متحدہ کے بعض ہمدردوں میں ریاستی امور اور اس کے اداروں کے مقاصد سے لاعلمی کے نتیجے میں اردو بولنے والے اپنا بھی بہت بڑا نقصان کررہے ہیں اور اپنے ہی نمائیندہ تحریک کو بہت بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اردو بولنے والے ہمدردوں میں ریاست کے اداروں کے مقاصد سے لاعلمی کے نقصانات براہ راست متحدہ قومی مومنٹ اور اردو بولنے والوں کو ہی اُٹھانے پڑ رہے ہیں۔
متحدہ کے بعض ہمدردوں میں ریاستی امور اور اس کے اداروں کے مقاصد سے لاعلمی کے نتیجے میں اردو بولنے والے اپنا بھی بہت بڑا نقصان کررہے ہیں اور اپنے ہی نمائیندہ تحریک کو بہت بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اگر امن کمیٹی والے بھتے کی پرچی دیں تو متحدہ کا ہمدرد یہ کہتا ہے کہ ایم کیو ایم کیا کررہی ہے ہم نے اس کو ووٹ دیا یہ ہمیں تحفظ نہیں دے رہی ہے، امن کمیٹی پورے کراچی کے تاجروں سرمایہ داروں کو اغوا کرے، قتل کرے اور بھتہ لے، اور سرمایہ دار و تاجر کہں متحدہ کیا کررہی ہے، غرض یہ کہ کراچی میں کچھ بھی ہو قصبہ علیگڑھ میں حملہ ہو ہمدرد کہیں متحدہ کیا کررہی ہے
ارے بھائی خدا کے واسطے سمجھو سیاسی تحریکوں کو جب تم ووٹ دیتے ہو تو ایک خود مختار ریاست میں صرف اسمبلی میں جاکر تمہارے لیے آوارز بلند کر سکتں ہیں۔
کسی قوم کی نسل کشی ہو، انکی آبادیوں پر حملے ہوں تو ریاست کی پولیس، اور اگر معاملات حد سے بڑھ جایئں تو پیرا ملٹری فورس، اور مذید بگڑ جائیں تو فوج ایسے معاملات دیکھتی ہے اور عدالتیں جرم میں ملوث افراد کو سزا دیتی ہیں۔ مگر ہمدردوں کی عجیب منطق ہے کہ ہم نے ایم کیو ایم ووٹ دیا ہے لہذا ایم کیو ایم ذمہ دار ہے۔ اگر ایم کیو ایم بساط کے مطابق درندوں کے راستے میں روکاوٹ اور انھیں قتل و غارت گری سے روکنے کی کوشش کرے تو پھر تم ہی نہیں یہ سارے ریاستی ادارے کہیں کہ متحدہ میں ملیٹنٹ وونگ ہے، اور تم کو سانپ سونگھ جائے، تم میں اس کی حمایت اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج کی ہمت بھی نہ ہو
تاجروں اور سرمایہ داروں کی بھی یہی رٹ ہے کہ انھوں نے متحدہ کو ووٹ دیکر خرید لیا ہے اور ان سے بھتہ لینے، اغوا کرنے والوں سے متحدہ کو نمٹنا چاہیے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ تمام مہذب معاشرے میں ریاستی ادارے شہریوں کو تحفظ دینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں کیوں کے عوام کے ٹیکسوں سے انکے گھر کا چولہا جلتا ہے۔
ارے بھائی پولیس، رینجرز، عدالت، حکومت اور سب سے بڑھ کر ملک کی نظریاتی و زمینی حدود کی حفاظت کی علمبردار فوج کیا آلو تلنے کو بیٹھی ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ دار و تاجر چیخ چیخ کر تھک گئے سارے ادارے کان میں تیل ڈال کر سوتے رہے اور الیکشن کے دوران نزلہ بیچاری متحدہ پر گرا۔ جبکہ الطاف بھائی نے جب ان کمبختوں کو ایک لاکھ لڑکے فراہم کرنے کی پیشکش کی تو کراچی دشمنوں کے ساتھ ملکر راگ الاپنے لگے کہ متحدہ اپنی الگ فوج بنانا چاہتی ہے۔
اردو بولنے والوں اپنے طریقے درست کرو شہریوں کے حقوق ایک آذاد و مملکت میں کیا ہوتے ہیں اور انکے تحفظ کی ذمہ داری داری سیاسی تحریکوں کی ہوتی ہے یا ریاست کے امور چلانے والی حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی؟ اس بات کو آپس میں ایکدوسرے کو سمجھاو ورنہ ایسے ہی بدست گریباں رہنا اور لوگ تمہارے گھر میں نقب لگاتے رہیں گے تمہیں بُرا لگے تو لگے میری اور تمہاری مائیں اپنے جوان بچوں کی لاشیں اُٹھاتی رہیں گی، بیویاں بیوہ اور بچے یتیم ہوتے رہیں گے، تم اپنی بیوقوفانہ سوچ جاری رکھو اور پولیس کے روپ میں جرائم پیشہ افراد، رینجرز کے روپ میں اس سے بڑے ظالم اور عدالت کے روپ میں متعصب ریاسی ادارہ سب تمہارے معاملے میں یا تو لاغر یا بے پرواہ بنے رہیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s