آخر ہم جیسے لوگ کیوں اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ متحدہ کو ہر ایسے بم دھماکے پر جس سے کراچی کے شہریوں کا قتل ہو یوم سوگ جاری رکھنا چاہیے بلکہ اس میں مذید شدت لانی چاہیے۔

ساتھیوں، ہمدردوں اور کراچی کی تمام زبان بولنے والوں سے اپیل ہے کہ اس کو ایک بار بار پڑھیں اور ذیادہ سے ذیادہ شئیر کریں۔
آخر ہم جیسے لوگ کیوں اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ متحدہ کو ہر ایسے بم دھماکے پر جس سے کراچی کے شہریوں کا قتل ہو یوم سوگ جاری رکھنا چاہیے بلکہ اس میں مذید شدت لانی چاہیے۔
ہمیں ہمارے بزرگوں نے چیچنیا کے اس سالار کے قصے سنا کر بڑا کیا ہے جس نے جنگ لڑنے سے پہلے اہنے علاقے کے معتبر لوگوں سے پوچھا تھا کہ اس جنگ میں ہماری ہار یقینی ہے اور روسی ہم پر فتح حاصل کرلیں گے تو کیا ہم جنگ لڑیں یا بغیر لڑے شکست تسلیم کرلیں، دونوں صورتوں میں ہماری بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہو جائیں گی تو دوسرے دن اس گاوں کی تمام نوجوان لڑکیوں کی لاشیں صبح کے وقت کنووں سے نکالی گئیں۔ ہم وہ نہیں جو نام نہاد جہاد کے نام پر تین نسلوں کو افغانستان میں یتیم کردیں اور پھر انکی عورتوں اور بچیوں کو تول تول کر پاکستان کے بارڈر پر کوٹھوں اور قحبہ خانوں کی زینت بنانے کے لیے بیچ دیں۔ ہم بم دھماکوں پر احتجاج کرتے رہیں گے اور اگر ان ایجنسیوں نے ان کو روکنے کیلیے کوئی مربوط کاروائی کا سلسلہ شروع نہ کیا تو ہم اس احتجاج کی شدت میں اضافہ کریں گے اور اس کو دنیا کہ تمام باضمیر اقوام تک لے جائیں گے
یوم سوگ کی مخالفت پر ہزاروں مظبوط دلائل دیے جارہے ہوں گئے مگر جو لوگ یوم سوگ کی مخالفت میں دلائل دے رہے ہیں وہ یا تو سیاسی مخالفیں یا ایسے لوگ ہیں جو براہ راست یا بلاواسطہ متاثر نہیں ہیں۔
اس شہر میں بارود کی بو بھر دینے والے لوگ اب یہاں بے حسی کو اس چادر کو تان دینا چاہتے ہیں کہ کہیں کوئی مرے، اغوا ہو یا قتل، بھتہ دے یا لُٹ جائے اس پر کوئی آواز بلند کرنے والا نہ ہو۔
جب سوات میں آپریشن کے ڈرامہ رچاکر تمام طالبان کو کراچی میں ایک منصوبہ بندی کے تحت بسایا جارہا تھا تو صرف الطاف بھائی کی ٹیم اس پر آواز بلند کر رہی تھی کہ ہمارے ملک کی معاشی جڑ کو زہر آلود پانی سے سیراب کیا جارہا ہے جو اس شہر کو آگ اور خون سے بھر دے گا تو اُس وقت ساری مخالف سیاسی قوتیں اور ایک نام نہاد مذہبی تنظیم جو اعلی کردار کا پرچار کرتے نہیں تھکتی اور جس کے خیبر پختون خواہ کے انتخابی دفتر سے 90000 جالی بیلٹ پیپر برامد ہوا ہے نے ہنسی اُرائی اور آج اس شہر کا سکون صرف اس لیے غارت ہو گیا کہ جتنے طالبان ہورے خیبر پختون خواہ میں نہیں ہیں اس سے ذیادہ لوگ اب کراچی کی مضافاتی بستیوں میں پناہ لے چکے ہیں اور ایک مذہبی تنظیم کے افراد ان کی فنڈنگ کرتے ہیں۔
اسی طرح سیلاب کے بہانے جرائم پیشہ افراد کو کراچی میں پورے سندہ سے لاکر بسایا گیا اور ان میں سے ذیادہ تر افراد اغوا برائے تاوان، گاڑیاں چھیننے اور اسٹریٹ کرائم جسی وارداتوں میں ملوث ہیں۔
کوئی اس بات پر بحث چھیڑنے کو تیار نہیں کہ آخر ان بم دھماکوں اور ٹارگیٹ کر کے ایک خاص زبان بولنے والے لوگوں کی قتل کی وارداتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ اب کوئی یہ نہیں بول رہا کہ جتنے لوگ روز مر رہے ہیں ان میں سے اردور بولنے والے کتنے ہیں اور غیر اردو بولنے والے کتنے۔ اب ایک اُمت یہود اخبار یہ نہیں بتاتا کہ بم دھماکے میں کتنے مہاجر مرے ہیں اور کتنے ٹارگیٹ کر کے مار دیے گئے ہیں اس شہر کی پولیس کے کالے بھیڑیے اب عدالتوں اور اپنی ہائیر اٹھارٹیز کو یہ ریپورٹ نہیں کر تے کہ جناب یہ تو مہاجروں کا سراسر قتل ہو رہا ہے اور ان ہی کی کاروباری سرگرمیاں اغوا اور بھتہ کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ رینجرز اب عدالتوں میں جاکر یہ نہیں بتا رہی کہ ہم نے مہاجر علاقوں سے تو انکی حفاظت کا سارا انتظام و انصرام تہس نہس کر دیا ہے اور اب تو وہ اپنی گلیوں اور محلوں میں بھی مارے جارہے ہیں تو عالی جناب اب آپ کا کیا حکم ہے ہم ان کو مذید اور کیا ظالمانہ قدم سے متحدہ سے دور کر سکتے ہیں
وہ لوگ جو اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ بم دھماکوں کے بعد سوگ کا ایک دن بھی نہیں ہونا چاہیے وہ ایسے ماحول سے اُٹھ کر آئے ہیں جہاں عورتوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے اور ان کا نمائنداہ اسمبلی میں اپنے گریبان کے بٹن کھول کر کہتا ہے کہ یہ ہماری راوایات ہیں اور اس کے ہم پیالہ و ہم نوالہ اس کی آواز میں آواز ملا کر راگ کو اور مظبوطی سے الاپنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے خاندانوں میں ایک قتل کے بعد سوگ نہیں بلکہ اور قتل کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔
ان کے شہروں پر ڈرون کے حملے ہوتے ہیں اور یہ بڑے احتجاج کے بجائے اس کے باسیوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ چونکہ امریکہ آپ کو مار رہا ہے اس لیے آپ پاکستان کے دوسرے شہریوں کو ماریں۔ کوئی سول تحریک نہیں ہے جو ان حملوں کے خلاف منظم طور پر احتجاج کرنے کے لیے سامنے آئی ہو۔ نتیجہ حملے ہو رہے ہیں اور سوگ نہیں ہے۔ جس گھر کے لوگ مارے گئے ان کہ گھروں میں کوئی جھانک کر دیکھنے والا نہیں کہ اب انکے گھروں میں جوان بیوہ عورتیں اور نوجوان لڑکیاں اپنے پیٹ بھرنے اور بچ جانے والے بوڑھے، بیمار، کمزور اور بچوں کو ذندہ رکھنے کے لیے کن کے بستر گرم کرتی ہیں یا کن کوٹھوں کی زینت ہیں۔ ان ملاؤں پر اللہ کی لعنت جنھوں نے معاشرے کو بے حسی کی طرف ڈال دیا۔
اب یہ لوگ جن میں سب سے آگئے ایک اُمت یہود اخبار اور ایک کلیساوں کے پادیوں جیسی داڑھیاں رکھ کر مذہب اسلام کے نام پر ایک جماعت غیر اسلامی چلا رہے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ یوم سوگ نہ منایا جائے یعنی ہم مرتے رہیں اور نوحہ نہ کریں، ماتم و بپا نہ کریں، لُٹے رہیں اور شور نہ مچائیں، اغوا ہوتے رہیں اور تاوان دے کر اپنے مغویوں کی لاشین دفنائیں۔ مگر نعرہ احتجاج نہ بلند کریں یہ جتنی قوت یوم سوگ کی مخالفت میں ضائع کرتے ہیں اس کا ایک حصہ بھی اگر بم دھماکوں، ٹارگیٹ کلنگ کی اصل وجوہات اور مجرم، اغوا کرنے والوں اور بھتہ کو انڈسٹری کا درجہ دینے والوں کے خلاف استعمال کرتے تو معاشرے کے وجود کو ان مجرموں سے پاک کیا جاسکتا تھا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم احتجاج کرتے رہیں گے، کیوں کہ ہمیں اپنی بیٹیوں کو کوٹھوں میں دیکھ اور دوسروں کے بستر گرم کرنے پر مجبور ہو جانے سے پہلے جو کچھ بن پڑے گا کریں گے۔ ہمیں ہمارے بزرگوں نے چیچنیا کے اس سالار کے قصے سنا کر بڑا کیا ہے جس نے جنگ لڑنے سے پہلے اہنے علاقے کی نوجوان لڑکیوں سے پوچھا تھا کہ اس جنگ میں ہماری ہار یقینی ہے اور روسی ہم پر فتح حاصل کرلیں گے تو تم لوگ کیا کرو گے تو دوسرے دن اس گاوں کی تمام نوجوان لڑکیوں کی لاشیں صبح کے وقت کنووں سے نکالی گئیں۔ ہم وہ نہیں جو نام نہاد جہاد کے نام پر تین نسلوں کو افغانستان میں یتیم کردیں اور پھر انکی عورتوں اور بچیوں کو تول تول کر پاکستان کے بارڈر پر کوٹھوں اور قحبہ خانوں کی زینت بنانے کے لیے بیچ دیں۔ ہم بم دھماکوں پر احتجاج کرتے رہیں گے اور اگر ان ایجنسیوں نے ان کو روکنے کیلیے کوئی مربوط کروائی کا سلسلہ شروع نہ کیا تو ہم اس احتجاج کی شدت میں اضافہ کریں اور اس کو دنیا کہ تمام باضمیر اقوام تک لے جائیں گے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s