Muharjirs need to change their approach for their survival in Sindh مہاجر قوم کی بقا انکی سوچ اور رویے میں تبدیلی ہی سے ممکن ہے

مہاجر قوم کے لیے لازمی ہے کے وہ جتنی جلدی اس بات کوسمجھ لیں بہتر ھے کہ وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں جو بدلتے ہوے حالات کے ساتھ اپنی سوچ اور رویے کو تبدیل نہیں کرتیں۔

بدلتے ہوے حالات اور پاکستان کی روز بروز دگرگوں ہوتی ہوی معاشی صورت حال میں صرف مہاجر قوم اپنے آپ کو موقعے کی مناسبت سے تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مہاجروں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ سندھ میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور آنے والے عشروں میں ان کی آئیندہ نسلوں کے لیے ملازمت، تعلیم، صحت مند معاشرے کے مواقے قلیل سے قلیل تر  ہوتے جارہے ہیں۔

اس پر قوم کا المیہ یہ ہے کہ اس پر آج بھی یہ بھوت سوار ہے کہ اس کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جس نے اپنی اعلی تعلیم، تہذیب، جرت و استقامت سے برصغیر میں ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ پھر مسلمانوں کو ایک علیہدہ ملک بنانے میں لاکھوں جانوں کی قربانی دی۔ جن لوگوں کو آذاد مملکت کا تحفہ دیا انھوں نے ان کی نسل کشی کیلیے ریاستی آپریشن کیا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ کسی نہ کسی صورت میں آج بھی جو قتل ہو رہے ہیں چاہے وہ شیہ کا ہو یہ سنی کا، سیاست کے نام پر ہو یا ٹارگٹ کلنگ کے نام پر ہو، مارے صرف مہاجر ہی جارہے ہیں۔ کیا سپاہ محمد ہو یا صحابہ، مار کوی رہا ہو مر مہاجر رہے ہیں۔

 مہاجروں کو ریاستی جبر سے کچل دینے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ہماری صفوں میں ایسے جرآؐم پیشہ لوگ داخل کر دیے گیے جو ہماری نسل کشی کر رہے ہیں اور انگلیاں ہم ایک دوسروں پر ہی اٹھا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہمیں اس قدر الجھا دیا ہے کہ ہمیں اپنے درمیان بڑھتی ہوی بیروزگاری، تعلیم کا روز گرتا ہوا میعار، اور جراؑم کا اضافہ، جس سی ہماری نسل کشی ہی رہی یے دیکھ ہی نہیں دہے ہیں۔

اس پر ہماری شاہانہ سوچ اس معاملے کو مذید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ریاستی جبر جو کے 1992 سے کم و بیش 2000 تک جاری رہا تو اس دوران ہمارے بڑے پیمانے پر نوجوان تعلیم سی محروم رہ گے۔ ہم نے وقت کے ساتھ اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی۔ ہم نے نجی کمپنیوں میں چھوٹی ملازمتوں کو کرنے کو کسر شان جانا۔ ھم چوکیدار نہیں بننا چاہتے، نتیجہ لکھوں نوکریاں ہاتھ سے نکل گیں۔ ہم چاے کے ہوٹل نہیں کھولیں گے، ٹھیلے نہیں لگایں گے، کلرک نہیں بنیں گے، میل نرس نہیں بنیں گے، اسکول ٹیچر نہیں بنیں گے۔ اور اگر کوی ہمت کر کے ایسا کر لے تو حقارت سے دیکھیں گے۔

اگر ہم اپنی نسلوں کی بقاء چاہتے ہیں تو ہمیں متحدہ قومی مومنٹ کی کوششوں پر ان کا ساتھ دینا ہو گا۔ الطاف حسین کی قیادت پر اندھا اعتماد کرنا ہوگا۔ اپنی صفوں میں دشمنوں کی پھیلای ہوئ باتوں سے انتشار پھیلنے سے روکنا ہوگا۔ اپنے درمیان حلال رزق کمانے والوں کو عزت دینی ہوگی چاھے ان کا ذریعہ روزگار کچھ بھی ہو۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s