قصہ ایک قوم اور شہر کا جس کی آئیندہ نسلوں کی بقاء اس ملک میں ہی خطرے میں جس کو بنانے میں اس کا خوں اور عصمت کی قربانی شامل ہے۔

مہاجر ہندستان سے سرمایہ، تجربہ، اور بہتر تعلیمی قابلیت لے کر آے تھے۔ انھوں نے یہاں کامیابی کا سفر شروع کیا جس جا فائدہ پاکستان اور اس کے شہیریوں کو پہنچا۔ اپنی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے جب تک اس ملک میں میرٹ رہا مہاجر پر شعبے میں اپنی جگہ بناتے رہے۔ مہاجروں کے کامیابی کے سفر سے گبھرا کر وڈیرے اور اشرافیہ طبقے نے مہاجروں پر ملازمتوں کے دروازے بند کرنا شروع کیا۔
سندھ کی سطح پر تو ظلم کی انتہا کی گئی۔ ایک انوکھا کوٹہ سسٹم نافض کیا گیا۔ جس مقصد سندھ کے پسے ہوے عوام کو آگے لانا تھا۔ عام سندھی عوام کو کیا آگے لانے کی کوشش ہوتی بلکہ کوٹہ سسٹم کو مدت پی کو بابار آگے بڑہایا گیا۔
سندھ میں ایک سازش کے تحت مہاجروں پر زمین تنگ کی گئی جس سے مجبور ہو کر مہاجروں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی کی جس کا فائدہ بھی کوٹہ سسٹم میں دیہی سندہ کو پہنچا۔
80 کی دیہائی سے ایجنسیوں کے اندر موجود کچھ پاکستان کے دشمن بے ضمیر کارندون نے متحدہ کی مقبولیت اور اس کے فلسفے کی ہمہ گیریت کے گبھرا کر یہاں قتل و غارت گری شروع کی۔ ساتھ ہی ساتھ بڑے پیمانے پر دوسرے صوبوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو لا کر یہاں بسانا شروع کیا۔ یہ لوگ آے تو کمانے کیلیے تھے مگر یہاں پر اپنا ووٹ کا حق مانگنے لگے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ جو لوگ کسی شہر میں ٹیکس نہیں دیتے اس کی تعمیر میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے انہیں ووٹ کا حق دلوانے کے لیے آج بھی نام نہاد آزاد عدلیہ پورے ذور شور سے لگی ہوی ہے۔ ان لوگوں کے آنے کے نتیجے میں اس شہر میں وسائل پر بے پنہاہ دباو بڑھا اور نتیجہ کے طور پر روزی روٹی کے حصول کے درئعے کم سے کم ہوتے چلے گئے اور آخر کار آپسی ٹکراو شروع ہوا جو ایک آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
ہماری ناعقبت اندیشی کہ ہم کو 20 سالوں سے ایسا الجھاے رکھا کہ ہم اپنے اصل سرمایہ تعلیم سے بھی گے۔ جب نقل کا رجحان بڑھا اور مہاجر طالب علموں کو بھی دوسرے قومیتوں کی طرح امتحان کا خوف نہ رہا نتیجہ محنت اور جانفشانی سے علم حاصل کرنے کی خواہش بھی ختم ہو گی۔
ہمیں سندہ کے موجودہ جغرافیہ میں رہتے ہوے تو کبھی کچھ نہیں ملے گا۔ اگر یہ وقت اس حد بندی کو ختم کروانے کیلیے درست نہیں تو کوئی بات نہیں ہمیں اپنے قیادت پر اندھا اعتماد ہے۔ ہمیں یہ بات یاد ہے کہ ہمارے قائد بار بار نقل کو روکنے کی تلقین کرتے رہے مگر ہم پر ریاستی جبر مسلط رکھا گیا جس سے ہمارا پورا میکینزم ہی خراب ہو گیا۔
متحدہ میں موجود ذمہ داروں کو ہہ بات اپنے عزم کا حصہ بنا لینا چاہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جاے ہم نظام تعلیم کو درست کر کے رہیں گے اور نذیر حسین اسکول اور یونیورسٹی جیسے اداروں کو بڑھائیں گئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s