عدالت کے فیصلوں میں کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر متحدہ قومی مومنٹ کے خلاف ایسے تبصرے شامل کیے جا رہے ہیں بادی النظر میں جن کا کیس کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت کے فیصلوں میں کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر متحدہ قومی مومنٹ کے خلاف ایسے تبصرے شامل کیے جا رہے ہیں بادی النظر میں جن کا کیس کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔
مُتحدہ کے “مہاجروں کے ساتھ غیر منصفانہ اقدامات اور ریاست کے اداروں کے ہاتھوں ان قتل و غارت گری پر عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے” اور اسکی اخلاقی حیثیت کو بار بار نہایت ہوشیاری سے عدالتی فیصلوں کے دوران غلط ثابت کیا جا رہا ہے۔ میں مندرجہ ذیل پیراگرافز میں ان تین تبصروں کا حوالہ تحریر کر رہا ہوں جن کو شک ہے میرے تبصرے پر وہ ان پیرا گرافز کو عدالت کے فیصلوں میں پڑھ لیں اور خود ہی ان کے اصل مقاصد کے بارے میں رائے قائم کرلیں۔
کراچی بدامنی کیس پیرا گراف 15
1992 سے 1994 کے دوران ریاستی آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرز عمل، قتل و غارت گری، کارکنوں کے اغوا، گرافتاری اور پھر ان کی ہاتھون کارکنوں کا قتل اور لاشوں کو ورثہ کے حوالے نہ کرنا —- اور مذید ——– کے خلاف درخواست دائر کی۔
ان کیسیسز کی سنوائی کے لیے بار بار مختلف تاریخیں رکھی گئیں لیکن مُتحدہ نے کیسیسز کی عدالت میں پیروی نہیں کی نتیجتا” کیس خارج کر دیا۔
کراچی بدامنی کیس پیرا گراف 15
ایسا لگتا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر 1996 میں دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا۔ مُتحدہ نے دوبارہ اس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی اور اس میں —————۔ کیس کی سنوائی کی تاریخ 14-01-1999 رکھی گئی جس میں مُتحدہ کی طرف سے کہا گیا کہ ایک اور وکیل اس کیس کو لڑے گا اور اس کے بعد مُتحدہ نے اس کیس پر کوئی نئی درخواست دائر نہیں کی۔
مختصر فیصلہ ڈی لیمیٹیشن (جی و کل جاری ہوا)
حلقہ بندیوں سے متعلق مُتحدہ کے وکیل نے اپنی درخواست پر ذیادہ ذور نہیں دیا لہذا درخواست خارج کردی گئی۔
کچھ روشنی اُن حقائق پر جس کے باعث میری رائے میں عدالتی تبصرے ذھریلے حد تک غیر ذمہ دارنہ اور حقائق کے بر خلاف ہیں
مہاجرون اور متحدہ کے مہاجر کارکنوں کے قتل و غارت گری کو درست مانتے ہوے عدالت نے پیپلز بارٹی کی بینظیر حکومت کی برطرفی جو کہ لغاری صاحب نے کی تھی کو درست قرار دے کر لغاری کے قدم کو تسلیم کیا تھا۔ نتیجتا” پیپلز پارٹی کی حکومت بحال نہ ہوسکی تھی۔ یا تو عدالت کا بی بی کی حکومت کی برطرفی کو جائز قرار دینا غلط تھا یا پھر —–
ریاست پاکستان نے مُتحدہ کے کارکنوں کی ماروائے عدالت قتل کو تسلیم کیا اور 72 خاندانوں کو آوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے قانون کے مطابق دیت کے پیسے دئیے۔
شائد موجودہ عدالتی نظام میں موجود کچھ لوگ مُتحدہ کو مجبور کرنا چاہتی ہے کہ ریاست پاکستان کے خلاف مُتحدہ کسی ایسے بین الاقوامی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو جاے جس کے باعث پاکستان بقاء پر ہی سوالات اُٹھنے شروع ہوجائیں
ڈی لیمیٹیشن کے سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان کے ریمارکس پڑ لیجیئے آپ کو اندازہ ہو جاے گا کہ مُتحدہ کے وکیل نے کہا تھا کہ ہم دوبارہ عدالت میں تب آئیں گے جب عدالت الیکشن کمیشن کے جواب پر کوئی فیصلہ دے دے گا۔
انصاف کے سب سے طاقتور مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی جوڈیشیل ایکٹئیو ازم کے نتجائج پاکستان کی جغرافیائی حدود کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s