نئی حلقہ بندیوں سے وہ علاقے جن میں نئی آبادیاں جو کے اقلیت ہوں گی پر پھر اٹیک کیے جائیں گے اور پوری پوری آبادیاں خالی کروائی جائیں گی۔

نئی حلقہ بندیوں سے وہ علاقے جن میں نئی آبادیاں جو کے اقلیت ہوں گی پر پھر اٹیک کیے جائیں گے اور پوری پوری آبادیاں خالی کروائی جائیں گی۔
چیف چسٹس صاحب: عدالت کا نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ مہاجروں کے قتل عام کی بنیاد بنے گا۔ چیف جسٹس چمپئیں بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو ذرا الاعظم اسکوائر جو کہ مہاجروں کی ملکیت ہے کو خالی کرنے کا حکم صادر فرمادیں اس کے بعد ان کو اپنی طاقت اور حثیت کا پتہ چل جاے گا۔
حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیے بغیر ریاست کے ایک ستون عدالت کی طاقت کا اندھا اور غیردانشمندانہ استعمال کراچی ہی کو نہیں بلکہ پورے ملک کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیگا۔
کراچی کے باہر سے آے ہوے ججز کو یہ پتہ نہیں کہ کراچی ایک ایسا شہر تھا جس میں ہر زبان ہولنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر رہتے تھے۔ مگر کچھ پاکستان کے دشمن لوگ جو ایجنسیز میں اور کچھ مذہبی تنظیموں میں موجود ہیں نے اس شہر کو جلا کر راکھ کردیا۔ کیا رینجرز کا کھل کر گینگ وار کی حمایت میں عدلیہ کی تضحیک اس کی مثال نہیں ہے؟؟
جب 1986 میں بشرا زیدی واقع ہوا تو جماعت غیر اسلامی نے اس بچی کی لاش کو بنارس چوک لے جاکر اس لڑائی کو مکمل طور پر دو قومیتوں کی لڑائی کا روپ دلوایا جس بعد بد ترین قتل و غارت گری ہوئی اور مہاجروں کی آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ مہاجر قتل ہوے۔ 
اس ایک فیصلے نے جو کے بشرا کی لاش کو پٹھان آبادی میں لے جاکر احتجاج کرنے کا تھا، سے ایک ایسی لڑائی چھڑی کے دونوں کا ایک دوسرے پر شک بڑھا اور پھر دونوں کے افراد جو ان کی آبادیوں میں تعداد میں کم تھے کو مجبورا” وہاں سے نقل مکانی کرنی پڑی۔ مہاجر آبادیوں سے تو پٹھان اپنی جائدادوں کو پوری قیمت میں بیچ کر چلے گئے لیکن پٹھان آبادیوں میں رہنے والے مہاجروں کو اپنے گھر بار ایسے ہی چھوڑ کر جانا پڑا پھر ان پر ڈرگ مافیا نے قبضہ کیا اور انھیں کئی بار آپس میں ہی بیچ کر قانونی کمزوریوں کا فائدہ اُٹھایا اور اگر قانون کو کمزور نہ کر سکے تو پھر مالکوں کو اپنی جائدادوں پر واپس نہ آنے دیا اور آج تک کتنی ہی حکومتیں آئیں لیکن ان کی جائدادیں انھیں واپس نہ ملیں۔
جائدادوں پر قبضے کی ایک گھناونی مثال سھراب گوٹھ میں الاعظم اسکوائر ہے
چیف جسٹس چمپئیں بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو ذرا اس جگہ کو خالی کروادیں ان کو اپنی طاقت اور حثیت کا پتہ چل جاے گا۔
ان کو جو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ جو بھی فیصلے کر رہے ہیں وہی عقل کل ہیں لہیذا صحیح فیصلے ہیں۔ ان کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ بغیر ایجنسیوں کو کنٹرول کیے ہوے اور ان میں سے کتے اور بھیڑیوں کو قابو کیے بغیر اصل میں ان کے فیصلے آئیندہ دنوں میں مذید خون خرابے کا باعث بنیں گے۔
نئی حلقہ بندیوں سے وہ علاقے جن میں نئی آبادیاں جو کے اقلیت ہوں گی پر پھر اٹیک کیے جائیں گے اور پوری پوری آبادیاں خالی کروائی جائیں گی۔
چونکہ مہاجروں کے لوگ پولیس اور رینجرز اور آرمی میں نہیں ہیں لہذا ان کی جائداد پر جہاں وہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد اقلیت ہو جائیں گے ان پر حملوں کی صورت میں ریاستی آدارے حرکت میں نہیں ائیں گے اور ان کا قتل عام کیا جاے گا۔ قصبہ اس کی ایک عملی مثال ہے۔
مہاجروں کے قتل کی تمام ذمہ داری کو چیف جسٹس کو قبول کرنا ہوگا۔ 
مہاجروں کو آنکھ کھولنی چاہیے اور اس عمل پر ذیادہ سے ذیادہ آحتجاج کرنا چاہیے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s