ریاستی دہشت گردی کے لیے آج تک صرف پولیس،فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہی استعمال ہوتی رہی ہیں مگر کراچی کے مستقل باشندے ایک نیے انداز کی عدلیہ دہشت گردی کا شکار ہیں۔۔

ریاستی دہشت گردی کے لیے آج تک صرف پولیس،فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہی استعمال ہوتی رہی ہیں مگر کراچی کے مستقل باشندے ایک نیے انداز کی عدلیہ دہشت گردی کا شکار ہیں۔۔
اس ملک میں کراچی شہر کو دہشت ذدہ کرنے کیلیے دہشت گردی تو صرف ایک چھوٹا سا پہلو اس شہر کو عدالتی حکم کے ذریعے بھی دہشت ذدہ کیا جارہا ہے۔ متحدہ کے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق جو درخواست تھی اس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوے یہ کہا گیا کہ یہ فیصلہ 22 اپریل کو سنایا جائے گا اور اسی دوران نئی حلقہ بندیوں کے مطابق NADRA کے ریکارڈ کے مطابق الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ شروع کردی اور چاروں صوبوں میں یہ لکھ کر بھیج دیا کہ اگر کسی بھی صوبے میں کوئی حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن کو مطلع کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن اس کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرسکے۔ ادھر عدالت نے 22 کو فیصلہ نہ کیا بلکہ متحدہ کے اس اعتراض پر کہ جب تک حلقہ بندیوں پر کوئی فیصلہ نہیں آجاتا الیکشن کیمشن کو بیلٹ پیپر کی چھپائی سے روکا جائے عدالت کے پاس کوئی بہانا نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے مجبورا” الیکشن کمیشن کو حکم جاری کیا کہ بیلٹ پیپر کی چھپائی نیئ حلقہ بندیوں کے مطابق روک دی جائے اور 24 اپریل تک کیلیے اس کام کو بند کردیا جائے، 24 تک چونکہ اندرونی طور پر نئی حلقہ بندیوں کے حکم کو درست قرار دینے کے ڈرامے کے اسکرپٹ کو تیار نہیں کیا جاسکا لہیذا 26 اپریل تک کے لیے مذید ایک بار حکم امتناعی جاری کیا گیا اور 26 اپریل تک جب ڈرامہ کے تمام کردار اور اسٹیج نہیں سجایا جاسکا تو آج الیکشن کمیشن کو مذید روکنے کے بجائے اس پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا گیا یعنی عدلیہ دہشت ذدہ کرنے پر اُتر آئی ہے اور کراچی کے مستقل باشندوں کے ووٹ کے حق کو اپنی مرضی سے اینجینئرڈ کر رہی ہے۔ 
چونکہ جنید فہمی بھائی کی ٹیم نے اقوام متحدہ میں ایک یاداشت پیش کی تھی کہ ہمارے مینڈیٹ کو قانوں ناٖفذ کرنے والے اداروں اور اب نام نہاد آزاد عدلیہ کے ذریعے چھینا جارہا ہے تو یہاں ڈرامے شروع کیے گئے۔ چونکہ اس فیصلے کا غیر قانونی ہونا اگر ثابت نہ بھی کیا جاسکے تو بھی یہاں قانون کو ایک مخصوص زبان بولنے والوں پر متعصابنا طور پر اطلاق کرنا ثابت ہوتا ہے تو عدالت نے ایک ڈرامہ کیا اور فیصلہ کرنے کے بجائے محفوظ کرلیا یعنی تمام فیصلے روز کی بنیاد پر کیے جارہے ہیں، مشرف سے بدلہ لینا ہے تو مشرف کو روز کی بنیاد پر ایک فیصلہ سنا کر کبھی گرفتار کیا جارہا ہے تو کبھی اس کا جسمانی ریماںڈ لیا جارہا ہے مگر چونکہ کراچی میں الیکشن کو اینجینئیرڈ کرنا ہے اس لیے کراچی کی نئی حلقہ بندیوں کے فیصلے کو محفوظ کرکے الیکشن کمیشن کو ٹائم دیا گیا۔ پھر الیکشن کمیشن نے صوبوں کو خط لکھا کہ آپ کے یہاں کوئی نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت تو نہیں ہے اور جواب ندارد کیوں کہ کسی صوبے کے نگراں میں یہ ہمت ہی نہٰیں کہ وہ اس بات کو مشتہر کرے کہ اگر ووٹر کو اعتراض ہے تو ہو اعتراض داخل کرے ہزارہ، سرائیکی بیلٹ اور بلوچستان سے ہزاروں اعراضات آجایئں گے۔ چلیں اس کو چھوڑ دیا تمام صوبوں میں اگر نئی حلقہ بندیاں کرنا ہے تو اس جگہ کے لوگوں سے پوچھنا ضروری ہے مگر چیف جسٹس صاحب کے یہاں انصاف کے تقاضے اور ہیں اس لیے انھوں نے ان سیاسی تنظیموں جن کو ان علاقوں میں جہاں نئی حلقہ بندیاں کی گئین ہیں کبھی ووٹ ملے ہی نہٰیں کے کہنے پر یہ حکم نازل فرمایا کہ نئی حلقہ بندیاں کردی جائیں۔ 
اقوام متحدہ میں یاداشت چلے جانے کہ بعد یہاں عدالت کے متعصبانا، غیر آئینی، غیراخلاقی اور غیر فطری حلقہ بندویوں کو بین الاقوامی ادارں میں درست ثابت کرنے کے لیے اس کے کمزور پہلوں پر توجہ دی گئی اور خط لکھوائے گئے مگر اب بھی چونکہ ساری کمزوریاں دور نہیں کی جاسکیں ہیں اس لیے فیصلے کو محفوظ کرلیا گیا ہے یعنی فیصلہ تو وہی کرنا ہے صرف انتظار کیا جارہا ہے کہ متحدہ اس فیصلے پر دوبارہ اقوام متحدہ جائے گی یا نہیں؟؟؟

Image

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s