھا لیکن اس کو مستقل پڑھتے رہنے کا جو کیڑا دماغ میں کلبلاتا ہے اور ہر معاملے کا بغور مشاہدہ کرنے کے باعث مشاہدے میں آئی ہوئی چیزوں کو بھولتا نہیں ہے۔
راقم کو یہ بات اچھی طرح سے یاد ہے جب امریکہ کی تاریخ میں سب سے بڑا اور وحشت سے بھرا حملہ ہوا تو اس ملک نے ایک کمیشن بنایا جس میں انھوں نے اس پر پوری تحقیق کی اپنی خامیوں کو دیکھا اور دشمن کی آسانیوں پر بھی پوری نظر ڈالی ۔سب کے بعد انھوں نے 585 صفحات پر مشتعمل ایک ریپورٹ شائع کی جس میں امریکہ کو بہت ساری سفارشات (Recommendations) بھی دی گئیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان سفارشات کے شروع میں ہی ایک ملک کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے کر اس کو علیحدہ جگہ دی گئی۔ اس کے لیے مکمل دو صفحات میں اس ملک کو پوری دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔ اسکے زکواۃ اور فطرہ و خیرات سے چلنے والے مدارس کو دہشت گردوں کے نظریاتی قبضے میں بتایا گیا اور کہا گیا کہ اگر ان مدارس کو ان کہ چلانے والے شدت پسند نظریات کے حامل افراد سے نہ نکالا گیا تو امریکہ و یورپ مسلسل دہشت گردی کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اس ریپورٹ میں پاکستان کی نیوکلئیر طاقت کو بھی ایک خطرہ قرار دیکر بتایا گیا کہ پاکستان نیوکلیر ٹیکنالوجی کو چوری چھپے دنیا کے خطرناک ممالک کو بیچنے میں ملوث ہے۔ سب سے بڑھکر اس ریپورٹ میں کراچی میں موجود شدت پسندی کے جذبات بڑھکانے والے مذہبی جنونیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کا ذکر کیا گیا ہے۔ سفارشات سے لیا گیا آخری پیراگراف آپ کے نظر کررہا ہوں۔

اس حادثے  کے بعد 13 سال بیت گئے دنیا نے تبدیلی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا اور تبدیل ہو بھی گئی۔ جبکہ اسی دوران پاکستان کی ریاست میں خاندانی موروثی اور ملوکیت نے مذید جڑ پکڑی اور بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان میں آصف علی ذرداری کا عفریت ملک کے شہہ رگ پر جمہویت کے لباس میں سوار ہوا۔ اس نے ،جس شہر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس پر مذہبی جنونیوں کا قبضہ ہو رہا ہے، اپنےزمانہ آوارگی جب انھیں پٹارو کیڈٹ کالج سے نکال باہر کیا گیا تھا ، دوست ذولفقار مرزا جس پر فحش فلمیں تک بنوانے اور اس کا کاروبار کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کے ساتھ ملکر اس شہر میں بلوچ علیحدگی پسند نوجوانوں کو ملاکرگینگ وار کی شکل میں اپنی درندہ صفت پرائیوٹ آرمی ترتیب دی۔ گینگ وار نے شہر کے مختلف علاقوں میں ایک ایسے عامل کا کردار ادار کیا جس نے ہر جرم ، شدت پسندی ، بھتہ ، قتل غرضیکہ ہر طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو پنا ہ دی ۔ بعد میں یہ عفریت اتنا بڑھا کہ اس نے کلعدم تنظیموں اور طالبان کو بھی شہر میں اپنا قدم جما کر رکھنے اور شہر کے مضافاتی علاقوں سے پورے شہر کو قبضہ کرنے کی بنیاد ڈال دی۔
اس ملک میں ایک مرد قلندر کے چاہنے والے بھی موجود ہیں۔ جو ریاستی میں موجود غیر ریاستی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے باعث ملک سے باہر ایک تکلیف دہ زندگی گذار رہا ہے۔ مگر اس کا دل اس ملک کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے۔ اس کے چاہنے والے اس کو قائد تحریک کہتے اور شہر کے 80 فیصد لوگ اس پر ہر بار جمہوری عمل میں اپنے ووٹ کے ذریعے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے 2011 میں ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ کراچی کو طالبان کے حوالے کیا جارہا ہے لیکن ذرداری گروہ اور پاکستان میں اشرافیہ نے انکی باتوں کی ہنسی اڑائی یہاں تک کہ باہر کی دنیا میں بھی لوگوں نے پاکستان سے اُٹھنے والی مخالفانہ سوچ پر ہی کان دھرا اور ان کی باتوں کو کہیں کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ بلکہ اس کی بنیاد پر ان کے خلاف مذید مہم جوئی کی گئی۔ نتیجہ کیا ہے آج کراچی پوری طرح سے طالبان کے قبضے میں جاررہا ہے۔ اب سر پر سے بہت سا پانی گذر چکا ہے کراچی میں بہتری کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی ہے۔ اب 4 سالوں کے بعد بین الاقوامی جرائد و اخبارات بھی چیخ رہے ہیں کہ کراچی ڈوب رہا ہے اس کے ڈھائی کڑوڑ کی آبادی ایک غیر ریاستی قوت کی ریاست میں زندہ ہے ۔
کراچی میں سب کو دیکھائی دے رہا ہے کہ کراچی مکمل طور پر ایک انارکی کی طرف جارہا ہے لیکن ریاست کو چلانے والے حکمران اور ریاستی اداروں میں موجود غیر ریاستی افراد نے اپنا منہ دوسری جانب موڑ رکھا ہے۔ یہاں کور کمانڈر پر حملہ ہو، یا مہران بیس اور پی اے ایف بیس پر حملہ کرکے پوری ریاست کی نیول عسکری طاقت کو ختم کردیا جائے اور اسکی آنکھ پھوڑ دی جائے لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہاں پولیس قتل ہو یا نیوی اور آرمی کے افراد ،یہاں ریاستی ادارے اپنے افراد کے قتل پر کوئی بڑی کاروائی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ توجناب روز ہونے والے 10 سے 12 قتل جو عام افراد کے ہیں ان پر کون توجہ دے گا۔ یہاں جنگل کا قانو ن نافذ کرکے انسانوں کو غلام بنایا جارہا ہے۔ یہاں روز اربوں روپے کے بھتے اکٹھا کیے جاتے ہیں ، لوگ اغوا ہورہےہیں، معلوم ہے وہ کہاں ہیں کس علاقے میں ہیں ،مگر کوئی مربوط کاروائی کرنے کے بجائے اِکا دُکا کاروائیوں کے ذریعے کاغذات کا پیٹ بھرا جارہا ہے۔ ریاست کی رِٹ تو بہت بڑی بات ہے یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے طالبان و شدت پسند افراد سے اندرون خانہ یہ اپیل کررہے ہیں کہ ہم تمہارے خلاف کوئی بڑی کاروائی نہیں کریں گے تم ہمارے خلاف کاروائ روکو۔
موجودہ جمہوریت بھی نوازنے اور نواز ٹولہ کے گمراہ ہوجانے سے آگے نہ بڑھ پائی۔ ہر طرف ایک عجیب المیہ ہے ۔ جناب نواز شریف جتنی قوت فوج کو کمر کے بل گرانے میں صرف کر رہے ہیں اگر اس کا ایک ہزارواں حصہ بھی اصل میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور طالبان کے کنٹرول پر لگاتے تو سقہ بادشاہ کے دور اقتدار کے ایک سال میں پاکستان میں کچھ بے گناہ بچ جاتے اور امن کا دور دورہ ہوتا لیکن۔ نواز شریف سے کیا توقع جو اپنی کینہ و کدورت کے جال سے باہر ہی نہ نکل پائے۔ انھوں نے طالبان کی قوت کو پورے ایک سال کئی گناہ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا اور مذاکرات کے نام پر فوج کو ہر طرح کی کاروائیوں سے روک دیا۔ فوج جمہوریت کے اس عمل میں ریاست کا شیرازہ بکھرتے دیکھنے پر ایک سال مجبور رہی۔ نواز حکومت میں ریاست نے کراچی میں بجائے امن لانے کے اقدامات کرنے کہ ان افراد کو ہی مارنا شروع کردیا جو شہر کے اصل نمائندے تھے۔ باقاعدہ نواز شریف کی حکومت کے چند افراد نے ایسے افسران کو اپنے ساتھ ملایا جو شہر کی نمائندہ جماعت سے نفرت سے بھرے تھے وہ اپنا ذاتی اسکواڈ لیکر آپریشن کے آڑ میں ماروائے عدالت قتل و بربریت کرتے رہے اور پورے شہر میں جرائم پیشہ افراد و طالبان کے خلاف کاروائیاں کرنے کے بجائے ان افراد نے شہر کا سکون غارت کردیا۔ آپریشن اپنے منطقی انجام کو کیا پہنچتا ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ گرفتار اور اذیت کے بعد اربوں روپے دیکر باہر آئے۔ نواز شریف کے آپریشن میں شہر کی نمائندہ جماعت متحدہ کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری رکھا گیا جس سے خلاء پیدا ہوا اور جمہوری قوت کے بجائے ملٹنٹ قوت یعنی جرائم پیشہ افراد نے کراچی شہر پر اپنا قبضہ مذید مضبوط کرلیا۔ اب شہر کے 40 فیصد علاقوں کے لوگ طالبان کو اپنی زندگی کا جزیہ دیتے ہیں اور انکی ریاست کا دائرہ ہر لمحہ بڑھ رہا ہے۔ وہ اپنے علاقوں سے پورے شہر کو کنٹرول کرتے ہیں اور شہر ی روز انھیں بھتہ، اغوا، اور قتل ہوکر اپنی زندگی کا جزیہ دے رہے ہیں ۔ کم از کم کراچی کی حد تک تو ریاست کا نام ونشان کہیں نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی ریاست نام کی چڑیا کہیں کراچی میں نظر آئے گی تو یہ وہ علاقے ہیں جو جمہوری قوت پر اب بھی یقین رکھتے ہیں اور ووٹ دیکر متحدہ کو اپنا نمائندہ چنتے ہیں مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود غیر ریاستی عناصر کے اپنے مفادات پاکستان سے ذیادہ اہمیت کے حامل ہیں اس لیے یہ ادارے شہر کی نمائندہ جماعت کو سب سے بڑا خطرہ بتاتے رہتے ہیں۔
اس شہر میں ریاست کی فلاح و بہبود کے کاموں اور لوگوں کو سیکوریٹی و سوک سہولت پہنچانے کی کوئی صلاحیت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ شہر 2 سال پہلے صرف 4 گھنٹے کی بارش سے ڈوب کر بہہ گیا پورا گلستان جوہر کئی دنوں تک ڈوبا رہا لیکن ریاست کہیں نظر نہ آئی۔ فوج نے آکر جو کچھ اس کے بس میں تھا مدد کیا مگر ڈوبے ہوئے لوگوں کوسوائے پانی سے نکالنے کے کوئی مدد نہ ملی۔ یہاں پچھلے 7 سالوں میں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہ کیا گیا۔ یہاں ائیر پورٹ حملے کے بعد 7 افراد ائیر پورٹ میں 2 دن تک پھنسے رہے پھر جل کر خاک ہوگئے لیکن ریاست کہیں نظر نہ آئی۔
اپنے مسائل کے باوجود اس شہر میں اب بھی اتنا دم خم ہے کہ یہ پاکستان کی بقاء کے لیے اُٹھائے جانے والے ہر قدم کے ساتھ کھڑا ہوسکے۔ اس شہر کے باسی اس شہر کے جمہوری نمائندوں اور انکے قائد کے ساتھ ملکر فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور فوج کے اپنے جانب سے ریاست کی لاغر ہوتی ہوئی صورت حال سے نکالنے کے لیے ضرب عضب آپریشن پر اس کے ساتھ ہیں۔ یہ شہر اور اس کے نمائندے فوج کی خود سے کیئے جانے والے آپریشن کو پاکستان کے لیے آخری لڑائی کے طور پر نہیں لے رہے ہیں بلکہ وہ جانتے ہیں کہ جس طرح پاکستان ملوکیت اور خاندانی آمرانہ جمہوریت کے شکنجے میں جکڑا جارہا ہے تو یہ اصل میں لاغر اور اپاہچ ہو رہا ہے۔ لہذا گر ضرب عضب ناکام ہوا تو آخڑی لڑائی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان خدا نخواستہ اپنے ہی زخموں سے جانبر نہ ہوسکے گا۔
پاکستان کے کونے کونے سے جہاں سے بھی ممکن ہو لوگوں کو متحدہ کی فوج کی حمایت میں نکالی جانے والی تاریخی ریلی جو ایک جلسے کی شکل میں تبدیل ہوجائے گی میں شرکت کرنی چاہیے ۔ اگر آپ کے لیے اس جلسے میں آنا ممکن نہیں تو پھر بھی اس ریلی کی کامیابی کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
ضرف عضب کی کامیابی سے پاکستان کی بقاء منسلک ہے اور کراچی سے ہی پاکستان کی اصل شکل پھوٹتی ہے۔ کراچی کراچی ہے اور اسکے نمائندے اور شہری جماعت ہی اصل میں پاکستان میں تبدیلی کی آخری اُمید ہیں۔ اللہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت نافذ ہونے میں مدد فرما تاکہ پاکستان کی بقاء کے تمام خطرات پر قابو پایا جاسکے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s