Attention APMSO

Attention APMSO
ہمارا کام آپ تک اپنی رائے پہنجانا ہے آپ مانیں یا نا مانیں آپ کی مرضی۔ اپنے شہر میں ہی ہمارے خلاف تعلیمی اداروں میں سوشلی ایکٹو بچے اتنی مختلف رائے رکھیں تو کیا؟؟؟ کہاں سے لاؤں وہ خالد مقبول صدیقی اور محمود بھائی گئے وہ دور اب میرے دوستوں کے پاس کرنے کے لیے بڑے کام ہیں 15 یا 20 سال کا کون سوچے کے کیا ہوگا ہمارا؟؟؟؟

اے پی ایم ایس او کے ذمہ داروں سے ایک گذارش، اگر پسند آے تو توجہ دیں ورنہ کچرے کے ڈبے میں بھینک دیں۔
نہ صرف یہ کہ کراچی بلکہ پورے پاکستان میں تعلیمی اداروں میں کئی طرح کا نظام تعلیم موجود ہے اور ایک گھسا پٹا نظام تعلیم بھی ہے جو سرکاری اداروں کا ہے۔ 
کراچی میں باالخصوص کچھ تعلیمی نظام ایسے ہیں جن پر ہماری توجہ تو ضرور ہوگی لیکن شائد ہماری آواز اتنی طاقتور نہین ہے کہ ان اداروں کے بچوں پر ہمارے فلسفے کا خاطر خواہ اثر نظر آے۔ مثلا” 
اے لیول کا نظام تعلیم جو کہ اشرافیہ اور سفید پوش مہاجروں میں کافی مقبول ہے اس نظام سے نکلنے والے آٹے میں نمک کے برابر اے پی ایم ایس او میں نظر بھی آتے ہیں۔ اے لیول کے نطام میں پری میڈیکل کی فیلڈ میں بڑی تیزی سے لوگوں کا انٹریسٹ بڑھا ہے کیوں کہ سندہ میں میڈیکل کی سطح پر داخلے کے کرائیٹیریا کو تبدیل کیا گیا ہے اور اب کوئی بھی اسٹوڈنٹ اگر کراچی سے اے لیول کرتا ہے تو وہ ایکویویلینس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے بعد کراچی سے انٹر کرنے والے بچوں کے برابر ہی تصور ہوگا۔ چونکہ اسکے نظام تعلیم میں ذیادہ بہتر فیسیلیٹی موجود تھی لہذا وہ ذیادہ آسانی سے اپٹیچوڈ ٹیسٹ پاس کرلیتا ہے اور پھر اس کا داخلہ کراچی کے میڈیکل کالجیز میں ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہماری توجہ صرف سرکاری کالیجز سے آے ہوے بچوں کی جانب ہوتی ہے جو سوشلی بہت ایکٹو نہیں ہوتے لہذا شائد ہماری طلبہ تنظیم میں موجود طلبہ و طالبات کی تعداد تو کم نہیں ہے مگر اس کا ایفکیٹو ہونا انتہائی خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ آغا خان بورڈ ایک تیزی سے پھیلتا ہوا تعلیمی نظام ہے جس میں اب تک صرف چیدہ چیدہ گھرانوں کے بچے آرہے ہیں یہ نظام تعلیم تو پری انجینیرنگ میں کوئی مقبولیت حاصل نہ کرسکا مگر پری میڈیکل کی سطح پر اس کرائیٹیریا کی وجہ سے کہ اگر آپ نے میٹرک کراچی سے اور آغا خان بورڈ سے انٹر کیا ہے اور کراچی سے انرولڈ تھے تو آپ کو برابری کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے گا۔ اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ ان کالجوں جہاں یہ تعلیم دی جا رہی ہے وہاں ہماری کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ اس نظام کی تعلیم کالج لیول پر کئی جگہ دی جارہی ہے مگر دو ادارے ایسے ہیں جو نہایت مقبول ہیں۔ جب اس نظام تعلیم کے بچے میڈیکل کالجز میں جارہے ہیں تو ان میں آپ کے فلسفے سے علیحدہ ایک احساس ہے جو آپ کے لیے اتنا فیوریبل نہیں ہے۔ 
بلکل اسی طرح کچھ تعلیمی ادارے انٹر لیول پر نجی اداروں کے طور پر کراچی بورڈ سے تو الحاق رکھتے ہیں مگر اتنی عمدہ تعلیمی سہولیاب مہیا کرتے ہیں کہ ان کالجوں کے بچے ایک مکمل تعلیم یافتہ اور انٹلیکچولی کمپیٹینٹ ہوتے ہیں۔ مگر آپ کا تاثر ان اداروں میں مقبول نہیں ہے۔ 
کراچی میں جتنے بچے میڈیکل کالجز (یونیورسٹیز) میں داخل ہو رہے ہیں اس کی آدھی تعداد اب اے لیول، آغا خان بورڈ، انٹرنیشل بیکیلوریٹ، اور انٹر بورڈ مگر نجی تعلیمی ادارے سے آرہے ہیں اور یہ سب آپ سے مختلف سوچ لیکر آرہے ہیں 
کل مصطفی کمال کے موجودگی میں جو پروگرام ایکسپریس نیوز پر چلا ہے اس میں جن طالبات نے سوالات پوچھے ہیں ان کے اںٹر کی تعلیم کی تحقیق کر لیں اے پی ایم ایس او کے لیے یہ بات مشکل نہیں ہو گی کیونکہ ان اداروں میں اب بھی ان کا اثر و رسوخ اتنا تو ہے کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بچے کس تعلیمی ادارے سے آے ہیں تو ان کے ذمہ داروں پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے کہ ذیادہ تر بچے نجی تعلیمی اداروں سے تھے۔
ہمارا کام آپ تک اپنی رائے پہنجانا ہے آپ مانیں یا نا مانیں اور سوتے رہیں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں اور بھائی کے فلسفے کو لگے آگ تو کسی کا کیا؟؟؟؟ اپنے شہر میں ہی آپ کی بات کوئی نہ سنے اور تعلیمی اداروں میں سوشلی ایکٹو بچے آپ سے مختلف رائے رکھیں تو کیا؟؟؟ کہاں سے لاؤں وہ خالد مقبول صدیقی اور محمود بھائی گئے وہ دور اب میرے دوستوں کے پاس کرنے کے لیے بڑے کام ہیں 15 یا 20 سال کا کون سوچے کے کیا ہوگا ہمارا؟؟؟؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s