PPO: Pakistan Protection Ordinance or an instrument of Coercion against political opponent

پاکستان پروٹیکشن آرڈینینس یا انصاف کی آنکھ پھوڑنے کا ہتھیار !
ویسے تو راقم خود قانون کا طالب علم نہیں ہے لیکن اس نے اپنی کوششوں اس قانون سے جو معلومات جمع کی ہیں وہ انگلیوں کو اپنے ہی دانتوں سے کچل کر لہو لہان کرلینے کے لیے کافی ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان پروٹیکشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں طارق اسد ایڈوکیٹ اور کرنل ریٹائیرڈ انعام الرحیم نے مشترکہ طور پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ 1919 میں برطانیہ نے اپنے زیر تسلط غلام ملکوں کے لیے جس Rawaltt Act کو نافذ کیا تھا اب اسی قانون کو دوبارہ نقل کرکے صدارتی آرڈینینس کی شکل میں ایک آذاد ملک میں نافذ کردیا گیا ہے۔ جب اس کیس کی سنوائی شروع ہوگی تو جلد ہی سپریم کورٹ میں بھی اس قانون کو بنانے والوں کی عزتوں کا جنازہ نکل جائے گا۔

ویسے تو سیکوریٹی ادارے پچھلے کئی سالوں سے حکومت کو دباو دے رہے ہیں کہ انکے ماروائے عدالت اقدامات کو قانو نی تحفظ دینے کے لیے کوئی عقل کو حیران کردینے والا قانون بنادیا جائے تو حکومت نے اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک دہری چال چل دی ہے۔ سیکوریٹی اداروں کو دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے جو گرفتاری اور ماروائے عدالت اقدامات کررہے ہیں اسکے لیے انکے پاس اسکے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جبکہ دوسری جانب یہ ادارے اپنے ٹھوس ثبوت کو عدالتوں میں پیش کرنے سے گھبراتے ہیں۔ شائد اسکی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے اعلٰی عہدوں پر فائز افراد ثبوت جمع کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ان کی خواہش یہ کہ چونکہ پاکستان کو ان دیکھے مسائل کا سامنا ہے اس لیے انھیں لامحدود اختیارات دے دیے جائیں۔ وہ یہ لامحدود اختیارات مانگتے ہوئے دلیل تو یہی دیتے ہیں کہ انکے اقداما ت نپے تلے اور بہت سوچ بچار اور مضبوط ثبوت کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں لیکن جب عدالتوں میں ان ثبوت کو پیش کرنے کی بات آتی ہے تو یہ ثبوت ریت کی دیوار کی طرح ملزم کے وکیل کی جرح کے سامنے زمین پر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں جس کے بعد عدالت میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر گرفتاری درست بھی ہے تو پھر بھی سیکوریٹی اداروں نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت فرہم نہیں کیے جس کے نتیجے میں کچھ مجرم بھی سزا سے بچ جاتے ہوں گے ۔
پاکستان ایک عجیب الخلقت افرادحاکموں کا ملک ہے جن سوچ بھی مریخ پر بسنے والوں جیسی ہے یعنی عورت کو پروٹیکشن دینا ہے نیا قانون بنا دو، پولیس کو سارے اختیار دے دو لیکن پولیس کے مزاج تبدیلی کو لانے کی زحمت نہ کرو ۔ دہشت گرد ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اس لیے ان سے مذاکرات کرو، سیکوریٹی ادارے عدالتوں میں پوری تیاری سے نہیں جاتے اور ان کے گرفتار کیے ہوئے افراد عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں اس لیے سیکوریٹی اداروں کو یہ کہنے کہ بجائے کہ وہ لوگوں کو پورے ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کریں اور اگر ثبوت نہیں ہیں تو پوری جانفشانی سے تلاش کریں اسکے بجائے اس ملک میں ایک نیا قانون بنا دیا جاتا ہے جس کو بنانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے برطانوی راج کے 100 سال پرانے قانون کو جو اس نے غلاموں کو قابو میں رکھنے اور ملکون پر قبضوں کو جاری رکھنے کے لیے نافذ کئیے تھے انہیں دوبارہ زندہ کردو۔

اس قانون کا بغور مطالعہ کیا جائے تو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوجائے گا کہ اس قانون کو بناتے ہوئے سیکوریٹی اداروں سے رائے لی گئی ہے اور اس کی آڑ میں جان بوجھ کر ایسٹیبلشمنٹ نے ایسی شقیں بھی شامل کردی ہیں تاکہ انکی طاقت مذید بڑھ جائے ۔ پاکستان پروٹیکشن آرڈینینس ، کو بنانے والوں نے شروع سے ہی یہ کوشش کی ہے کہ اس میں ایسی شقیں شامل کی جائیں جس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
پچھلے ہفتے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس آرڈینینس کو نافذ کردیا گیا ہے۔اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے جس جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا اس سے حکومت کی نیک نیتی پر شک کرنا ضروری ہو جاتا ہے حیرت انگیز طور پر اس قانون کو قانون کی سینٹ کے اجلاس سے صرف ایک دن پہلے بذریعہ صدارتی آرڈینینس نافذ کردیا گیا ہے۔ چونکہ اس قانون کے مقاصد ہی کچھ اور ہیں اس لیے قانون کے نافذ ہونے کے بعد دو بڑے واقعات اس قانون پر سوالیہ نشان بن کر اُبھرتے ہیں پہلا یہ کہ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی بلوچستا ن میں نامعلوم افراد کی اجتماعی قبریں دریا فت ہوئی ہیں اور دوسری وزیراعظم نے فوج کو اعتماد میں لیے بغیر مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کر ایک نہایت مبہم اور غیر واضع کمیٹی بنادی ہے۔ وزیراعظم کے بادشاہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لیے طالبان ہی کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ لوگوں کو منتخب کرلیا ہے۔ یعنی طالبان سے مذاکرات کے لیے طالبان ہی مقرر کردئیے گئے ہیں۔

اگر اس قانون کا مقصد سیکوریٹی اداروں کو قانونی تحفظ دینا اور بے گناہ لوگوں کی جانوں کو سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچانا تھا تو وہ تو ناکام ہوگیا کیوں کہ کراچی جیسے شہر میں رینجرز اور پولیس کے اہلکار اب بھی نام نہاد مقابلوں اور بعض اوقات رات کی تاریکی میں بے لباس(سادہ لباس) اہلکاروں کی مدد سے اغوا کیے جانے والے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر اپنی صوابدید پر قتل کرکے پھینک رہے ہیں جبکہ یہی عمل فرنٹئر کانسٹیبلری کے اہلکار بلوچستان میں جاری رکھے ہویئے ہیں یعنی اس قانون کے نفاذ کے بعد بھی سیکوریٹی ادارے گرفتار افراد پر محنت کرکے الزام درست ثابت کرنے کے بجائے خود ہی عدالتیں لگا کر قتل کررہے ہیں ۔

اگر اس قانون کا مقصد پاکستان میں قانون کی عملداری ہی تھی تو پھر مذاکرات کے عمل کو کیوں شروع کردیا گیا اور قاتلوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ریاست کے چہرے پر بدنما داغ لگا کر پاک سرزمین کو ناپاک لوگوں کے سامنے کیوں جھکا دیا گیا۔ آخر اس قانون کے فائدے حاصل ہونے تک انتظار کیوں نا کیا گیا تاکہ سیکوریٹی ادارے مجرموں کو گرفتار کریں، ان کی تفتیش کریں پھر اپنے اطمنان کے بعد یا تو انھیں رہا کردیں یا پھر انھیں عدالتوں میں سزا کے لیے پیش کریں۔
اس سے ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ ریاست کے عملداری کی کمزورہوتی ہوئی حالت کو بہانا بنا کر پاکستان میں شائد کسی خاص زبان بولنے والے اور کسی مخصوص لبرل ، پروگریسو اور جمہوریت کی اصل نمائندہ جماعت اور اسکے چاہنے والوں کو نشانہ بنانا مقصد ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر جو لوگ طالبان کے سامنے چاروں شانے چت ہوچکے ہیں انکی آواز میں غراہٹ کراچی میں کیوں پیدا ہوجاتی ہے۔ جس قانون کو فوج کی حرمت اور دانش کو بچانے کے نام پر نافذ کیا جارہا ہے اس کی عملی شکل خیبر پختونخواہ میں طالبان کے گرفتار ظالموں پر ظاہر ہو نے کے بجائے کراچی میں عوام کی مقبول ترین جماعت جو کہ شہری سندہ میں بھی اکثریت رکھتی ہے اسکے کارکنوں اور ہمدردوں کو گرفتار کرکے انہیں 90 دن کے لیے غائب اور بہت سی صورتوں میں ان پر تشدد کرکے دوسرے شہروں میں منتقل اور کبھی قتل کرکے پھینکے جانے کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں۔

ان حالات میں تو یہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس کے نفاذ میں جو صورت حال بتائی جارہی ہے اور جو مقاصد دیکھائے جارہے ہیں حقیقت اسکے برعکس ہے ۔ اب تک تو اس قانون کو فوری طور پر کراچی میں اور شہری سندہ میں نمائندہ جماعت کو دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ دہشت گردوں سے تو مذاکرات مگر شہریوں کے لیے سخت سے سخت ترین قانون کو سیاسی حربے کے طور پر نافذ کرکے انھیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے نمائندہ جماعت سے پیچھے ہٹ جائیں۔ یا پھر ایسے ہی اپنے نوجوان بچوں کی لاشوں کا کاندھا دیتے رہیں اور تشدد سے زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عیادت کرتے رہیں ۔
وہ سیاست دان جنھوں نے اپنے گاوں ، دیہاتوں اور صوبوں میں پرایئیوٹ ملیشیا بنا رکھی آخر پہلے سے موجود بہت سارے قوانین جن میں ذیادہ سخت سزائیں موجود ہیں کو یکسر نظر انداز کرکے نئے اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قوانیں بنا کر آخر کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک طرف تو قانون کو ذیادہ سے ذیادہ سخت بنا یا جا رہا ہے جبکہ اس کو نافذ کرنے والے ادارے اور انکے افسران و اہلکاروں کی ذاتی خواہش اور انا اور مقاصدکو حاصل کرنے کے لیے سرکاری قوت کا غلط استعمال روکنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اگر اس پوری کھینچا تانی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بے گناہ افراد اور ان قومیتوں کو جن کے لیے ان اہلکاروں اور افسران میں نفرت یا حقارت موجود ہے انھیں اس بات کی آذادی دے دی گئی ہے وہ ایسے افراد کو اب جیسے چاہیں ڈیل کرسکتے ہیں۔دل چاہے گرفتار کریں، غائب کریں ، تشدد کریں ، پیسے لیں اپنی صوابدید پر چھوڑ دیں یا پھر پیسے نہ دینے پر ہمیشہ کے لیے فٹ کردیں اور اگر پھر بھی نفرت کی پیاس نا بجھے تو کہیں ملیر کے ر یلوے ٹریک پر، کہیں سہراب گوٹھ کے راستے اور کبھی کسی تھانے کے لاک اپ میں مار دیں۔
اس قانون کے ہتھیار سے ایک طرف انصاف کی آنکھ پھوڑ جارہی ہیں اور دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایسے اہلکاروں کے لیے احتساب کا راستہ بند کردیا گیا ہے جو ماروائے عدالت اقدامات میں ملوث ہیں۔ یہ قانون کسی کو شہری کو دہشت گردوں سے بچانے میں مدد دے یا نا دے اس قانو ن کے نفاذ کے بعد سیکوریٹی ادارے کسی بھی طرح کے سوال و جواب اور احتساب کی ہتھکڑی سے آذاد ہو گئے ہیں۔
اس قانون میں جو سزائیں شامل کی گئی ہیں وہ پہلے ہی سے پاکستان پینل کوڈ کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی ریاست سے جنگ یا اسکے وجود پر حملہ کرنے والوں کے لیے بہت سے قوانیں موجود ہیں ۔ جیسے اینٹی ٹیریرسٹ ایکٹ 1997 ، سیکوریٹی آف پاکستان ایکٹ 1952، مینٹینس آف پبلک آرڈر 1960، ڈیفینس آف پاکستان رولز وغیرہ وغیرہ

جب یہ سارے قوانین پہلے سے موجود ہیں تو دوبارہ سے ان قوانین کو ایک نئے قانون کی شکل میں دہرانہ سجھ سے بالا تر ہے۔ اس قانون کا انتہائی پریشان کن پہلو یہ ہے کہ یہ کسی بھی اہلکار کو کسی بھی شہری پر گولی چلانے کا کلی اختیار دیتا ہے اگر اہلکار اپنے طو ر پر یہ فیصلہ کرلے کہ شہری اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے یا اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے یا اسکی وجہ سے کسی کی جان و مال کو خطرہ ہے تو اس اہلکار کو اس بات کا پورا اختیار ہے کہ وہ اس شہری پر گولی چلادے تو یہ تو کوئی نئی بات نہیں پریشانی یہ ہے کہ پہلے اہلکار سے یہ پوچھا جاسکتا تھا کہ آپ نے گولی چلائی ہے تو وجوہات بھی بتائیں لیکن اب ایسے اقداما ت کو عدالتوں میں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

ریاستی ادراے جن مین پولیس اور رینجرز بھی شامل ہین اگر انکے افسران ایک بار کسی کو گرفتار کرلیں تو انکے اہل خانہ کہیں سے انکے لیے معلومات حاصل نہ کر پائین گے کیوں کہ گرفتا ر افراد کے تمام انسانی حقوق معطل اور انکے اہل خانہ کے لیے تمام قانونی راستے بند ہوجائیں گے۔
اگر ایجنسیان ایک بار کسی شہری کو دہشت گر د یا ملک دشمن قرار دیں گی تو وہ مجرم قرار دیا جاء ے گا اور اب یہ اسی شہری کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرے یعنی ریاستی ایجنسیاں کسی کو بھی ملک دشمن ڈکلیئیر کرسکتی ہیں اور اسکے بعد ایک گرفتار شہری اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے اپنی بے گناہی کے ثبوت لائے ورنہ وہ مجرم ہی تصور ہوگا۔

اس قانون کا اگر کسی کو فائدہ ہے تو وہ ایسے اہلکار ہیں جو اپنی ذاتی حیثیت میں لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر تاوان لیکر یا نہ دینے کی صورت میں قتل کردیتے ہیں یا پھر ایسے کیسیز میں ملوث کردیتے ہیں جس سے چھٹکارے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ کراچی میں سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس میں یہ بات اب ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کراچی پولیس کے 40 فیصد افراد جرائم پیشہ ہیں اور وہ سنگین مجرموں کے ساتھ ملکر جرم کرتے ہیں یا ان سے کرواتے ہیں۔

اس قانون کا ایک پہلو اور ہے کہ اب بے گناہ افراد کو انصاف عام عدالتوں نہیں ملے گا اور انھیں اسپیشل کورٹ سے انصاف لینے کی اُمید کرنی ہوگی جہاں پہلے ہی کام کے دباو اور مقصدیت کے حصول یعنی سزا پہلے دے دو پھر بعد میں دیکھا جائے گا یعنی اب بے گناہ افرا کے لیے انصاف دودھ کی نہر نکالنے جتنا مشکل ہوگا ۔

اس قانون میں ایک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور سیاسی چال چلی گئی ہے ۔ اب ریاست، سیکوریٹی ادارے یا پھر کوئی بھی حکومت کا نمائندہ کسی بھی شہری کو دہشت گر د قرار دے کر اسکی شہریت ختم کرسکتا ہے ۔ یہ اختیا اب تک صرف اسرائیل کی یہودی حکومت کے پاس ہے ۔ اس قانون کا کوئی جواز سرے سے نظر ہی نہیں آتا ہے ۔ جب ایک شخص کے لیے سزا کا قانون موجود ہے تو اس سے اسکا پیدائیشی حق چھیننے کے پیچھے کیا راز ہے۔ سوائے اس کے کہ یہ قانون بہت جلد بہت سارے سیاسی مخالفین کے لیے استعمال ہوگا۔ اور شائد کراچی میں تو اسکی لائین لگنے والی ہے اس لیے کہ کراچی میں جب دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو جگہ نہیں ملے گی تو یہ دونوں آپس گٹھ جوڑ سے شائد متحدہ قومی مومنٹ پر وار کریں گے۔

Advertisements

One thought on “PPO: Pakistan Protection Ordinance or an instrument of Coercion against political opponent

  1. ایک شاندار اور بے لاگ تبصرہ، گو کہ چند جہتیں تشنہ رہ گئ ہیں اور مزید تفصیل کی متقاضی ہیں مگر آپ نے جس موضوع کو جس انداز میں بیان کیا ہے بے شک قابل تحسین ہے۔ مجھ جیسے طالب علموں کے لیے اپنے علم اور سوچنے کے انداز میں وسعتیں پیدا کرنے کے لیے مددگار ہے۔ خدا آپ کے زور قلم میں اضافہ فرماے آمین۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s