سوشل میڈیا کے رکن جو یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر کام کر رہے ہیں انکے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ اور انکے درمیان معلومات کے تبادلے کے فقدان کی وجہ سے ہر یونٹ اپنی سطح ہر کام تو بہت اچھا کر رہا ہے لیکن اسکا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔

میں نے کل بھی لکھا تھا آج پھر کہہ رہا ہوں۔ جو ہو رہا ہے ہم اس کو روک تو نہیں سکتے ہیں۔ مگر ہم اس عمل میں اس کا ردعمل بلکل ذیادہ مومنٹم سے کر کے دکھا سکتے ہیں اور ہمارے مخالفیں کو مٹی چٹا سکتے ہیں مگر ہم اہنے معاملات میں چیزوں کے درمیان پرایئوریٹی طے کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ 
سوشل میڈیا کے رکن جو یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر کام کر رہے ہیں انکے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ اور انکے درمیان معلومات کے تبادلے کے فقدان کی وجہ سے ہر یونٹ اپنی سطح ہر کام تو بہت اچھا کر رہا ہے لیکن اسکا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ یونٹ اور سیکٹر کے ذمہ داران اپنے کام کے پریشر کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ارکان کو ایسے ہی استعمال کر رہے ہیں جیسے دوسرے کارکنوں کو ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ ان ذمہ داروں کو سوشل میڈیا کے افراد کی ہر وقت آپس میں رابطے کی اہمیت کا علم ہی نہیں اور کسی بھی سائبر وار کے لیے کوئی ٖٹارگیٹ دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ 
اس الیکشن کے دوران جب ہمارے مخالفین پہلے سے اس بات کے لیے تیار تھے کہ اُن کو ہم پر الزام لگانا ہے اور اس کے لیے انھوں نے ڈرافٹ کمپلین ای میل تیار کر رکھی تھی۔ ان کے سوشل میڈیا کے ارکان نے وہاں بھی کراچی میں اردو بولنے والوں سے رابطہ بنائے رکھا جہاں انکا ایک نمائندہ پولنگ اسٹیشن میں نہیں تھا لہذا ان پولنگ اسٹیشنز میں بھی ان کو بہت کم سہی مگر ووٹ پڑے۔ جبکہ ہمارے سوشل میڈیا کے ارکان جن کی تعداد کسی صورت میں دوسروں سے کم نہیں ہے کو انکے یونٹ اور سیکٹر کے ذمہ داران نے الیکشن میں انگیج رکھا نتیجہ ہم تک بہت دیر میں اُن کے کرتوتوں کا پتہ چلا۔
اُنھوں نے احتجاج سے پہلے اپنے ڈرافٹیڈ کمپلین ای میل کو فائنلائز کیا اور پھر اس کو اپنے ارکان کو بھیج دیا جنھون نے یہاں تک کہ الطاف بھائی کے خلاف برطانیہ تک کمپلین کرنا شروع کردیا۔ ہمارے ناعاقبت اندیش تو کہنا درست نہ ہو گا مگر ذمہ داروں کی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ سائبر وار فئیر کی اہمیت کو سمجھ سکیں آج بھی ان کارکنوں سے کارٹون اور رنگ برنگے خبر ہی بنوارہے ہیں وہ بھی تمام یونٹ علیحدہ علیحدہ۔
یہ لوگ کارکنوں کو یہ میسیج تو بھیج دیتے ہیں کہ ایکٹو ہو جائیں لیکن مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے ٹارگیٹ بتانے سے قاصر ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ یہ ڈرافٹیڈ ای میل ہے اس کو الیکش کمیشن آفس بھیجیں اور ان سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
اگر یہی رویہ رہا تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ الطاف بھائی کی براہ راست حکم پر سائبر کام کے ڈیپارٹمنٹ کو اپ گریڈ کیا گیا اس میں بڑے ہی اہلیت و قابلیت والے ذہم داران بنائے گئے۔ لیکن یونٹ اور سیکٹر کا اپنے ساتھیوں پر کلی اختیار نے اس کے ایمپیکٹ کو گھٹا دیا۔ ہر یونٹ اپنی سطح پر آذاد اور تنظیمی کمیٹی سے منسلک ہے مگر چونکہ تنظیمی کمیٹی کا ہر کام میں پرفیکٹ ہونا صروری نہیں جس کا احساس شائد اس کو ہے ہی نہیں اس لیے سائبر وار فئیر میں ہم ناکام ہو رہے ہیں ہمارے قائد کی حرمت تک بات پہنچ چکی ہے اور ہم اپنی طرف سے اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں پوری قوت کے ساتھ اُترنے کے بجائے آج بھی جاہلانا تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔

Advertisements

One thought on “سوشل میڈیا کے رکن جو یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر کام کر رہے ہیں انکے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ اور انکے درمیان معلومات کے تبادلے کے فقدان کی وجہ سے ہر یونٹ اپنی سطح ہر کام تو بہت اچھا کر رہا ہے لیکن اسکا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s